اپنے بچوں کو جینے دیں


گذشتہ روز چترال میں دو لڑکیوں سمیت ایک لڑکے نے انٹرمیڈیٹ کا نتیجہ جاننے کے بعد اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ دونوں لڑکیوں نے اپنی جان لینے کے لیے دریا میں چھلانگ لگائی۔ ایک لڑکی کی لاش مل چکی ہے جبکہ دوسری لڑکی کی نعش کی تلاش اب تک جاری ہے۔ لڑکے نے اپنی تھوڑی کے نیچے پستول رکھ کر فائر کیا جس میں اس کی جان تو بچ گئی لیکن اس کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اس قسم کے کئی واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں لیکن ہم اب تک ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کر سکے۔ ہمارا تعلیمی اور خاندانی نظام جانے کتنے ہی بچوں کی جان لے چکا ہے اور کتنوں کو مایوسی اور ڈپریشن کا شکار بنا چکا ہے۔

بچے دنیا میں بے نام آتے ہیں۔ والدین انہیں نام دیتے ہیں۔ اس نام کو ایک نامی گرامی نام بنانے کا ذمہ بچوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بچوں کو کامیابی کا جو معیار بتایا جاتا ہے اگر وہ اس تک نہیں پہنچ پاتے تو مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ مایوسی ان کی نظر سے ان کی دیگر کامیابیاں بھی اوجھل کر دیتی ہے۔ انہیں ایسے محسوس ہونے لگتا ہے جیسے اب ان کی زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ آہستہ آہستہ وہ اپنی زندگی سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ اگر انہیں امید کی ایک کرن بھی نہ دکھائی دے تو وہ اپنی جان بھی لے سکتے ہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان کی زندگی میں سب سے اہم وہ خود ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد کسی بھی امتحان میں نوے فیصد نمبر لینے سے کہیں بڑا ہے۔ انہیں آج میں جینا سیکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ جو ہے اب ہے۔ انہیں اس آج کو جینا ہے، کل کی فکر نہیں کرنی۔

ہمارے ہاں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سب سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ جن رشتے داروں نے کبھی رابطہ نہیں رکھا ہوتا وہ بھی نتیجے والے دن فون کر کے نمبر پوچھتے ہیں اور انہی نمبروں کے مطابق خاندان بھر میں تبصرے بھی کرتے ہیں۔ ہمارے دیسی والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں سے اچھی کارکردگی کی امید محض اپنے رشتے داروں میں سر اونچا رکھنے کے لیے ہی رکھتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اس چکر میں وہ اپنے بچوں پر کتنا دبائو ڈال رہے ہیں اور کیسے انہیں ڈپریشن کا شکار بنا رہے ہیں۔ جب بچے اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والی کوئی حرکت کر بیٹھتے ہیں تب والدین کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے۔

ہمارے والدین کو بھی سمجھنا چاہئیے کہ اگر ان کا ہر بچہ ڈاکٹر انجینئیر یا پائلٹ نہیں بنے گا تو کوئی بڑا طوفان نہیں آئے گا۔ ہماری یہ دنیا صرف ڈاکٹرز، انجینئیرز یا پائلٹس کے بل پر نہیں چلتی۔ دنیا میں لاکھوں پیشے ہیں جو یکساں اہم ہیں۔ انہیں جو پیشہ اہم لگتا ہے انہیں اس کی طرف جانے دیں کیونکہ سب سے اہم ان کی خوشی ہے۔

والدین اپنے بچوں کا دوسروں کے بچوں سے مقابلہ بھی کرتے ہیں۔ یہ مقابلہ بازی بچوں کا اعتماد کم کرتی ہے اور ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پر ناکامی کا احساس چھانے لگتا ہے۔ وہ کچھ بھی کر لیں۔ انہیں ایسے لگتا ہے جیسے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ احساس ان کی صلاحیتوں کو نگلنے لگتا ہے اور ایک وقت وہ آتا ہے جب ان کی زندگی ہی ان سے چھین لیتا ہے۔

ہمیں سمجھنا چاہئیے کہ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی بھی انسان کا کسی دوسرے سے مقابلہ کرنا خود میں ہی ایک بیوقوفانہ عمل ہے۔ اس کے علاوہ والدین اپنے جو خواب خود پورے نہیں کر سکتے، ان کا بار بھی اپنے بچوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو ان کی زندگی جینے دیں۔ انہیں اپنی زندگی میں وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اصلاح ضرور کریں مگر ان پر سختی نہ کریں۔

ہمارا تھوڑا سا پیار، تھوڑی سی ہمت اور تھوڑا سا حوصلہ ہمارے بچوں کی زندگیاں خوشیوں سے بھر سکتا ہے۔ ان پر اتنا بار نہ ڈالیں جو وہ نہ اٹھا سکیں۔ انہیں اپنی زندگی جینے دیں کہ انہیں اسی لیے زندگی دی گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں