خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے محمود خان نامزد


پاکستان

facebook
پشاور میں گذشتہ روز ہونے والی پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی میٹنگ میں محمود خان (درمیان میں) شرکت کرتے ہوئے

جولائی میں ہونے والے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے سوات سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر محمود خان کو صوبہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پی ٹی آئی میڈیا سیل کی طرف سے بدھ کی شام جاری کردہ مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے محمود خان کو وزیراعلی خیبر پختونخوا نامزد کردیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ کے مطابق 46 سالہ محمود خان کا تعلق سوات کے علاقے مٹہ سے ہیں اور وہ پہلی مرتبہ 2013 میں سوات سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور بعد میں صوبائی کابینہ میں وزیر کھیل و ثقافت اور آبپاشی کے عہدے پر فائض رہے۔

خیبر پختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ کون بنے گا؟

’وفاق اور پنجاب میں حکومت کے لیے نمبر پورے کر لیے ہیں`

حالیہ انتخابات میں سوات کے حلقہ پی کے نو سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔

نرم لہجے کے حامل پی ٹی آئی رہنما 2013 کے الیکشن سے پہلے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ کچھ عرصے کےلیے پیپلزپارٹی کا حصہ بھی رہے اور اس دوران وہ مٹہ کے علاقے سے یونین کونسل کے ناظم بھی منتخب ہوئے تھے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق محمود خان نے اپنی ابتدائی تعلیم سوات اور پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی اور بعد میں زرعی یونیورسٹی پشاور سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔

پاکستان

BBC
محمود خان نے سوات کے حلقہ پی کے نو سے فتح حاصل کی

اندرونی چقپلش

بتایا جاتا ہے کہ کچھ دنوں سے پی ٹی آئی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے کےلیے واضح طورپر دو گروپ سامنے آئے تھے اور ابتدا میں اس اہم عہدے کےلیے دو نام لیے جارہے تھے جن میں سابق وزیراعلی پرویز خٹک اور سابق وزیر تعلیم عاطف خان شامل تھے جبکہ محمود خان کا نام امیدواروں میں شامل نہیں تھا۔

تاہم پرویز خٹک کی طرف سے عاطف خان کی کھل کرمخالفت کی گئی اور اس سلسلے میں پشاور میں سابق وزیراعلی کی طرف سے تقریباً 40 کے قریب نو منتخب ایم پی ایز اور ایم این ایز کا ایک اجلاس بھی بلایا گیا تھا جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ تمام افراد ان کے ساتھ ہیں اور عاطف خان کی نامزدگی کی صورت میں پارٹی میں دراڑیں پڑسکتی ہے۔

تاہم بعد میں پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی میں اختلافات سے بچنے کےلیے کسی تیسرے امیدوار پر سوچ و بچار شروع ہوا اور اس طرح اس اہم عہدے کےلیے محمود خان کے نام پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان

facebook
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پشاور میں پارلیمانی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے

گزشتہ روز عمران خان نے بھی مختصر دورہ پشاور کے دوران پارلمیانی میٹنگ سے خطاب میں پارٹی کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے کےلیے گروپ بندی پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے قریبی سمجھنے جانے والے سوات سے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے محمود خان کی نامزدگی میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعلی کے عہدے کو حاصل کرنے کی ریس میں شامل دونوں امیدوار پرویز خٹک اور عاطف خان نے بھی محمود خان کی بحثیت وزیراعلی نامزدگی پر رضامندگی ظاہر کردی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5712 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp