عدل بھی ایک دن صاحب اولاد ہو کے رہے گا


آٹھ اگست کا دن کیا خوں آشام دن تھا۔
اس دن نے اھل درد کو آٹھ آٹھ آنسو رُلا دیا۔
اس دن بے دردوں نے عید منائی۔
اس دن کو وہ مخصوص آوازیں خاموش کرائی گئیں

جن کا رعب دشمناں امن کے اعصاب پر سوار تھا،
جن کا جلال انصاف سے چڑ رکھنے والوں کی کانوں میں زہر گھول رہا تھا۔

اس دن انصاف اور امن کے دشمن صبح تک بے چین تھے کہ کہیں پھر سے وہ موقع ضائع نہ ہو، جو ایڈوکیٹ بلال کاسی کی شھادت کے بدلے انہوں نے اپنے کو فراہم کیا تھا۔
پھر تھوڑی دیر بعد اُن کی بے چینی چین میں بدل گئی اور خوف کے بھوت ان کی دماغوں سے اتر گئے،

کیونکہ،
دو پہر سے پہلے پہلے وہ اس موقع کو کیش کرکے ان آوازوں کو خاموش کر چکے تھے۔
کوئٹہ کا مرکزی ہسپتال اب شفاخانے کی بجائے ایک مقتل کا منظر پیش کر رھا تھا۔ اور

ہر سُو انسانوں کے خوبصورت منارے زمیں بوس پڑے دکھائی دیتے تھے۔
شہر کی خوشگوار فضاء کو کالے دھووں اور بارُود کا منحوس تڑکا لگ چکاتھا۔

رُت بدل گئی تھی
اور حق و انصاف کے جیالوں کے پھول جیسے نازک چہرے لہو کے تالاب میں اوندھے پڑے تھے۔
شاید

زبیر حسرت نے ایسے ہی پرحسرت حادثات کے وقت فرمایا تھا،

ما بہ اکثر پہ جنازو باندے گلونہ لیدل
حسرتہ نن می د گلونو جنازے اولیدے
”ماضی میں سجاوٹ کی خاطر مجھے اکثر جنازوں کے اوپر پھول دیکھنے کو ملتے تھے لیکن حیف آج مجھے خود پھولوں کے جنازے نظر آئے“۔

وہ آوازیں کس کی آوازیں تھیں کہ جن سے دشمنان ِانصاف کو اتنا چڑتھا؟

جی ہاں،

وہ کالے کوٹوں والے ان باہمت وکلاء کی وہ جری آوازیں تھیں جو بولہبی عقائد رکھنے والوں کے سماعتوں میں طویل عرصے سے زھر گھول رھا تھا،

یہ آوازیں باز محمد کاکڑ،
بلال انور کاسی اور
عسکر خان اچکزئی
کی آوازیں تھیں، جسے خاموش کرانے سے گویا (دشمنوں کے مسلک کے مطابق ) ثواب داریں ملتا تھا۔

ان آوازوں میں عدنان کاسی، چاکر رند، قاہرشاہ، حفیظ مندوخیل، ایمل خان، عین الدین ناصر، داودکاسی، عطا کاکڑ، بشیر زہری، اور امان لانگو جیسے سپوتوں کی آوازیں بھی شامل تھیں جنہں بھی عمر بھر کے لئے سکوت کی نیند سلادیاگیا۔

کالے کوٹوں والے وکلاء کے گرجدارآوازوں سے عداوت کرنے کی بنیادی علت یہ تھی کہ اس کو خاموش کرائے بغیر امن کے غارتگروں کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی تھی۔
آٹھ اگست کی صبح انصاف کے پرچم برداروں کوپل بھر میں موت کے گھاٹ اتار کر بے شک امن کے دشمنوں نے ضرور عید منائی ہوگی۔
بے شک، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی شکل میں ظلم بیشک آج بھی بچے جن رہاہے،

لیکن امن اور انصاف کے دشمن یاد رکھیں کہ عدل بھی ایک دن صاحب اولاد ہو کے رھے گا۔
ہمیں یقین ہے کہ ہمارے شہداء کی لال قربانیاں عنقریب رنگ لائے گی اور بولہبی منصوبوں کے ماسٹر مائنڈز ضرورِ عبرت کا نشان بنیں گے۔ آ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں