میں اب بھی کمیونسٹ ہوں


shadab murtazaبرنارڈشا نے کہا تھا کہ جب تک سچ جوتے پہنتا ہے جھوٹ آدھی دنیا کا چکر لگا چکا ہوتا ہے. ذرائع ابلاغ اور علم کی اجارہ داری پر سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں بیچارے سچ کی کیا اوقات. اب تو سچائی اتنی لاغر دکھتی ہے کہ جوتے بھی بمشکل پہن سکے. اب تو چھ یا آٹھ سو لفظوں کے ایک کالم سے سائنس کو رد کردینا یا کسی موضوع پر حتمی فیصلہ صادر کردینا معمول کی بات دکھائی دیتی ہے. خاکسار اس روایت کا متحمل ہونے سے قاصر ہے لہذا نکتہ بہ نکتہ اپنی بات رکھتا جاتا ہے حالانکہ جس فکر سے اس کی وابستگی ہے اس کا “جنازہ” دو فقروں میں نکال دیا جاتا ہے.  اسے یہ بات سمجھنے میں بھی سخت دشواری کا سامنا ہے کہ سائنس بدلتے وقت و حالات کی مناسبت سے تبدیلی کے عمل سے گزرنا والا علم ہے لیکن اس علم کے اطلاق میں اور اس کے نتیجے میں خود اس علم میں واقع ہونے والی تبدیلیاں کیوں غیر سائنسی ہیں؟ اشتراکی ریاستوں میں مارکسزم کے من و عن اطلاق نہ ہونے پر اعتراض اور اطلاقی تبدیلیوں کو مارکسزم سے روگردانی قرار دینا آخر چہ معنی دارد؟

لوون ہارٹ جون اور اوزنگا جیمز کے تحقیقی مطالعے “سوویت پولیٹیکل بیورو کا عروج و زوال” کے مطابق انیس سو تیس کے بعد سے پولیٹیکل بیورو کے اراکین کی اکثریت کا تعلق مزدور اور کسان گھرانوں سے تھا. حکومتی عہدوں اور ریاستی شعبوں کے انتظام کی باگ ڈور بھی مزدور اور کسانوں کے ہاتھوں میں تھی. لہذا یہ اعتراض کہ سوویت یونین کے اقتداری “ٹولے” میں پرولتاریہ نہیں تھے بے بنیاد ہے. اشتراکی ریاست کا لیڈر پرولتاری ہو یہ ضروری بھی نہیں. ضروری یہ ہے کہ لیڈر عوام سے مخلص ہوں. پرولتاریہ کی آمریت کا نظریہ دینے والے مارکس یا اینجلز پرولتاری نہیں تھے اور نہ سینٹ سائمن، چارلس فوریئر یا تھامس مور جیسے اشتراکیت کے حامی پرولتاریہ تھے. یہ بچکانہ دلیل ایسی ہے جیسے یہ کہ پاکستان پر کششِ ثقل کا اثر نہیں ہو سکتا کیونکہ آئن اسٹائن جرمن تھا!

نچلے اور درمیانے کسانوں کا خون چوسنے والے جنہوں نے سوویت حکومت کے خلاف بغاوت کی،  لاکھوں مویشی ہلاک کردیے، ہزاروں ایکڑ فصل جلا دی، سینکڑوں حکومتی اہلکار اورپارٹی ممبران کو قتل کردیا، ریاستی اداروں پر حملے کیے، مشترکہ زراعت کے کھیتوں کو تباہ کیا، حزبِ اختلاف کے وہ لوگ جنہوں نے حکومت کے خلاف لوگوں کو مسلح بغاوتوں پر اکسایا، ریاست کے خلاف جرمن اور جاپانی فوج سے سازباز کی، جید رہنما سرگئی خیروف کی ٹآرگٹ کلنگ کی، لینن اور دیگر رہنماؤں پر گھات لگا کر حملے کیے، میکسم گورکی اور مایاکوفسکی جیسے عظیم ادیب و فنکاروں کو اذیتیں دے کر قتل کیا اور سوویت حکومت کے ہمدرد دانشوروں، ادیبوں اور فنکاروں کو اذیتیں پہنچائیں، جنہوں نے دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کی نازی فوج کے ساتھ مل کر ملک توڑنے کے مسلح اقدامات اور دہشت گردانہ کاروائیاں کیں (یوکرینی تاتار)، جنہوں نے دیگر قومی اکائیوں اور مذہبی اقلیتوں کو روسی قوم پرستی کے جبر تلے دبانا چاہا، ان کے ساتھ ایک حد کے بعد سختی سے پیش آنا اور ان کا احتساب کرنا “جبر” ہے تو پھر طالبان کے حقوق کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دفاع نہ کرنا اور ان کے سدباب کے لیے ریاست کی رٹ کے “جبر” کے خلاف آواز نہ اٹھانا کیا کہلائے گا یہ ہم قاری پر چھوڑ دیتے ہیں. محنت کش عوام کی حکومت اپنے دشمنوں کے خلاف اپنی رٹ کا استعمال کرے تو یہ عمل ہمارے لبرل اور سابقہ مارکسی احباب کے نزدیک “جبر” کہلاتا ہے. سوویت یونین نے تو کھلے عوامی مقدمے چلائے جن میں دنیا بھر سے صحافی اور سفارت کار کارروائی اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور سنتے تھے. امریکہ میں کمیونسٹ مخالف میکارتھی ازم کی مہم میں تو امریکی کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے روزنبرگ جوڑے کو مبہم کاغذی خاکوں کی بنیاد پر سمری ٹرائل کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا.

گوگل پہ جائیں اور سرچ بار میں انگریزی میں لکھیں “سوویت دور کے ریڈیو” اور آپ کے سامنے متعدد ڈیزائن کے ریڈیو آجائیں گے. یہی کچھ کار اور دیگر چیزوں کے بارے میں کیجیے. آپ کو پتہ چلے گا کہ سوویت یونین میں “ایک جیسے ریڈیو، کاروں” وغیرہ کا دعوی کس قدر سطحی اور گمراہ کن ہے. سوویت یونین کے بارے میں ایسے گمراہ کن قصے پھیلانا پرانی روایت ہے جس کے پسِ پشت مقاصد سمجھنے کے لیے پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت نہیں. یہی کچھ اس بات پرصادق آتا ہے کہ روس کے نہایت سفاک، سنگدل اور جابر بادشاہ نکولس جسے روس کے لوگ “خونی نکولس” پکارتے تھے، اس کو خاندان اور بیمار بچے سمیت سوویت حکومت نے گولیوں سے اڑا دیا. لیکن نجانے کیوں اس کی بہنوں اور ماں،روس کی ملکہ ماریا فیدورونا کو، کمیونسٹوں نے چھوڑ دیا جو انقلاب کے دو سال بعد تک روس میں ہی اپنی بہنوں کے ساتھ رہی پھر برطانیہ اور پھر ڈنمارک چلی گئی جہاں اس کا انتقال انیس سو اٹھائیس میں ہوا.

اگر کوئی ریاست اپنی پالیسی بدل کر سرمایہ داری کے بجائے اشتراکی معیشت اپنا لے تو کیا تب بھی یہ کہا جائے گا کہ ریاست چونکہ وہی ہے اس لیے اس کی پالیسی نہیں بدلی. کیا کمیونسٹ پارٹیاں ترمیم پسندی کے نتیجے میں مارکسی نظریے سے انحراف نہیں کرتیں؟ یہ کس قسم کا کلیہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی ہمیشہ مارکسی پارٹی ہی رہتی ہے ترمیم پسندی اس پر کبھی اثر انداز نہیں ہو سکتی لہذا مارکسی پارٹی اگر ترمیم پسند ہو کر مارکسی نظریے سے انحراف کر جائے تب بھی اسے اشتراکیت کی علمبردار ہی سمجھا جائے گا. یہ فہم و دانش کا کون سا درجہ ہے؟ اس کلیے کی رو سے تو “سابقہ” مارکسی افراد کو جو اب منحرف ہو کر لبرل ہو گئے ہیں، مارکسی ہی مانا جانا چاہیے چاہے وہ لاکھ کہیں کہ بھیا ہم مارکسی نہیں! انسان نظریات بدل سکتا ہے تو انسانوں کی تشکیل دی گئی جماعت کیوں خیالات نہیں بدل سکتی؟

سائنس یقینا ارتقاء پزیر علم ہے. لیکن سائنسی علم کے ارتقاء کا ہر مرحلہ گزشتہ سے پیوستہ ہوتا ہے اس سے الگ تھلگ نہیں. مینڈل کی جینیات، ڈارون کی جینیات کا تسلسل ہے اس سے الگ وجود رکھنے والا علم نہیں. آئن اسٹائن کی دریافتیں نیوٹن سے خود کو الگ نہیں کرتیں. سائنسی علم میں تبدیلی اور ارتقاء کا مفہوم یہ ہر گز نہیں کہ اس کی بنیاد سے انحراف کر کے ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا کر اسے سائنسی علم کا ارتقاء منوانے پر اصرار کیا جائے. مارکسزم کی بنیاد یہ ہے کہ پیداوار میں نجی ملکیت اور سماجی محنت کا “ناقابلِ مصالحت” تضاد موجود ہے جس کا حل یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوار کو اشتراکی طریقہ پیداوار سے تبدیل کیا جائے اور پیداواری رشتوں میں تضاد و تفاوت ختم کر کے برابری پیدا کی جائے. مزدوروں کی گروہی ملکیت میں آپریٹوز کا قیام اور اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ صنعت کی موجودگی اور بقائے باہمی اور علمی ترقی کے زریعے سماج کی پرامن طریقے سے سوشلزم کی جانب منتقلی کی تجویز یعنی “کوآپریٹو سوشلزم” رابرٹ اوون کے اس سوشلزم سے زیادہ کچھ نہیں جسے مارکس نے “یوٹوپیائی سوشلزم” کہا تھا! فرق صرف یہ ہے کہ رابرٹ اوون کو اس کے یوٹوپیائی ہونے کا ادراک نہیں تھا لیکن آج کے رابرٹ اوون مارکسزم میں ارتقاء کے نام پر اسے دو سو سال پیچھے لے جا کر کھڑا کرنا چاہتے ہیں. پیراسترائیکا-گلاست نوسٹ کا یہ کوآپریٹو سوشلزم مارکسزم کے “سائنسی ارتقاء” سے سابقہ اشتراکی ریاستوں میں محنت کش عوام کے لیے کیا نتیجے ساتھ لایا اور اس سے دور رہنے والی اشتراکی ریاستوں میں محنت کش عوام کے حالات میں بنیادی فرق ساری دنیا گزشتہ چار دہائیوں سے دیکھ رہی ہے.

خاکسار ملتمس ہے کہ مارکسزم کے دقیق مسائل کو اشتراکیوں کے دردِ سر کے لیے چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہوگا اور توانائیوں کو اس نکتے کا جواب تلاش کر کے سامنے لانے کی کوششوں میں صرف کیا جائے کہ سرمایہ دارانہ نظام سے انسانی سماج کو لاحق شدید خطرات سے تحفظ کا راستہ کیسے نکالا جائے. کون سا متبادل نظام دولت کے سکڑتے ہوئے ارتکاز اور بڑھتی ہوئی غربت، بیروزگاری، سماجی عدم تحفظ، ماحولیاتی تباہی اور عالمی امن جیسے ناسورووں سے عالمِ انسانیت کی نجات کا ضامن ہو سکتا ہے. اشتراکیوں کے پاس متبادل کے طور پر مارکسزم ہے خواہ اشتراکیت کے ناقدین اس سے مطمئن نہ ہوں. لیکن اشتراکیت کے لبرل ناقدین کے لیے سوال یہ ہے کہ ان کے پاس کونسا متبادل ہے؟ اسے دریافت کیجیے اور سامنے لائیے.


Comments

FB Login Required - comments