حالیہ انتخابات، کمپیوٹر سسٹمز، آر ٹی ایس کی ناکامی اور سی ایم ایس کی کامیابی


یہ مضمون، ایک کوشش ہے کہ ہم اپنے قارئین کو سوفٹ وئیر کی تیاری اور اس کو استعمال کرنے کے قابل بنانے تک کے مختلف مراحل کو آسان اور فہم زبان میں بیان کر سکیں۔
اس مضمون کا بڑا مقصد میں اردو پڑھنے اور سمجھنے والے دوستوں کو عام، فہم زبان میں تکنیکی معلومات کی فراہمی ہے۔

حالیہ انتخابات میں نتائج کی تاخیر کا ذمہ دار ایک کمپیوٹر سسٹم کو ٹھہرایا جا رہا ہے، جسے آر ٹی ایس کہتے ہیں، یعنی کہ ریزلٹ ٹرانس مشن سسٹم؛ اور دوسرا یہ کہ ایک سیاسی جماعت نے سی ایم ایس یعنی کہ حلقہ بندی مین ایج منٹ سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے کس طرح فائدہ اٹھایا۔

تو میں نے یہ ضروری سمجھا کہ قارئین کو ایک کمپیوٹر سسٹم کے بننے سے پہلے سے لے کر اسے قابل استعمال حالت تک پہنچنے کے دوران پیش آنے والے تمام مراحل غیر ضروری تفصیل میں جائے بغیر سمجھائے جا سکیں، اس قسط میں ہم سسٹم بنائے جانے سے پہلے کے عوامل کی بات کریں گے۔

یہاں یہ بتانا شاید ضروری ہو کہ میں گذشتہ 18 برس سے کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر کی تیاری سے لے کر اس کے استعمال، اور مختلف نوعیت کے سسٹم کے مختلف ممالک میں لگائے جانے سے لے کر ان کے استعمال کے دوران پیش آنے والے مسائل کے حل کرنے کے پیشہ سے وابستہ ہوں۔

پیچیدہ تفصیلات میں جائے بغیر، یہ سمجھ لیں کہ ہم کسی بھی کمپیوٹر پروگرام کو، کمپیوٹر سسٹم یا سوفٹ وئیر کہہ سکتے ہیں، اس مضمون میں ہم ”کمپیوٹر سسٹم“ یا محض ”سسٹم“ کی اصطلاح استعمال کریں گے۔ کس بھی سسٹم کی تیاری سے قبل اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور مقاصد جمع کیے جاتے ہیں، یہ مختلف انواع و اقسام کے ہو سکتے ہیں، چند کا مختصر ذکر اور تعارف ذیل میں ہے۔

عملی ضروریات : یہ وہ ضروریات ہوتی ہیں جنہیں عموما یا زیادہ تر اس سوفٹ وئیر کا استعمال کنندہ بیان کرتا ہے، لیکن یہ ضروریات بنانے والا بھی بیان کر سکتا ہے اور اس سسٹم کی جانچ پڑتال یا ٹیسٹنگ کرنے والا بھی لکھ سکتا ہے، اس سسٹم کو دوران استعمال پیش آنے والی مشکلات کو حل کرنے میں مدد دینے والا بھی بتا سکتا ہے، اب ان کی فہرست بہت ہی بڑی ہو سکتی ہے، تو انہیں مختلف درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

لازمی : یہ وہ ضروریات ہیں جن کی عدم موجودگی یا صحیح طرح سے کام نہ کرنے کی وجہ سے وہ سسٹم قابل استعمال نہیں ہوتا، ان میں سے اکثر ضروریات ”تجارتی اصول“ یا ”بزنس رولز“ کہلاتی ہیں، مثال کہ طور پر اگر ایک ایسا سسٹم تشکیل دیا جا رہا ہے جو کہ ایک میڈیکل سٹور میں خرید و فروخت کے لیے استعمال ہونا ہے تو یہ لازمی ہے کہ

i۔ جب بھی کوئی نئی دوا مثلا ” پینا ڈول” خریدی جائے تو اس کا اندراج سسٹم میں ممکن ہو کہ کب خریدی گئی،
ii۔ کس سے خریدی گئی،
iii۔ کس قیمت پر خریدی گئی،
iv۔ کس تاریخ کو بنائی گئی،
v۔ اور اس کی ایکسپائیری تاریخ کیا ہے،
vi۔ اس پر زیادہ سے زیادہ کتنی رعایت دی جا سکتی ہے،

vii۔ اس دوا کی سٹور میں کس بھی وقت پر موجود تعداد معلوم کی جا سکے، اگر یہ تعداد پہلے سے معین کردہ حد سے کم ہو جائے تو سسٹم آپ کو بتائے کہ نئے آرڈر کا وقت آگیا ہے تاکہ آپ کے پاس ”پیناڈول“ کا سٹاک ختم ہونے سے پہلے ہی نیا سٹاک آجائے، یا کوئی ایسا طریقہ کار ہو جس سے سسٹم کسی بھی دوا کی خریدوفروخت کے اعداد و شما ر کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو بتا سکے کہ موجودہ سٹاک کب تک ختم ہو سکتا ہے۔

viii۔ یہ بتا سکے کہ یہ اس والی دوا کا یہ والا ڈبہ اپنی ایکسپائیری تاریخ کے بالکل قریب ہے لہٰذا اسے بیچنا بند کیا جائے اور واپس کیا جائے اور جب واپس کر دیا جائے تو اسے موجوودہ سٹاک میں سے منفی کر دے، اور اس دوا کے سپلائیر یا فروخت کنندہ سے اس کی قیمت خرید کے مطابق یا تو متبادل ادویات لی جائیں یا پھر اگلے آرڈر میں سے اسے اتنے پیسے کم دیے جائیں۔

ix۔ سپلائرز کی تمام ضروری تفصیلات ہوں، اگر ایک دوا کے لیے ایک ہی سپلائر ہے تو اس دوا کے ساتھ ہی نظر آجائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اس سے رابطہ کیا جا سکے۔

سرکاری یا قانونی احکامات والی ضروریات:
i۔ مثلا رسید کا اجرا کرنا لازمی ہو
ii۔ اس پر اگر کوئی رعایت دی گئی ہے تو وہ بھی علیحدہ سے لکھی جائے
iii۔ رسید پر بیچی گئی دوائی کی مدت معیاد یا ایکسپائری کی تاریخ لکھی جائے
iv۔ اگر بیچی گئی مصنوعات پر کوئی ٹیکس لاگو ہے تو اسے علیحدہ سے ظاہر کیا جائے وغیرہ وغیرہ

دیگر ضروریات (جن کا مختصر ذکر کیا جا رہا ہے، تفصیل کے لیے آپ گوگل سے رابطہ کر سکتے ہیں)
i۔ کس بھی ٹرانزیکشن کو ٹھیک کرنا، اس میں نئی ٹرانزیکشن کر کے اسے ٹھیک کرنا یا پھر ایک اور ٹرانزیکشن سے اسے کینسل کرنا، کیونکہ امریکہ میں ہونے والے ایک بہت بڑے فراڈ کے بعد، کمپیوٹر سسٹمز میں سے ٹرانزیکشنز کو ڈیلیٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، سو اگر آپ کا کاروبار اس نوعیت کا ہے کہ اس کا سالانہ آڈٹ لازمی ہے، یا ٹیکس کے گوشوارے جمع کروانا ضروری ہے تو ٹرانزیکشن ڈیلیٹ کرنا ممکن نہیں ہونا چاہیے

ii۔ سسٹم کے استعمال کے لیے درکار انتظامی امور (جیسا کہ نئے یوزرز بنانا، پرانے یوزرز بلاک کرنا وغیرہ)
iii۔ شناخت کا طریقہ کار، جیسا کہ آج کل کئی سسٹمز سنگل سائن ان یا پھر کسی دوسری ویب سائٹ سے آپ کو لنک کر کے اپنی شناخت ثابت کرنے کی اجازت دیتے ہیں، با الفاظ دیگر پاس ورڈ وغیرہ

iv۔ مختلف درجات کے کاموں کے لیے مختلف درجات کی رسائی، جو کام ایک مینیجر کر سکتا ہے اس تک اس کے ماتحت کام کرنے والے افراد کی رسائی نہیں ہونی چاہیے، یا ایک ہی شخص کے پاس کسی ایک بہت بڑے سسٹم کی مکمل رسائی دینا فراڈ کو آسان بنا دیتی ہے۔

v۔ آڈٹ لاگ: یعنی کہ سسٹم میں کی گئی کسی بھی قسم کی ٹرانزیکشن یا معلومات کے اندراج یا اخراج کا مکمل ریکارڈ رکھنا کہ کس نے کب اور کس وقت کیا کام کیا

vi۔ دیگر سسٹمز کے ساتھ روابط، کہ یہ سسٹم دوسرے کمپیوٹر سسٹمز کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر سکتا ہو۔ مثلا خریدنے کے لیے درکار اشیا کا آرڈر الیکٹرانک ذریعے خودکار طریقے سے فروخت کنندہ تک پہنچا سکے؛ اور فروخت کنندہ کی جانب سے واپس ان اشیا کی تعداد کی فراہمی کی تاریخ اور تعداد کی تصدیق کو واپس وصول کر سکے وغیرہ

vii۔ رپورٹنگ: بعض ممالک میں حکومتیں کمپنیوں کو ان کے زیر استعمال سسٹمز سے مختلف نوعیت کی رپورٹیں الیکٹرانک طریقے سے بھیجنے کا تقاضہ کرتی ہیں، اس سے مراد چند ایسی رپورٹیں بھی ہو سکتی ہیں جو کہ استعمال کنندان کے روز مرہ استعمال کے لیے بہت ضروری ہوں

viii۔ تاریخی معلومات تک کی رسائی، پاکستان سمیت کئی ممالک میں ایسے قوانین رائج ہیں جس کے تحت کسی بھی تجارتی ادارے کو اپنا تمام ریکارڈ 5 سے 10 برس تک رکھنا لازمی ہوتا ہے

ix۔ قانونی ضروریات وغیرہ: مثال کے طور پر سسٹم کا اس قابل ہونا کہ وہ ہر بیچی جانے والی چیز پر لاگو سرکاری ٹیکس (جو کہ ہر چیز کے لیے مختلف ہو سکتا ہے) کا حساب خودکار طریقے سے لگا سکے، نیز مستقبل میں اگر اس ٹیکس میں ردوبدل ہو تو سابقہ یا تاریخی معلومات کوئی تبدیلی نہ ہو۔ ایسے سمجھ لیں کہ اگر آج سگریٹ اگر دس فیصد ٹیکس کے حساب سے بیچے گئے ہیں اور آئندہ برس یہی ٹیکس پندرہ فیصد ہو جائے تو، آج کی تاریخ میں بیچے جانے والے سگریٹ کے متعلق معلومات جب مستقبل میں اخذ کی جائیں تو ٹیکس 10 فیصد ہی نظر آئے وغیرہ

غیر عملی ضروریات: ان میں وہ والی ضروریات شامل ہوتی ہیں جو کہ سسٹم کے استعمال کرنے والے اکثر بیان نہیں کر پاتے، مگر تکنیکی ماہرین انہیں سسٹم بنانے یا اسے لگانے سے پہلے اکٹھا کرتے ہیں، مثال کے طور پر جیسے ہی بٹن دبایا جائے، 2 سیکنڈ کے اندر اندر درج کردہ معلومات ہر ایک کے لیے میسر ہوں، یا اگر مختلف یوزرز ایک ہی سسٹم استعمال کر رہے ہیں تو اگر ایک یوزر کوئی چیز بیچ رہا ہے تو دوسرے یوزر کو موجود تعداد میں سے پہلے یوزر کی بیچے جانے والی تعداد منفی کر کے دکھائی جائے یا بیچی جانے والی تعداد کو ”لاک“ کر دیا جائے، تاکہ دوسرے استعمال کرنے والے کو علم ہو جائے کہ اصل میں تعداد کتنی ہے اور فی الوقت کتنی تعداد میں اشیا بِک رہی ہیں۔ ان قسم کی چند اقسام ذیل میں ہیں

پرفارمنس: مثال کے طور پر سسٹم کا ریسپانس ٹائم کہ ایک بٹن دبانے کے بعد کتنی دیر میں وہ عمل پورا ہوتا ہے، استعمال کرنے والا تو یہی کہے گا کہ رسید پرنٹ ہو جائے، لیکن یہ بیان کرنا اکثر بھول جائے گا کہ رسید پانچ سے دس سیکنڈ کے اندر اندر پرنٹ ہو جائے، ایسا نہ ہو کہ اس کام میں 10 منٹ صرف ہو جائیں

سکیل ایبیلیٹی: سسٹم کو مستقبل میں ضروریات کے مطابق بڑھایا جا سکے، ابھی اگر دس استعمال کرنے والے ہیں تو مستقبل میں بیس یا تیس یوزرز اسے استعمال کر سکیں، ابھی اگر ایک یا دو برانچوں یا مقامات پر استعمال ہو رہا ہے تو آئندہ یہی سسٹم 15 مقامات پر بھی استعمال کرنے کے قابل ہو، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ 15 مقامات پر استعمال کے قابل بنانے کے لیے پھر سے نیا سسٹم بنانا پڑے

کپیسیٹی: یعنی کہ معلومات ذخیرہ کرنے کی استعداد، اور ان معلومات کو اخذ کرنے کے لیے درکار وقت مستقبل میں معلومات کی زیادتی کی وجہ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

دستیابی: ضروریات کے حساب سے سسٹم کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے، مثلا اگر کوئی ادارہ ایسا سسٹم بنا رہا ہےجو کہ مختلف ممالک میں استعمال ہو رہا ہو تو اس کی ہمہ وقت دستیابی انتہائی ضروری ہے، ایسے سسٹم کی مرمت کے لیے درکار وقت کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اس کے استعمال کرنے والے متاثر نہ ہو سکیں، اگر جی میل کی مثال لی جائے اور کہا جائے کہ جی روزانہ یہ سسٹم ایک گھنٹے کے لیے استعمال کے قابل نہیں ہو گا تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسے سسٹم کون استعمال کرے گا؟

قابل انحصار ہونا: ایسا نہ ہو کہ ایک دن معلومات اخذ کی جائے تو جواب کچھ اور ملے اور اگلے ہی لمحے وہی معلومات کچھ اور نظر آ رہی ہوں، ایک بار 2 + 2 چار ہو اور اگلی بار 2+2 کا جواب سات ہو۔

ریکوری: سسٹم کے خراب ہونے کی صورت میں اسے آخری داخل کردہ ٹرانزیکشن تک ریکور کیا جانا ممکن ہو، یا اگر سسٹم بہت زیادہ حساس نوعیت کا نہیں تو خرابی واقع ہونے سے کم از کم 2 گھنٹے قبل والی صورتحال میں واپس لایا جا سکے

دیگر کوئی نوعیت کی ضروریات جن میں سیکورٹی، سسٹم کو مین ایج کرنا، اس کے لیے درکار ماحول (اب ایسا نہ ہو کہ یہ سسٹم تمام ضروریات تو پوری کرتا ہو، لیکن اس کے استعمال کے لیے درکار درجہ حرارت 5 درجہ سنٹی گریڈ ہونا ضروری ہو)، معلومات کی ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت، استعمال کرنے کی آسانی وغیرہ شامل ہیں۔
تو یہ تھا سرسری سا خلاصہ کہ ایک سسٹم بنانے سے قبل اس سے حاصل ہونے والی ضروریات کو کس طرح بیان کیا جاتا ہے۔

اب جب یہ سسٹم بن جائے تو ہر مرحلے کے دوران اس کی مختلف طرح سے جانچ پڑتال ہوتی ہے، اور عموما ہر قسم کی ضرورت کے مطابق اسے ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ یہ تمام ضروریات پوری کر سکے۔ نیز یہ کوشش بھی ہو گی کہ اس کے پس منظر میں رونما ہونے والے عوامل پر بھی تھوڑی سی روشنی ڈالی جائے
(جاری ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں