میری جرمن ڈاکٹر کا ٹوتھ پیسٹ سے مسواک تک کا سفر


میں ڈاکٹر کرسٹینا کے پاس تقریباً دس برس قبل دانتوں کا معائنہ کروانے کے لیے گیا تھا۔ چیک اپ کرتے ہوئے اس نے کہا، ”لگتا ہے تم چاکلیٹ اور میٹھی چیزیں کم کھاتے ہو، تمہارے دانت مضبوط ہیں اور کہیں بھی کیڑا لگا نظر نہیں آ رہا۔‘‘

میں نے جواب دیا کہ میں شوق سے میٹھی چیزیں کھاتا ہوں لیکن ماضی میں باقاعدگی سے مسواک کرتا رہا ہوں، ابھی جرمنی آ کر ٹوتھ پیسٹ کا باقاعدگی سے استعمال شروع کیا ہے۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ مسواک کون سی ٹوتھ پیسٹ ہے؟ اس کے بعد مجھے کوئی پانچ منٹ اسے سمجھانے میں لگے کہ مسواک کیا ہے؟
بعد ازاں میں ہر سال دو مرتبہ اس کے پاس معمول کا چیک اپ کروانے جاتا رہا۔ تین برس پہلے گیا تو پتا چلا کہ وہ رضاکارانہ طور پر افریقہ جا چکی ہے۔

ابھی حال ہی میں دوبارہ کلینک گیا تو دیکھا اس کی واپسی ہو چکی ہے۔ شاید اسے ابھی تک میری مسواک والی بات یاد تھی۔ وہ تجسس بھرے لہجے سے مجھے بتانے لگی کہ وہ بھی افریقہ سے مسواکیں لے کر آئی ہے اور کلینک میں سب کو بتا رہی ہے کہ یہ مسواکیں کس قدر ’بائیو‘ اور مفید ہیں۔ اورل اور ڈینٹل ہیلتھ کے لیے کس قدر اچھی اور سستی ہے۔ اس نے مسواک کرنا افریقہ میں شروع کیا اور اب وہ مسواک کی فین ہو چکی ہیں۔

بقول ڈاکٹر کرسٹینا کے تازہ مسواک انتہائی اینٹی سیپٹک ہے، ماؤتھ فریشر کی ضرورت نہیں پڑتی، گلے کو مضر جراثیموں سے پاک رکھتی ہے، پیٹ میں جانے والے اس کے ذرات ہاضمے میں مدد گار ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ماحول دوست ہے۔ ٹوتھ پیسٹ کی طرح اس میں کیمیکل نہیں ہیں، پلاسٹک کی طرح ماحول کو گندا نہیں کرتی وغیرہ وغیرہ۔

مغرب میں ان دنوں بائیو پراڈکٹس یا کیمکل سے پاک دیسی اشیاء کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ اشیا دیگر کے مقابلے میں مہنگی بھی ملتی ہیں۔ یہاں کا انسان ترقی کا سفر طے کر کے دوبارہ فطرت اور دیسی اشیاء کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

یوں کہہ لیجیے کہ یہاں کے افراد دوبارہ پیزے سے کھیرے کے سلاد کی طرف آ رہے ہیں، کولا سے سادہ پانی کی طرف لوٹ رہے ہیں، کھادوں والی سبزیوں کی بجائے گھر یا مقامی سطح پر اُگی سبزیوں اور پودینے کو ترجیح دیتے ہیں، پلاسٹک بیگ کی بجائے کپڑے کے تھیلے کو پسند کرنے لگے ہیں اور پلاسٹک یا لوہے کی بجائے لکڑی کی ڈوئیوں کو صحت بخش قرار دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے چند برس بعد مٹی کے برتن بھی مقبول ہونا شروع ہو جائیں۔

دوسری طرف ہمارا لسی سے کولا کی طرف ابھی سفر شروع ہوا، ہم روٹی سے پیزے کی طرف ابھی جانا شروع ہوئے ہیں۔ شاید چند عشروں بعد ہم بھی اسی نتیجے میں پہنچیں کہ کولا سے لسی زیادہ صحت مند ہے، پیپسی سے لیموں کی شکنجوئی معدے کے لیے زیادہ اچھی ہے، مقامی شلوار، جینز سے زیادہ آرام دہ ہے، گرمیوں بوٹ طالب علموں کی صحت کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اور ٹوتھ پیسٹ سے مسواک کئی گنا اعلیٰ ہے۔ شاید ان نتائج تک پہنچنے اور ان کی ترویج میں ہمیں کچھ وقت لگے لیکن پاکستان میں ان دنوں شجرکاری جاری ہے، پلیز اس مرتبہ آپ بھی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ ایک کیکر، ششم، سکھ چین یا نیم کا درخت اگائیے۔ اپنے خاندان کے لیے اس کی پرورش کیجیے اور پھر عمر بھر برش کی جگہ اس کی تازہ مسواکیں استعمال کیجیے۔

اس طرح آپ فطرت سے قریب بھی رہیں گے اور ماحول کو پلاسٹک کے کچرے سے بھی بچائیں گے۔
اگر ہم مغرب جتنی ترقی نہیں کر سکے، اعلیٰ پائے کے سائنسدان پیدا نہیں کر پائے، اعلیٰ تعلیمی ادارے نہیں بنا سکے، ایجادات نہیں کر پائے یا ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ ہم شاندار سڑکیں اور معیاری گلیاں بنا سکیں تو کم ا زکم ہم درخت تو لگا ہی سکتے ہیں؟ ہم اپنے علاقے کو ترقی یافتہ ممالک جتنا سر سبز تو بنا ہی سکتے ہیں؟ اس میں بھلا ہم کو کس نے روکا ہے، اس میں کفار کی کون سی سازش ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں