ابنِ آس اور اس کی صد لفظی کہانیاں


اِبن آس سے میرا تعارف شکیل عادل زادہ کے یہاں ”سب رنگ“ کے دفتر میں ہوا۔ یہ کوئی سترہ اٹھارہ برس پرانی بات ہے۔ غالباً اُن دنوں ابنِ آس روزنامہ اُمت سے وابستہ تھے۔ شکیل عادل زادہ جنھیں ہم بھائی شکیل کہتے ہیں، دُپہر کو قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ اُس دوران ابنِ آس سے مکالمے کا وقت مل گیا۔

باتوں باتوں میں ابنِ آس نے بتایا کہ وہ رات کو لکھتے ہیں، صبح بچے کو اسکول چھوڑ کر آتے ہیں، سو جاتے ہیں؛ دُپہر کو اُٹھتے ہیں، اور بچے کو اسکول سے گھر پہنچا کے اخبار کے دفتر چلے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ وہ ایک رات میں اسی نوے صفحات لکھ لیتے ہیں۔ میں نے حیرانی کا اظہار کیا، کہ ایک رات میں اسی نوے صفحات کیسے لکھ لیتے ہیں، تو انھوں نے اپنی جیب سے ایک صفحہ نکال کر دکھایا، جس پر اتنی باریک لکھائی میں تحریر تھا، جیسے ہم نقل کے لیے کمرائے امتحان میں ”بوٹیاں“ بنا کے لے جاتے تھے۔

میری حیرت دوچند ہوگئی۔ ابنِ آس سے پوچھا کہ اتنا کیسے لکھ لیتے ہو، خیال کی رفتار ایک طرف، لکھتے ہوئے ہاتھ نہیں تھکتا؟ کمال بے نیازی سے جواب دیا، کہ جب میرا گھر اس سے چلتا ہے تو ہاتھ تھکنے کا کیا سوال؟! ایک عرصے تک میں ابنِ آس کے اس ہنر کے سحر میں رہا؛ سچ مانیں تو اب تک ہوں۔

پہلی ملاقات کی ایک اور بات یاد ہے؛ ہمارے بیچ میں فون نمبروں کا تبادلہ ہونے لگا تو میں نے رومن میں ”آس“ لکھتے پوچھا، ”ڈبل اے سے لکھتے ہو؟“ ابنِ آس نے جواب دیا، ”ٹرپل اے سے؛ کیوں کہ ‘آس’ لمبی ہوتی ہے۔“ میں مسکرا دیا۔

میں نے ”سب رنگ“ کی ”خاص کہانیوں“ میں سے ایک کہانی کی ڈرامائی تشکیل کی، وہ ڈراما تیار ہوا، اور 2005 میں ایک نجی چینل سے نشر ہو گیا۔ شاید اس کے ایک یا دو سال کے بعد ابنِ آس نے بھی وہی کہانی منتخب کرکے ڈراما لکھا، وہ ایک اور نجی چینل سے ”حیدر آباد جنکشن“ کے عنوان سے نشر ہوا، از حد مقبول ہوا۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں کہ ابنِ آس نے اس کہانی کو مجھ سے بہ تر انداز میں پیش کیا۔ گویا ”رفتار“ نہیں، ”فن“ میں بھی مجھ سے میلوں آگے ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں حسد میں مبتلا ہو جاتا، اور ہوا بھی۔ یہ اگلی سطریں اس بات کی گواہی دیں گی۔

”سو لفظی کہانی“ کی بنیاد کیسے پڑی، کیسے مبشر علی زیدی نے اس فن میں نام کمایا، یہ سبھی جانتے ہیں۔ نہ جانے کیوں ابنِ آس نے لفظوں کی گنتی کی ٹھانی! مانا کہ مختصر نویسی مشکل فن ہے، ایسے ہی جیسے منی ایچر پینٹنگ کی تکنیک؛ کاغذ پر زیادہ جگہ نہیں ہوتی، بڑے باریک اسٹروک لگانے پڑتے ہیں، کوئی اسٹروک رہ بھی جاتا ہوگا، کہ کاغذ پر جگہ نہیں بچتی؛ نہیں رہتا ہوگا کہ پہلے سے حساب کتاب کیا جاتا ہے۔ لیکن مجھے یہ احساس رہتا ہے، کہ خیال کو لفظ گن کر باندھنا ایسا ہی ہے، جیسے انکوبیٹر سے چوزہ نکالنا۔

انکوبیٹر سے چوزہ نکالنے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن لکھنے والا انکوبیٹر نہیں ہوتا، کہ چوزے کو جنم دے کر، مامتا سے محروم کردے۔ ایسا ہے کہ خالق ایک مرحلے پر اپنی تخلیق سے بے نیاز ہو جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے کا مرحلہ ہے کہ خیال کو سینچا جاتا ہے، اس سینچنے میں کبھی زیادہ تو کبھی کم مدت درکار ہوتی ہے۔ ناپ تول ہوتا ہے، کہیں زیادہ پڑتا ہے تو کہیں کم؛ ناپ تول میں گنتی کا شمار نہیں ہوتا کہ اتنے الفاظ ہو گئے اب بس کردیا جائے، اتنے الفاظ کم پڑتے ہیں، اتنے لفظ مزید لائے جائیں۔

پھر بھی یہ کہوں گا کہ ابنِ آس کی کچھ صد لفظی کہانیاں میری نظر سے گزری ہیں، ان میں سے زیادہ تر معیاری ہیں، چند ایک میری توجہ حاصل نہ کرسکیں، کہ وہ حالات حاضرہ کے گرد گھومتی ہیں؛ اخباری کالم کی جگہ پاتی ہیں۔ یہ تو ہوتا ہے، کہ ہر تحریر کو فن کی اعلا معراج کا درجہ نہیں ملتا؛ کون کَہ سکتا ہے کہ اس کا ہر کام شہ پارہ ہے! ابنِ آس کے یہاں اعلا پائے کی کہانیاں بھی ہیں۔ میں نے ان کی یہ چار کہانیاں منتخب کی ہیں؛ زرا دیکھیے تو۔

محض گھریلو عورت نہیں تھی، پروفیسر تھی۔ کالج کے بعد، گھر سنبھالتی، جھاڑو لگاتی، کھانا پکاتی؛ بچے پیدا کیے؛ زندگی دے ڈالی۔ شوہر کو کینسر ہوا، تو اس کے بیڈ سے لگ گئی، بیمار پڑگئی۔ شوہر کو ہوش آیا، وہ اپنی دوا لینے گئی تھی۔ واپس آئی تو شوہر نے نفرت سے دیکھا۔ ”میں مر رہا ہوں، تم گھومتی پھر رہی ہو؟ کیا کیا ہے تم میرے لیے زندگی میں؟“ وہ سناٹے میں آگئی۔ ایک فقرے میں تیس برس کی محنت پر جھاڑو پھر گئی تھی۔ ”خاک روب نکلے تم تو۔“ اُس نے سوچا، مگر بول نہ پائی۔

کوئی کہ سکتا ہے، یہ کہانی پرانی ہوگی؟ داستان گو محض کہانی نہیں سناتا؛ بعض اوقات عبرت کے واسطے نقش ابھار دیتا ہے۔ آج کی عورت پر دُہری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ایک طرف وہ گھر سے باہر کا کام دیکھتی ہے، تو دوسری طرف گھر کے کاموں سے بھی سبک دوش نہیں ہوئی۔ ”خاک روب نکلے تم تو“ اس ایک جملے میں سارا درد سمویا ہوا ہے، وہ جملہ جو کہا ہی نہیں گیا، کہانی کار نے اس ان کہی کو کہانی کردیا ہے۔ منتخب کہانیوں میں سے زرا یہ تجربہ دیکھیے۔

ویران سڑک پر دونوں آگے پیچھے چل رہے تھے۔ خاموش؛ بغیر کلام کیے۔ تب پیچھے والے نے آگے والے کو روک کر پتا پوچھا۔ آگے والے نے نظریں اٹھائیں۔ پیچھے والا اس کے شہر کا نہیں تھا۔
”تم کیا کر رہے ہو، میرے شہر میں؟ جاو! اپنے شہر میں جاکر مرو۔“
وہ بھونچکا رہ گیا، ”تم؟ تم مجھ سے نفرت کرتے ہو؟“
”نہیں“ پہلا بولا۔
”تو پھر تم نے ایسا کیوں‌ کہا؟“
”بات یہ ہے دوست، دوسرے شہر سے آنے والے سے نفرت کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ میں اس نفرت کا مزہ لے رہا تھا۔“

اس کہانی کی تفسیر کوئی ماہر نفسیات بہ تر انداز میں کر پائے گا۔ مجھ پر جو کیفیت طاری ہوئی، میں ویسے ہی مسکرا کے رہ گیا؛ جیسے ”آس“ کے ہجے پوچھتے، جواب ملا تھا، کہ ”ٹرپل اے؛ ‘آس’ لمبی ہوتی ہے۔“ ہم یہ آس لیے اگلی کہانی پڑھتے ہیں، کہ ایک دن ہم دوسرے شہر سے آئے ہووں سے محبت کرنے کا مزہ لینا سیکھ جائیں گے۔

ہیجڑوں کا اہم اجلاس جاری تھا۔
”ہم ملک کا نقشہ بدل دیں گے۔“ ایک نے کہا۔
”دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔“ دوسرا بولا۔
”ہاں ہاں ہم دہشت گردوں کی کمر توڑدیں گے۔“
”دہشت گرد کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، ہم کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔“
”مگر یہ آسان کام نہیں۔“ ایک ہیجڑا بولا۔
”کوئی مشکل بھی نہیں۔“ گرو نے کہا، ”آخر ہم حکومت میں ہیں، طاقت ہے ہمارے پاس۔“
”وہ تو ٹھیک ہے جناب۔ ایک بات کیوں‌ بھول رہے ہیں؟“
”کون سی بات؟“
”ہم حکومت میں‌ ضرور ہیں، لیکن ہیں تو ہیجڑے۔“

یہ المیہ ہے، کہ ہمارے حکم ران اس جگہ ناکام دکھائی دیتے ہیں، جہاں جرات مندانہ اقدام کرنے کا موقع ہو۔ فیصلے لینے میں تاخیر کرتے ہیں، یا تول میں کم نکلتے ہیں۔ ابن آس نے شعلہ بیانی کرتے حکم رانوں کی ناقص کارکردگی پر بہت گہری چوٹ لگائی ہے۔ حکم ران ہی کیا، ابنِ آس عامی پر بھی طنز کرنے سے باز نہیں آتے۔ یہ ٹکڑا ملاحظہ ہو۔

افطار کے بعد پارٹی تھی، سب دوست بنگلے پر جمع تھے۔ بروسٹ، چکن، تکا، مچھلی، شراب؛ سب نعمتیں تھیں۔کھانے ہی پر مذہب پر بات شروع ہوئی، اور بحث چھِڑگئی۔ مباحثہ؛ تکرار؛ دلیل؛ ذلیل؛ سب کچھ ہوتا رہا۔ نذیر سے برداشت نہ ہوا، ہتھے سے اُکھڑ گیا۔ غصے میں‌ اٹھا اور سلیم کو لاتوں، گھونسوں پر رکھ لیا۔
”سالے! بے غیرت! کتے کے بچے! خنزیر کی اولاد! جب مذہب کا پتا نہیں ہے، تو بولتا کیوں‌ ہے؟“
سلیم کو نکالنے کے بعد غصہ ٹھنڈا ہوا تو دوست سے بولا۔ ”چل یار دفع کر! شیطان تھا، سالا! تو بوتل کھول!“

اس کہانی پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ آئنہ سامنے رکھ دیا جائے، تو کوئی کیا بتائے کہ کیسی صورت ہے۔ یہ چند کہانیاں ابنِ آس کے حساس دل کو سمجھنے اور اس کی فن کاریوں کو جاننے کے لیے ناکافی ہیں۔ آخر میں، میں ابنِ آس سے یہ سوال ضرور کروں گا، کہ کیا وہ ان کہانیوں کو جنم دے کر تخلیقی وفور کے احساس سے گزرے؟ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ صد لفظوں میں لکھنے والا تخلیق کار نہیں‌ ہوتا، یہ کہانیاں‌ خود ان کی صلاحیت کی گواہی دیتی نظر آتی ہیں۔ ہم ٹیلے ویژن کے لیے لکھنے والے ”دورانیہ“ اور ”اقساط“ کے فریم میں قید ہوتے ہیں، لیکن ہمارا ”قید خانہ“ زرا بڑا ہوتا ہے؛ صد لفظ گننے کی مشق کیسی ہے، یہ ابنِ آس سے پوچھنا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 235 posts and counting.See all posts by zeffer-imran