زبان کے کھیل


یہ تحریر پنجاب کے دیہی علاقوں کے لوگوں کی ایک نہایت خوبصورت اور پُر لطف صفت Diglossia پر مبنی ہے۔ چند مذکورہ واقعات فیصل آباد کی تحصیل سمندری اور اس کے مضافاتی علاقوں کے ہیں۔ Diglossia کے لغوی معنی زبان کا دو حصوں پر مشتمل ہونا ہے۔ اصطلاح میں جب کوئی پورے وثوق سے الفاظ کو توڑ مروڑ کر اور ان کے تلفظ کی دھجیاں اڑا کر ادا کرتا ہے تو اسے Diglossia کہا جاتا ہے۔

انگریزی کے ایک پروفیسر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے لئے انگریزی زبان سیکھنے میں ایک دقت ”Mother Tongue Interference“ یعنی ”مادری زبان کی دخل اندازی“ بھی ہے۔ ہم انگریزی کا کچھ بھی سنتے یا بولتے وقت اس کی اپنی مادری زبان میں تصویر کشی ضرور کرتے ہیں۔ اس طرح ہم خالص انگریز بننے سے قاصر ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورت حال دیگر زبانوں کے ساتھ بھی ہے۔ ہم پنجابی سے اردو میں جاتے ہوئے اردو کا بیڑا غرق کرتے ہیں پھر انگریزی میں جانے کی سعی کرتے ہوئے انگریزوں کے آباؤ اجداد کی ارواح کو ذخم پہنچاتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم تین کشتیوں کا سوار بننے کی کوشش میں بدترین ڈبکیاں کھا کر ڈوبتے ہیں۔ پھر نہ ہماری پنجابی میں پنجاب کی خوشبو آتی ہے نہ ہی اردو میں وہ چاشنی رہتی ہے اور انگریزی تو رہنے ہی دیجئے آپ!

سکول میں تھے تو استاد محترم، جو نواحی گاوُں سے تھے، سے پوچھتے کہ سر جی کل کیا یاد کر کہ آنا ہے خدا ان کا اقبال بلند کرے فرماتے اگلی دو سٹوریاں!(کہانیاں یا stories)
گویا کہانیاں کہتے انھیں اپنی استادی میں عیب معلوم ہوتا۔

شام میں ”ٹوی شن“ (ٹیوشن یا tution) کا نطام ان علاقوں میں عروج پر ہوتا ہے۔ کام چوری کا ارتکاب کرتے ہوئے شاگرد بولتا ہے، مس جی!
سینس ( سائنس ) کا تو کام ملا ہی نہیں آج۔
مس جی فرماتی ہیں، اچھا چلو باقی بکّوں ( کتابوں یا books ) کا کام جلدی ختم کرو اور چھٹی کرو۔
خیر کرتے کرتے کالج کی سر زمین پر قدم رکھا۔ بعض لوگ ناگہانی طور پر میٹرک میں اچھے نمبر لے لیتے ہیں۔ ہم بھی خیر سے انہی میں سے ایک تھے۔ ان نمبروں کا ذعم کالج کے ابتدائی ایام میں نمایاں تھا۔ طبیعات کے لیکچر میں پروفیسر صاحب نے تعارف میں نمبر پوچھنا شروع کیے۔ تو ہم بڑے مان سے کھڑے ہو کر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بولے سر ’ نو سو تینتالیس‘

سر بولے،
ہیں کی؟
دوبارہ بولنے پر بھی نہ سمجھ سکے۔
پھر اکتاہٹ بھرا جواب آتا ہے،
‘ سر جی نو سو ترتالی‘
بولے،
‘اچھا ادّا کہہ نا! لو اودو دا پتا نیں کی بولی جا ریا سی۔ ‘

دھاک تو نہیں بٹھا سکے ہاں مگر استاد محترم کی انگلی نے بیٹھنے کا اشارہ ضرور کر دیا۔ ہم بھی قہقوں کی زد میں کھسیانے سے ہوکر اور دبک کر بیٹھ گئے۔
ان پروفیسر صاحب ک بارے میں بعد میں پتہ لگا کہ وہ مقامی نہیں بلکہ کسی نواحی علاقے سے ہیں اور اپنی زبان و تہذیب پہ بہت مان کرتے ہیں۔

پنجابی مرغن غذاوں کے بہت شوقین پائے گئے ہیں۔ ایک شخص اپنے حلقہ احباب میں وارد ہوتے ہوئے بولا،
باوا جی! چس آ گئی اج ناشتے دی۔ (بھائیو مزا آگیا آج تو ناشتے کا)
استفسار پہ بولا،
وڈے پاوے (پائے) لبھے سی اج۔ (بڑے پائے ملے آج )
دوست بولے،
بِیر جی (ویر جی) کلے کلے۔ (یار اکیلے اکیلے)

اس پہ مدعا سنبھالتے بولا،
یار اور ہوٹل آ لیا دی منیج منٹ(مینجمنٹ یا management) چنگی نی۔ پُر کراؤ تانو اپنے مربعے (رقبے) تو فلوٹر(فروٹر) لیا کے کھوا واں گا۔
(یار وہ ہوٹل والوں کی مینجمنٹ اچھی نہیں۔ چھوڑو! میں تمہیں اپنی زمین سے فروٹر لا کر کھلاوُں گا۔ )

گاؤں کے نمبردار کے بیٹے کے ثانوی بورڈ کے امتحانات کا مرکز قریبی گاؤں قرار پایا۔ یہ امتحانات جن محترم اُستاد کے زیرِ نگرانی انجام پانا تھے ان کا تعلق شہر سے تھا۔ پھر جو عام طور پر ہوتا ہے، نمبردار صاحب پہنچ گئے مٹھائی کا ڈبہ لئے امتحانات سے پہلے ہی۔

سلام سپری ڈینٹ ساب!(سپرانٹینڈنٹ صاحب سلام)
میں جی ایہہ گبانڈ آلا پینڈ آ ناں بڈا نبا، اُدا لمبڑدار آں جی۔
(میں جی یہ ساتھ والا گاوُں ہے نا بڑا 90، اس کا نمبردار ہوں)
(رولنمبر سلپ تھماتے ہوئے)

ایہہ میرا منڈا نباج۔ پھوٹو نی سہی آئی اُدا تاں گھبرو آ جی۔ سپری ڈینٹ ساب تانوں اک شفارش کرنی سی۔
میرا اک او اک مُنڈا آ جی۔ جی تھوڑی مہربانی کرو تے دس کر لُو جی۔ آخری چا۔ نس آ جی ادا۔
(یہ میرا بیٹا نواز۔ فوٹو تو اچھی نہیں آئی ویسے ہے خوبرو جوان۔ سپرانٹینڈنٹ صاحب آپ سے ایک سفارش کرنا تھی۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ اگر آپ تھوڑی مہربانی کریں تو میٹرک کر لے گا۔ آخری چانس ہے یہ اس کا۔ )

سپرانٹینڈنٹ صاحب نے اُسے سمجھایا کہ بھئی دیکھو محنت میں عظمت ہے۔ جو محنت کرے گا پاس ہوگا۔ نمبردار بولا
“سہی گل آ۔ مینت چے ای اجمت آ۔ پر جی کی کرئیے۔ کھلا پیہا آ۔ پر اولاد کسی نہ کم دی۔ رب راجی کرو جی تانوں۔
( صحیح بات ہے۔ محنت ہی میں عظمت ہے۔ پر کیا کریں جی۔ کھلا پیسا ہے۔ لیکن اولاد کسی کام کی نہیں۔ خدا آپ کو راضی کرے گا۔ )
سپرانٹینڈنٹ صاحب نے بھی بس ہاں میں ہاں ملا دی۔ مگر بعد ازاں معلوم ہوا کہ موصوف نے آخری بار بھی دھڑلّے سے فیل ہو کر کالج انتظامیہ کی آمدن کا ایک قدیم اور بےضرر سلسلہ تاحیات معطل کر دیا۔

وہ داغٌ اردو کے بارے میں فرما گئے تھے ناں کہ،
نہیں کھیل اےداغ! یاروں سےکہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے۔

بہر کیف، ہم یہ رائے ہر ایک زبان کے آنے کے ساتھ ساتھ جانے کے لئے بھی رکھتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

احمد شکور بهٹہ کی دیگر تحریریں
احمد شکور بهٹہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں