فیصلہ آیا ہے کہ یہ تو سیاسی بیان تھا


آج سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل سنی گئی اور حسب توقع فیصلہ ان کے حق میں آیا۔ عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی کہ لاہور کے حلقہ 131 یعنی سعد رفیق بمقابلہ عمران خان میں دوبارہ گنتی روکی جائے۔ اس حلقے میں عمران خان کو خواجہ سعد رفیق پر 680 ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے مسترد شدہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست ریٹرننگ آفیسر کو دی۔ دوبارہ گنتی کے بعد یہ برتری کم ہو کر 608 رہ گئی۔ جس پر خواجہ سعد رفیق نے مکمل ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی جسے آر او نے مسترد کر دیا تھا۔

خواجہ صاحب لاہور ہائی کورٹ چلے گئے۔ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر این اے 131 میں دوبارہ گنتی کا حکم دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روکنے کی ہدایت کی تھی۔ اس پر عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی کہ گنتی روکو۔

سپریم کورٹ میں خواجہ سعد رفیق کے وکیل نے دلیل دی کہ فتح کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ہی عمران خان نے کہا تھا کہ ”جہاں جہاں کسی کو لگتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے آ کر ہمیں بتائیں ہم آپ کے ساتھ تعاون کریں گے اور حلقے کھول دیں گے“۔ اس پر عمران خان کے وکیل ”ڈاکٹر“ بابر اعوان نے کہا کہ خان صاحب نے حلقہ کھولنے کا کہا تھا، دوبارہ گنتی کا نہیں۔

دونوں وکلا کے بیانات سننے کے بعد نہایت ہی عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سیاسی لوگوں کی سیاسی تقریریں ہوتی ہیں، ہم سیاسی تقریروں کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ اور فیصلہ سنایا کہ دوبارہ گنتی نہیں ہو گی۔

ہر ذی شعور شخص چیف جسٹس سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو گا کہ سیاسی بیانات کا عدالتیں جائزہ نہیں لے سکتیں۔ بھلا کبھی کسی سیاست دان کی تقریر یا ٹی وی انٹرویو کی بنیاد پر بھی کوئی سزا سنائی جا سکتی ہے؟ تقریروں پر سزا کا فیصلہ ہونے لگے تو کوئی سیاست دان بھی صادق اور امین قرار نہیں پائے گا۔ یہ کوئی چیف جسٹس افتخار چوہدری کا زمانہ تو نہیں ہے جو نیوز ٹکرز اور ٹاک شوز کو دیکھ کر ازخود نوٹس لے کر عتیقہ اوڈھو کو بلا لیا جائے یا بابر اعوان کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ”نوٹس ملیا کھکھ نہ ہلیا، کیوں سوہنیاں دا گلہ کراں، میں لکھ واری بسم اللہ کراں“ کہنے پر ان کا وکالت کا لائسنس کئی برس کے لئے معطل کر دیا تھا۔

پانامہ کیس کے دوران عمران خان کا بیان

حق بات یہی ہے کہ روایتی سیاست دان تو ازل کے جھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کے سیاسی بیانات پر سزا کیسے سنائی جا سکتی ہے۔ لیکن ہمیں تشویش اس بات پر ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے چند سیاست دان یہ کہنے لگیں گے کہ سپریم کورٹ نے یہ قرار دے دیا ہے کہ عمران خان کی وکٹری سپیچ نرا جھوٹ تھی اور عمران خان کی بالکل بھی یہ نیت نہیں ہے کہ وہ سب کچھ کیا جائے جس کا انہوں نے فتح کے بعد اپنی تقریر میں وعدہ کیا گیا تھا۔

کتنی اچھی اچھی باتیں کی تھیں عمران خان نے اس تقریر میں۔ انہوں نے کہا تھا کہ
”اگر کسی کو دھاندلی کی شکایت ہے تو ہم تعاون کریں گے اور وہ حلقے کھلوائیں گے، ہماری حکومت میں احتساب مجھ سے شروع ہوگا اس کے بعد میرے وزرا کا احتساب ہوگا، قانون کی بالادستی قائم کریں گے، کسی کوسیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے، ساری پالیسیاں کمزور طبقے اور غریب کسانوں کے لئے بنائیں گے، ثابت کرکے دکھاؤں گا ہم گورننس بہتر کرسکتے ہیں، سادگی قائم، خرچہ کم کریں گے اور پیسہ عوام کی ترقی اور فلاح پر خرچ ہوگا، ٹیکس کلچر ٹھیک، اینٹی کرپشن، ایف بی آر اور نیب کو مضبوط کریں گے، پیداوار بڑھانے کے لئے کسانوں کی مدد کریں گے، سارا پیسہ انسانی ترقی پر خرچ کریں گے، عوام سے وعدہ کرتا ہوں ان کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا، پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں، چین اور ایران سے تعلقات مزید بہتر کریں گے، افغانستان سے ایسے تعلقات چاہتا ہوں کہ سرحدیں کھلی ہوں، امریکا سے متوازن تعلقات چاہتے ہیں“۔

اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔ اب ہمیں پتہ نہیں کہ یہ سارا کا سارا سیاسی بیان ہی ہے یا کوئی سچ بھی بولا گیا تھا۔ ویسے ہمیں معاملے کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔ عمران خان میانوالی، لاہور، بنوں، کراچی اور اسلام آباد سے جیتے ہیں۔ بنی گالہ میں تحریک انصاف کی اعلی قیادت کے اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ عمران خان میانوالی کی سیٹ رکھیں گے اور لاہور، بنوں، کراچی اور اسلام آباد کی سیٹ چھوڑ دیں گے۔ اب لاہور کی سیٹ چھوڑنی ہی ہے تو پھر سپریم کورٹ سے یہ کہلوانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے کہ عمران خان کا بیان سیاسی تھا، یعنی دوسرے لفظوں میں کوئی پتہ نہیں کہ عمران خان نے سچ بولا تھا یا جھوٹ، انہیں سیریس نہ لیا جائے۔ بھلا کوئی وزیراعظم اپنی کریڈیبلٹی کو یوں بھی تباہ کیا کرتا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 959 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar