کھلاڑی وزیراعظم، یوم پاکستان اور یوم آزادی


دائیں ہاتھ سے باولنگ اور دائیں ہاتھ ہی سے بیٹنگ کرنے والے کرکٹ آل راونڈر عمران خان نے اپنے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز 3 جون 1971 کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے کیا۔ انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2 جنوری 1992 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا۔ عمران خان نے اپنے 21 سالہ ٹیسٹ کیرئر میں 88 میچز کھیل کر، 22.81 کی اوسط سے 362 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 37.69 کی اوسط سے 3 ہزار 807 رنز بنائے۔ انہوں نے 6 سنچریاں، 18 نصف سنچریاں بنائیں جبکہ ٹیسٹ اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور 136 رنز رہا۔ عمران خان نے ٹیسٹ میچز میں 28 کیچز بھی پکڑے۔ ان کی بہترین باولنگ 58 رنز کے عوض 8 وکٹیں تھی۔

عمران خان نے اپنے ون ڈے کیرئر کا آغاز 31 اگست 1974 کو انگلینڈ کے خلاف میچ سے ہی کیا۔ انہوں نے اپنا آخری ون ڈے میچ 25 مارچ 1992 کو انگلینڈ کے خلاف ہی کھیلا۔ یہ کرکٹ کے عالمی کپ 1992 کا فائنل تھا جس میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دیکر پہلی اور اب تک کے آخری بار کرکٹ ورلڈ کپ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ عمران خان نے اپنے 18 سالہ ون ڈے کیرئر میں 175 میچز کھیل کر 26.61 کی اوسط سے 182 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 33.41 کی اوسط سے 3 ہزار 709 رنز بنائے۔ انہوں نے 1 سنچری اور 19 نصف سنچریاں بنائیں جبکہ ون ڈے میچ میں ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور 102 ناٹ آوٹ رہا۔ عمران خان نے ون ڈے میچز میں 36 کیچز بھی پکڑے۔ ان کی بہترین باولنگ 14 رنز کے عوض 6 وکٹیں تھی۔

سابق کرکٹر، موجودہ سیاست دان اور نامزد وزیراعظم عمران خان نے 22 برس قبل، 25 اپریل 1996 کو اپنی سیاسی جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی اور 1997 کے عام انتخابات سے اپنے سیاسی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 1992 میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ اور 1996 میں سیاست کے آغاز کے درمیانی 4 سالہ عرصے میں عمران خان نے پاکستان میں کینسر کے علاج کے لئے، اپنی مرحومہ والدہ کی یاد میں شوکت خانم کینسر اسپتال کی کامیاب بنیاد رکھی جہاں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے، اپنی سیاسی کیرئر کے پہلے، 1997 کے عام انتخابات میں کراچی اور لاہور کے دو دو جبکہ ایبٹ آباد، ڈیرہ اسمعیل خان، سوات، اسلام آباد اور میانوالی سے قومی اسمبلی کے ایک ایک انتخابی حلقے سمیت، کل 9 حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا۔ عمران خان کو اپنی سیاسی کیرئر کے پہلے عام انتخابات میں، قومی اسمبلی کے تمام 9 حلقوں سے شکست ہوئی۔

1997 کے عام انتخابات میں عمران خان نے میانوالی سے 17 ہزار 859 ووٹ، سوات سے 10 ہزار 716 ووٹ، ڈیرہ اسمعیل خان سے 6 ہزار 1 ووٹ، اسلام آباد سے 5 ہزار 868 ووٹ، ایبٹ آباد سے 5 ہزار 227 ووٹ، لاہور کے دونوں حلقوں سے بالترتیب 4 ہزار 595 اور 5 ہزار 365 ووٹ جبکہ کراچی کے دونوں حلقوں سے بالترتیب 2 ہزار 37 اور صرف 911 ووٹ حاصل کیے۔

عمران خان نے 2002 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے 4 حلقوں کرک، سوات، میانوالی اور لاہور سے انتخابات میں حصہ لیا۔ انہوں نے میانوالی کے حلقہ این اے 71 سے 66 ہزار 737 ووٹ لے کر اپنی پہلی سیاسی کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدِ مقابل، مسلم لیگ ق کے عبید اللہ خان شادی خیل نے 60 ہزار 533 ووٹ حاصل کیے۔

2002 کے عام انتخابات میں، عمران خان کرک سے 9 ہزار 972 ووٹ، سوات سے 6 ہزار 60 ووٹ جبکہ لاہور سے 18 ہزار 638 ووٹ لے کر ناکام رہے۔ لاہور سے سردار ایاز صادق نے 37 ہزار 537 ووٹ لے کر عمران خان کو شکست دی۔

عمران خان کی تحریکِ انصاف نے 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ 30 اکتوبر 2011 کو لاہور میں ہونے والے کامیاب سیاسی جلسے نے عمران خان اور تحریکِ انصاف کی سیاسی اٹھان میں اضافہ کیا۔

2013 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے پشاور، راولپنڈی، میانوالی اور لاہور سے قومی اسمبلی کے 4 حلقوں سے حصہ لیا۔ انہوں نے پشاور کے حلقہ این اے 1 میں 90 ہزار 500 ووٹ لے کر نشست جیتی جبکہ ان کے مد مقابل اے، عوامی نیشنل پارٹی کے غلام بلور 24 ہزار 468 ووٹ حاصل کرسکے۔

عمران خان نے راولپنڈی کے حلقہ این اے 56 میں 13 ہزار کے مارجن سے نواز لیگ کے حنیف عباسی کو پچھاڑا جبکہ میانوالی کے حلقہ این اے 71 میں نواز لیگ کے عبید اللہ شادی خیل کو 60 ہزار کے بھاری مارجن سے شکست دی۔ لاہور کے حلقہ این اے 20 سے عمران خان کو مسلم لیگ نواز کے سردار ایاز صادق کی ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پرا۔ ایاز صادق نے 93 ہزار 389 جبکہ مقابلے میں عمران خان نے 84 ہزار 517 ووٹ حاصل کیے۔

2018 کے حالیہ عام انتخابات میں وزارت عظمی کے امیدوار عمران خان نے قومی اسمبلی کے 5 حلقوں این اے 35 بنوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 95 میانوالی،، این اے 131 لاہور اور این اے 243 کراچی سے میدان میں اترے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے پانچوں انتخابی حلقوں میں اپنے سیاسی حریفوں کو شکست دی۔

عمران خان کے مدمقابل امیدواروں میں بنوں سے سابق وزیراعلی کے پی کے، جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم درانی، اسلام آباد سے سابق وزیراعظم، مسلم لیگ نواز کے رہنما شاہد خاقان عباسی، میانوالی سے مسلم لیگ نواز کے عبید اللہ شادی خیل، لاہور سے سابق وزیر ریلوے، مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ سعد رفیق جبکہ کراچی سے ایم کیو ایم کے رہنماعلی رضا عابدی اور سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا، عمران خان کے خلاف میدان میں تھیں۔

این اے 35 بنوں کے انتخابی معرکے میں نامزد وزیراعظم عمران خان نے اپنے مخالف امیدوار، جمیعت علمائے اسلام کے اکرم درانی کو 7 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ عمران خان نے 1 لاکھ 13 ہزار 822 جبکہ اکرم درانی نے 1 لاکھ 6 ہزار 820 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 53 اسلام آباد کے انتخابی معرکے میں نامزد وزیراعظم عمران خان نے اپنے مخالف امیدوار، مسلم لیگ نواز کے شاہد خاقان عباسی کو 48 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ عمران خان نے 92 ہزار 891 جبکہ شاہد خاقان عباسی نے 44 ہزار 314 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 95 میانوالی کے انتخابی معرکے میں نامزد وزیراعظم عمران خان نے اپنے مخالف امیدوار، مسلم لیگ نواز کے عبیداللہ شادی خیل کو 1 لاکھ 13 ہزار کے بڑے مارجن سے شکست دی۔ عمران خان نے 1 لاکھ 63 ہزار 538 جبکہ عبیداللہ شادی خیل نے 50 ہزار 15 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 131 لاہور کے انتخابی معرکے میں نامزد وزیراعظم عمران خان نے اپنے مخالف امیدوار، مسلم لیگ نواز کے خواجہ سعد رفیق کو سخت مقابلے کے بعد صرف 680 ووٹوں سے شکست دی۔ عمران خان نے 84 ہزار 313 جبکہ خواجہ سعد رفیق نے 83 ہزار 633 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 243 کراچی کے انتخابی معرکے میں نامزد وزیراعظم عمران خان نے اپنے مخالف امیدوار، متحدہ قومی موومنٹ کے علی رضا عابدی کو 67 ہزار کے بڑے مارجن سے شکست دی۔ عمران خان نے 91 ہزار 358 جبکہ علی رضا عابدی نے 24 ہزار 82 ووٹ حاصل کئے۔

نامزد وزیراعظم عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 1997 کے عام انتخابات میں، قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے ایک نشست بھی نہیں، 2002 کے عام انتخابات میں صرف 1 نشست، 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ، 2013 کے انتخابات میں 29 نشستیں جبکہ 2018 کے عام انتخابات میں، قومی اسمبلی کی 272 نشستوں میں سے 116 نشستیں حاصل کیں۔

کہتے ہیں اتفاق میں برکت ہے اور یہ کتنا دلچسب اتفاق ہے کہ کھلاڑی عمران خان کو اپنے کرکٹ کیرئر کے 21 برس بعد پاکستان کو عالمی کرکٹ کپ کا چیمپئن بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی تو نامزد وزیراعظم عمران خان کو اپنے سیاسی کیرئر کے 22 برس بعد ملکی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کو پارلیمنٹ کی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بنانے میں کامیابی ملی۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یوم پاکستان کے مہینے مارچ میں، یوم پاکستان کے صرف دو دن بعد، ہاتھوں میں ورلڈ کپ اٹھانے والے کھلاڑی کو، یوم آزادی کے مہینے اگست میں، یوم آزادی سے پہلے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کا موقع ملتا ہے یا یوم آزادی کے بعد۔۔۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں