جائیداد کی خرید و فروخت – مشتری ہوشیار باش


بیعنامہ اور اقرار نامہ دو مختلف باتیں ہیں اور ان کو ایک جیسی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ شاطر لوگ معصوم افراد کو دھوکہ دیتے ہیں اور اکثر اوقات صرف اقرار نامہ معاہدہ بیع کرکے مکمل رقم لے اڑتے ہیں اور خریدار کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ پراپرٹی تو اس کے نام ٹرانسفر ہی نہیں ہے اور جب وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ فروخت کنندہ کے کوائف ہی غلط ہیں یا پھر وہ تو پہلے اور بعد میں بھی کئی افراد کو وہی زمین یا چیز بیچ چکا ہے۔ اب ہاتھ ملنے یا افسوس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا یا پھر پشتوں تک پھیلی ہوئی قانونی کارروائی مقدّر بن جاتی ہے۔ سو بہتر ہے کہ آج کچھ باتیں پلے باندھ لیں۔ اقرار نامہ سادے کاغذ پر ہرگز نا کریں کم از کم 1200۔ 1300 روپے کا سٹیمپ پیپر ہونا ضروری ہے۔ کم از کم دو گواہ اور ان کے دستخط اور شناختی کارڈز کے نمبرز۔

اقرار نامہ کا رجسٹر ہونا ضروری نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سے نہ تو کوئی حق حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی حق ٹرانسفر ہوتا ہے۔ یاد رکھیں کبھی بھی پوری رقم یا زمین یا شے دوسرے شخص کو نا دیں جب تلک رجسٹرڈ دستاویز نہ بن جائے۔ آپ کی خریدو فروخت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ دونون فریق بیعنامہ پر دستخط نا کر دیں وہ بھی گواہوں کی موجودگی میں مکمل کوائف درج کر کے۔ اور یاد رکھیں بیعنامہ کے لئے پراپرٹی کے ڈی سی ریٹ کا 5 فیصد کے سٹیمپ پیپرز ہونے ضروری ہیں۔ سو ہمیشہ دستاویز کے عنوان پر نظر رکھیں اور گواہان کی موجودگی میں ہی دستخط کریں۔

اقرار نامہ کی صورت میں دونوں فریقین کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرتے ہوے تعمیل مختص کا دعوی دائر کریں اور جو بھی فریق اپنے حصّے کا کام نہیں کرتا اس سے عدالت کے ذریعے کرواے اس کے ساتھ تمام اخراجات اور کسی قسم کے نقصان کا ازالہ بھی ڈامیجیز کی صورت میں نکلوایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی فریق اقرار نامہ پر عمل نہیں کرنا چاہتا تو وہ تمام فائدے جو اس نے اب تک اٹھاے تھے واپس کرنے کا پابند ہے۔ بیعنامہ کی صورت میں استقرار حق کا دعوی کیا جائے گا کیوں کہ چیز بیچنے والے نے تمام حقوق اس پراپرٹی سے متعلق اگے ٹرانسفر کر دیے ہیں لہٰذا اب خریدار کو باقی ساری دنیا پر فوقیت حاصل ہو گئی ہے۔ اسے میں کوئی شخص جو چیلنج کرنا چاھے تو وہ اس بیعنامہ کی تنسیخ کا دعوی دائر کرے گا۔ یعنی اگر فروخت کنندہ الزام لگاے کہ میں نے تو یہ فروخت ہی نہیں کی تو وہ اس دستاویز کی منسوخی کا دعوی کرے گا۔ دونوں طرح کے دستاویزات کی صورت میں کورٹ فیس بھی لگے گی اور وقت کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

عدالتیں انصاف کی فراہمی کے لئے بنائی گئی ہیں لہٰذا غیر ضروری اور طویل المعیاد کیسز سے بچنے کے لئے قانون میں وقت مقرر کر دیا گیا ہے کے اقرار نامہ کی صورت میں 3 سال میں تعمیل مختص کا دعوی اور بیعنامہ کی منسوخی کی صورت میں 6سال کے اندر کیس کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ قانونی ڈھیل بھی میسر ہیں مگر ہر کیس پر اس کا اطلاق مختلف ہے۔ زمین و مکان ودکان کی فروخت اور گاڑی اور موٹر سائیکل وغیرہ کی فروخت میں اور دستاویزات میں فرق ہے اور سواری وغیرہ کی ٹرانسفر فیس الگ محکمہ میں ادا کی جاتی ہے اور وہیں پر رجسٹریشن ہوتی ہے۔ تاہم کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اقرار نامہ دراصل وہ دستاویز ہے جس میں فریقین کسی منقولہ یا غیر منقولہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کے بارے میں تفصیلات طے کرتے ہیں کہ کب کیسے کہاں کون اور کیا بیچا اور خریدا جائے گا اور رقم کی ادائیگی اور شے کی منتقلی کیسے کی جائے گی۔ جبکہ بیعنامہ اس عمل کے مکمل ہونے کی دستاویز ہے۔ اور ثبوت بھی۔ لہٰذا اقرار نامہ شروعات ہے اور بیعنامہ اختتام۔ اقرار نامہ رستہ ہے اور بیعنامہ منزل۔ تو ذہن نشین کر لیں کہ جب تلک بیعنامہ نہ ہو جائے اور وہ بھی سٹیمپ پیپرز پر اور رجسٹرار کے پاس رجسٹرڈ نہ ہو تو کوئی خرید و فروخت مکمل نہیں ہو گی۔ یہ ملکی قوانین ہیں اور ان کے بارے فرض کیا جاتا ہے کہ ہر شہری کو اس کا علم ہے۔ اور وہ جو کام کر رہا ہے اس کے متعلق مکمل ادراک رکھتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عروج بشیر کی دیگر تحریریں
عروج بشیر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں