دستِ صیاد


کل کی بات ہے۔ گلی میں پھیری والا آلو مٹر گاجر لے لو کی صدائیں لگا رہا تھا۔ بچے سکولوں سے واپس آ ریے تھے۔ محلے کی دکانوں کے شٹر اور ان کے سول پروپرائیٹروں کم سیلز مینوں زیادہ کی آنکھیں نیم وا تھیں۔ ایسے میں ایک مجہول شخص یکدم فلیٹ میں گھس آیا! کدھر ہے وہ! کہاں ہے وہ! نکالو اسے باہر! ہمارے حوالے کرو!مختصر یہ کہ ’مبینہ طور پر‘، ایک اور گروہ کی جانب سے ایک اور شخص نے میرے دوستوں کے فلیٹ پر آ کر مجھے اور انہیں بلاس فیمی کا (ظاہر ہے کہ جھوٹا) پرچہ کروانے کا ڈراوا دیا۔ فلیٹ پر دند مچایا اور توڑ پھوڑ کی کوشش کی۔ جان سے مارنے، ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں اس پر مستزاد ہیں۔

تھوڑی بہت تفتیش سے ایسے حقائق سامنے آنے لگے جنہیں اخبارِ جہاں ایسے کسی بھی رسالے میں دلچسپ اور عجیب کے بینر تلے جگہ مل سکتی ہے۔ یہ نعرے لگانے والا جو خود ایک کرسچین لڑکی سے شادی کا ڈراما رچا کے امریکا یورپ کے کسی سفارت خانے کو مقامی عملے کی مدد سے احمق بنا کے اس جنتِ ارضی سے جتنی جلدی ممکن ہو، ’باہر‘ نکلنے کے چکروں میں ہے جس جنت میں اسے مبینہ طور پر ’بلاسفیمی‘ کرنے والوں کا وجود گوارا نہیں۔

چاہے یہ اظہار خیال دہشت گردی کے خلاف جاری و آدھی و پونی و ساری جنگ کے بارے میں ہو یا اس سے شدید متاثر ہونے والے پشتونوں کی گراس روٹ تحریک کے حق میں، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ نہ اس سے کہ آپ کسی خاص قومیت یا اقلیت کا درد اپنے جگر یا سر میں پال بیٹھے ہیں۔ آپ کراچی کے گوٹھوں سے لینڈ مافیا کا گند صاف کرانے میں دلچسپی لے رہے ہیں یا کوئٹہ کے شہریوں کی جبری گمشدگیوں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہیں یا اوکاڑوی پینڈوؤں کے کھیت ٹینکوں تلے سے وا گزار کرانا چاہ رہے ہیں، تو آپ کو رک کر آئینے میں اپنی شکل دیکھنی چاہیے! یہ منہ اور مشال کی دال!ریاستی فاشزم کی کسی شکل میں مخالفت آپ کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ یہ تو خیر پڑھی لکھی بات یے، کوئی بھی جاہل سمجھ سکتا ہے۔ یقین نہیں آتا، پار سال اٹھائے جانے والے بلاگروں سے پوچھ لیں۔ مشال خان کی ٹوٹی ہوئی انگلیوں سے لے کر عاصمہ جہانگیر کے جنازے تک، کوئی بھی ایشو ہو، آپ کچھ کہیں تو سہی، کچھ لکھیں تو سہی! چار سو بیس طرح کے فاشسٹ ادبی سیاسی گروہوں اور تنظیموں کے آلہ کار آپ کی کردار کشی کرنے، فتوے لگانے، غرض ہر خدمت کے لیے تیار ہیں۔

عشرہ موومنٹ کے نتیجے میں عمومی معاشرے تو ابھی آئیندہ کی بات ہے، نئی نسل کے لکھنے والوں میں جو سیاسی شعور اور سماج سے جڑت کی لہر پیدا ہو رہی ہے وہ کس حد تک ناقابل برداشت ہے، ادب کے ٹھیکیداروں کے لیے اس کا اندازہ ان چکرا دینے والے حالات سے لگایا جا سکتا ہے جن کا بطور ایک فرد اور خوش قسمتی سے لکھاری، مجھے سامنا کرنا پڑا ہے۔ چند ماہ پہلے فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے مشال بنا دیے جانے کی دھمکیوں کے بعد شروع ہونے والا ہرزہ سرائی اور کردار کشی کا سلسلہ دراز ہوا۔ ابھی یہ طوفان بد تمیزی ٹھیک سے تھما نہ تھا کہ رمضان میں دوستوں کے فلیٹ پر سے میری تازہ ترین نظموں کا مسودہ چرالیا گیا جس کا ’درست‘ ہاتھوں میں پڑ جانا بہت غلط ثابت ہو سکتا تھا اور ہے۔ غرض یار لوگ اپنے کام میں لگے رہے ہم اپنے کام میں۔

فیض گھر لاہور میں ہونے والے کامیاب عشرہ ایونٹ میں نئے لکھنے والے، سوچنے والے ذہنوں نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ہی ’ساڑ نکلنا‘ شروع ہو گیا۔ سنسنی خیز کمرشل سائٹ سے بن بلائے مہمان اور سائٹ کے خود ساختہ مدیر نے فیس بک پر ایک کے بعد دوسرے اکاؤنٹ سے کردار کشی کی اتنی زہریلی مہمات چلائیں کہ بچھو بھی الامان پکار اٹھیں۔ آخر کو، اور تو اور ہم بھی کہ جن کو گالیاں دی جا رہی تھیں بے مزا ہو گئے۔ سرسری پوچھ تاچھ کی گئی تو ان سپوت کا تعلقِ ظاہر داری بھی معمولی ترمیم کے ساتھ دوسروں کی تحریریں اپنے نام سے ’چلانے‘ والے بدنام سرقہ باز گروہ سے نکلا۔ ویسے موصوف جعلی سٹوڈنٹ بن کر چینلوں کے بیت بازی پروگراموں میں شو مارتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے، نہ ہی ہم گمناموں کے اشعار کوٹ فرما کے داد سمیٹتے ہوئے۔ خیر، خدا ہماری نہیں تو اظہار الحق صاحب ہی کی اظہاری سن لے اور ان عین باسی مدیر کی خاکِ لحد کو حشر تک شاداب رکھے!

یہاں بار بار خود کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ ہے میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا، درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا۔ پھر بھی ہر بار خجل خوار کیے اور جانے ذہنی تشدد کا شکار کیے جانے پر لکھنے والا سوچتا تو ہے کہ یہ نئے عذاب کس خواب کے کھاتے میں ڈالے؟ سماج کے ٹھیکے داروں کی پلانٹڈ سازشوں کا کیا جواب دے، مذہبی غنڈہ گردیوں کو کدھر رکھے؟ آخر اسے اپنا کام کیوں نہیں کرنے دیا جا رہا؟ اسے اور اس کا ساتھ دینے والے دوستوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ کیوں ختم نہیں ہوتا؟ ذمے دار کب تک معاشرے میں رائج سیاسی غنڈہ گردی، مذہبی منافقت اور معاشرتی فاشزم کی آڑ میں کامیابی سے وار کرتے اور صاف بچ جاتے رہیں گے؟ ان مضحک المیوں سے نکلنے کا میرے پاس، کہ تھوڑا بہت لکھنے کے سوا جسے کوئی کام بھی نہیں آتا، اور کوئی طریقہ نہ تھا کہ لکھوں۔ اور لکھوں۔ اپنے حرف ہنر پہ ڈاکے سے ہونے والے ذاتی زیاں کے گلا دبانے والے احساس کو اجتماعی آشوب کے دلخراش ربر سے مٹانے گھٹانے کی کوشش کروں۔ دستِ صیاد بھی عاجز ہے، کفِ گلچیں بھیبوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ادریس بابر کی دیگر تحریریں
ادریس بابر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں