اگر عمران خان بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چل نہ سکا تو ؟


پاکستان کی سیاست اور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ پاکستان میں اس کی آشیرباد کے بغیر کسی کا اقتدار میں آنا بہت مشکل امر سمجھا جاتا ہے۔ اور اقتدار میں آکر بھی اسے آئینی طور پر بالا دست ہونے کے۔ باوجود پورا اختیار نہیں دیا جاتا۔ اور جب کوئی منتخب وزیر اعظم اپنا اختیار جتانے پر زیادہ اترتا ہے تو اس کے لیے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔

اگر کوئی سول حکمران ہر صورت ڈٹ جانے پر مصر ہو تو کسی خیلے بہانے اور طریقے سے قبل از میعاد رخصت کر دیا جاتا ہے۔ 1988 سے 2017 تک تمام منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اسی کاٹ کے تلخ تجربات نے نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو اس اہم نتیجہ پر پہنچایا کہ اس کا تدارک کرنے کا ضروری ہے اور اسی مقصد کے لیے 2005 میں مثیاق جمہوریت طے کیا۔ اگرچہ اس پر دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) پوری طرح عمل پیرا نہ ہوئیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کی طرح کھل کر ایک دوسرے کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں آلہ کار بننے سی بھی احتراز کیا۔

آج اسٹیبلشمنٹ کی ہمدردی اور حمایت کا مرکز عمران خان کو سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب جب وہ اقتدار میں آئے گا۔ تو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر عمران خان ”یس مین“ نہ بنا اور کسی مرحلے پر کسی بالیسی یا اختیار کے معاملے پر مقتدر قوتوں( اسٹیبلشمنٹ ) کے ساتھ اختلاف اور تناؤ اس حد بڑھا کہ اس کو بھی خدا نخواستہ حسب روایت اقتدار سے قبل از وقت کسی بہانے نکال دینا پڑا۔ تو دیگر مضمرات کے علاوہ ایسا اقدام عمران کی سیاست میں ایک اہم موڑ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ ادھورے اختیار کے اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ کی بالا دستی اور کاٹ کے تلخ عملی تجربے سے کافی کچھ سیکھ چکا ہو گا۔ اور ایسے میں ممکن ہے کہ پھر وہ بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ طرز فکر کی اہمیت اور افادیت کا قائل ہو جائے۔

اگر ایسا ہو جائے تو پھر یہ بھی ہو سکتا ہے (بشرطیکہ عمران خان کسی وجہ سےعملی سیاست سے الگ یا دستبردار نہ ہو جائے) کہ وہ اس طرز فکر کے تحت ملک کی دوسری جمہوری قوتوں کے ساتھ اپنی تمام تر سیاسی اختلافات اور تلخیاں بھلا کر سول بالا دستی کے قیام کے لیے اس طرح ہم آواز ہو جائے۔ جس طرح 2007 میں پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کے لیے یکہ کر لیا تھا۔

اس لیے یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ عمران خان ایک نئے مثیاق جمہوریت، جس کی تجویز بلاول بھٹو نے دی ہے، پر اتفاق کر کے اس کا پر زور حمایتی اور علمبردار بن جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر ماضی کی نسبت اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاسی قوتوں کی تعداد اور طاقت میں موثر اضافہ ہو جائے گا یوں ملکی اقتدار میں سول بالا دستی اور حقیقی جمہوریت کے قیام اور استحکام کی جدوجہد کی کامیابی کے امکانات کو تقویت ملے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

انور جلال کی دیگر تحریریں
انور جلال کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں