جمہوری نظام کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے: فضل الرحمن


FazalurRahman_11-21-2013_127315_l جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے اب احتساب کے ڈر سے بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود چور ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست کا ایک غیر ضروری عنصرجس کے پاس سیاسی زبان اور الفاظ تک نہیں، وہ پاکستان کی سیاست پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم ان کی اس جمہوری نظام کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے نام سے پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی ایک بھونچال آگیا ہے اوردوسرے ممالک کے حکمرانوں سے پہلے ہمارے ملک کے وزیراعظم نے خلوص نیت کے ساتھ خود کو احتساب کے لئے پیش کیا اور اپوزیشن کو کہا کہ آو¿ کمیشن بناتے ہیں اوراگر میں واقعی مجرم ہوں تو گھر جانے کو بھی تیار ہوں اور انہوں نے تحقیقات کے لیے اپوزیشن کی ہر بات مانی لیکن وزیراعظم کے اعلان کردہ کمیشن کو مسترد کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پاناما لیکس کے معاملے پر اپوزیشن کا پارلیمانی کمیٹی کا مطالبہ بھی قبول کیا لیکن وہاں سے بھی اپوزیشن اور تنقید کرنے والے بھاگ گئے وزیراعظم نے تنقید کرنے اور الزامات کی بوچھاڑ کرنے والوں کی فرمائش پر مسئلہ چیف جسٹس کے حوالے کیا لیکن اب وہاں سے بھی اپوزیشن کی جانب سے بھاگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کمیشن کے سابق جج قبول نہیں بیوروکریٹ قبول ہیں کمیشن کا مطالبہ کرکے بھی عمران خان بھاگ گئے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) کاکہنا تھا کہ عمران خان کی حالت تو یہ تھی کہ جب 1987 میں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انہوں نے ان سے درخواست کی کہ میرے پاس گھر تک نہیں مجھے پلاٹ دیا جائے جس پر میں اپنا گھر بناسکوں لیکن عمران خان کے پاس 1983 میں اتنا پیسہ کہاں سے آگیا تھا کہ انہوں نے پاناما کمپنی بھی بنالی۔ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد واضح ہوگیا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے اور وزیراعظم چور نہیں بلکہ الزامات اور تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے خود چورہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا جو کل تک جمہوریت کےلئے خطرہ تھے وہ آج کسی صورت بھی جمہوریت کے محافظ نہیں ہوسکتے۔ تنقید کرنا اور اختلاف رائے اپوزیشن کا حق ہے لیکن حدود میں رہتے ہوئے ایسا اختلاف ہونا چاہیے جس سے جمہوریت کے تحفظ کی ضمانت ملے،کیونکہ عوام کی قوت جمہوریت کی روح ہے ، ایسا نہ ہو کہ جمہوریت کو نقصان پہنچنے کے بعد سب کو پچھتانا پڑے اور یہ کہنا پڑے کہ آو¿ عندلیب مل کر کریں آہ زاریاں۔


Comments

FB Login Required - comments