سلیمانی ٹوپی، نظم اور میں


naseer nasirدستک پر
نظم دوڑا دوڑی آتی ہے
ننگے پاؤں، کسی بچے کی طرح
اور جھٹ سے دروازہ کھولتی ہے
اور سامنے
کسی کو نہ پا کر
ٹُسکنے لگتی ہے
میں چپکے سے
اندر داخل ہو جاتا ہوں
نظم کو نہیں معلوم
کہ میں نے
جناتی لفظوں کی
سلیمانی ٹوپی پہنی ہوئی ہے
مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا
شلوموہ! شلوموہ!!
نظم منہ بنا کر بیٹھ جاتی ہے

نظم میرے انتظار میں
رات بھر جاگتی ہے
دن بھر دریچے میں کھڑی رہتی ہے
پورے گھر میں
پاگلوں کی طرح گھومتی ہے
نیم تاریک تہہ خانے مں
پرانی چیزوں کو ڈھونڈتے ہوئے
کئی بار ٹھوکر کھاتی ہے
نظم کونوں کھدروں میں چھپے
چوہوں اور کاکروچوں سے
بہت ڈرتی ہے
انہیں دیکھتے ہی
چیخ مار کر بے ہوش ہو جاتی ہے
جب تک تازہ ہوا نہ ملے
اس کی سانس بحال نہیں ہوتی

نظم مجھے ایک لمحہ تنہا نہیں چھوڑتی
واش روم میں جاتے ہوئے بھی
احتیاطاً
آنکھیں باہر سنگار میز پر رکھ جاتی ہے
تاکہ مجھ نادیدہ پر نگاہ رہے
شکر ہے
ورنہ وہ مجھے
شاور لیتے ہوئے
بے لباس دیکھ لیتی
جیسا کہ میں اسے
کئی بار دیکھ چکا ہوں
حالانکہ
حقیقت کو برہنہ دیکھنا اچھا نہیں ہوتا
آدمی پاگل ہو جاتا ہے
لیکن کیا کریں
ہم دیدہ ء دل سے مجبور ہیں

نظم اور میں
ایک ساتھ پیدا ہوئے تھے
لیکن میں
وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا
اور نظم
وقت سے پہلے جوان
دونوں طفل مزاج، طفلِ افتادہ ہیں
ایک دوسرے کو شرارتاً چھیڑتے ہیں
قالین پر قلابازیاں کھاتے ہیں
ایک بار تو
ٹوپی میرے سر سے گرتےگرتے بچی
نظم نے بھی
شاید میری آدھی جھلک دیکھ لی
ایک دم دوپٹہ اوڑھ کر صوفے پر بیٹھ گئی

میری طرح
نظم کو پرندے اچھے لگتے ہیں
کبوتر، فاختائیں اور رنگ برنگی چڑیاں
اس کے باغوں میں اڑتی رہتی ہیں
لیکن وہ انہیں قیدِ قفس میں نہیں رکھ سکتی
دوسروں کے لفظ چوری کرنے والے شاعر
نظم کو ایک آنکھ نہیں بھاتے
وہ انہیں جادو کے زور سے
کوے اور گدھ بنا دیتی ہے
یا ترنگ میں ہو تو
طوطا
تا کہ وہ کائیں کائیں کرتے رہیں
یا اپنا ہی ماس نوچتے رہیں
یا اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہیں

نطم
کسی کے پاؤں کی جوتی ہے
کسی کا ازار بند
کسی کے گلے کا ہار
اور کسی کے سر کا تاج
لیکن گراں بہا ہے
سیل میں نہیں ملتی
مہنگے سماں میں
ذخیرہ اندوزوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے
جو اسے ذہنوں کے گوداموں میں بند کر دیتے ہیں
البتہ مہربان ہو جائے تو
کسی کسی کو مفت میں مل جاتی ہے
جیسا کہ مجھے
ورنہ میرے پاس تو
کبھی اتنے پیسے جمع نہیں ہوئے
کہ نظم خرید سکوں
بے نظم جینا کتنا اذیت خیز ہوتا ہے
یہ تو کوئی مرتا ہُوا شاعر ہی بتا سکتا ہے

جب تک نظم مجھے
لفظوں کے بغیر
دیکھنا، لکھنا اور پڑھنا
سیکھ نہیں لیتی
میں بھی اسے
دکھائی نہیں دوں گا
نہ لکھوں گا نہ پڑھوں گا
اور یونہی تنگ کرتا رہوں گا
پورا سَو کیے بغیر
اکڑ بکڑ کھیلتا رہوں گا!!

 


Comments

FB Login Required - comments