سیاسی قائد سے ملنگ ہونے تک


wisi 2 babaگوالا بھی انسان ہی ہوتا ہے بلکہ پاکستانی بھی ہوتا ہے۔ اس کو کبھی سیاحت کی جو سوجھی تو کراچی جا پہنچا۔ سمندر دیکھنے گیا، دل پکڑ کر بیٹھ گیا۔ میزبانوں نے مالش کر کے طبعیت بحال کی۔ پوچھا کیا ہوا۔ گوالا بولا ہائے اتنا پانی ضائع ہو رہا ہے۔  آپ خوش ہو جائیں ہمارے سیاستدان بھی اسی گوالے کے بھائی ہیں۔ اتنا بھی خوش نہ ہوں کہ ہم سب بھی ایسے ہی ہیں۔

چلیں آپ کو ایک گپ سنااتے ہیں۔ یہ جو امریکہ ایران کی ڈیل ہوئی ہے۔ یہ زرداری صاحب نے کرائی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کسی صورت مان کے نہیں دے رہے تھے۔ زرداری صاحب نے ان سے علیحدگی میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں امریکہ شیطان بزرگ سے انسان بزرگ قرار پا گیا۔ زرداری صاحب نے ایرانی سپریم لیڈر کو بھی ویسے ہی راضی کیا جیسے کبھی اکبر بگٹی کو کیا تھا۔ قدموں میں بیٹھ کر اپنی زیادتیوں کا اقرار کیا، اپنا بزرگ مانا۔ حالات کی مجبوری بتائی، پانی تک پینے سے انکار کر دیا کہ پہلے میری بات مانیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کو ماننا ہی پڑا۔ باقی کی ایرانی قیادت پہلے ہی راضی تھی۔

اس ڈیل کے بدلے زرداری صاحب کو پانچ سونے سے بھری لانچیں تحفہ دی گئیں۔ خبر یوں لیک ہوئی کہ ایک لانچ کھلے سمندر میں خراب ہو گئی۔ سونے کو دوسری لانچ میں منتقل کرنا پڑا۔ بڑی طاقتوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ خبر لیک ہو گئی۔ اب آپ اسے اپنے تک ہی رکھئیے گا۔ سنجیدہ نہ ہوں یہ خبر صرف ایک جھوٹ ہے۔ خاص طور پر آپ کے لئے ابھی لکھتے ہوئے ہی گھڑی ہے۔

زرداری صاحب ایسی شاندار قسمت لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ آپ کوئی الزام ان پر لگائیں۔ ان پر نگینے کی طرح فٹ آتا ہے۔ ان پر کوئی الزام لگے، دل مانتا ہی نہیں کہ یہ جھوٹ بھی ہو سکتا ہے۔ جیالے بھی خیر سے ایسے ہی ہیں۔ دنیا جہان کے تھکڑ اور تھڑے ہوئے مساکین، زرا سی حکومت ملے تو پانچ دس روپئے کی ہیرا پھیری کرانے کے لئے بھی اپنے وزیروں کی گیدڑ کٹ بڑے شوق اور ہمت سے لگاتے ہیں۔

پی پی کے پاس اس وقت بھی سندھ حکومت ہے۔ کشمیر میں انہی کی حکومت تھی تھوڑا عرصہ پہلے تک۔ گلگت بلتستان میں بھی تھی۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ جہاں بھی الیکشن ہاریں، وجہ وہی کرپشن یا اس کے الزامات ہی ہوتے ہیں۔ ان الزامات کو دل سے الزامات ہی سمجھتا ہوں۔ جیالے ہماری نظر میں تب تک معصوم ہیں جب تک عدالت سے اپنے کرتوتوں پر مہر نہیں لگوا لیتے۔

پچھلی حکومت میں پی پی کے ایک لیڈر کو طعنہ دیا۔ آپ لوگ تو بڑے فوج مخالف ہوتے تھے۔ آج کل اتنے ہی آلو شوربہ ہو رہے ہیں۔ لیڈر صاحب نے اپنی ساری کمینگی مسکراہٹ میں جمع کر کے ارشاد کیا۔ ہم جس کی حمایت کریں وہ پھر عزت دار تھوڑی رہتا۔ بزتی میں ہمارا برابر کا شریک ہو جاتا ہے۔

جیالوں کی کرپشن ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ان پر کرپشن کے الزامات پر ساری قوم کا ہی ایمان ہوتا ہے۔ سب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ضرور کچھ کیا ہو گا۔ ان پیارے لوگوں کے بارے میں آپ کے میرے ہم سب کے اور جیالوں کے بارے میں یہ سب کچھ پڑھا کر اتنا کہنا ہے۔ کپتان نے کرپشن کے خلاف ایک زور دار تحریک چلائی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ اب اپنی تحریک پی پی کے قدموں میں رکھ دی ہے۔ دودھ کے تالاب کی حفاظت پر بیٹھی بلیوں کا سوچیں۔ صورتحال کا مزہ لیں۔

اس کو سیاست کہتے ہیں۔

کپتان اب جب کرپشن کی بات کرے گا۔ ساتھ کھڑے جیالوں کا ہاسا تو نکلے گا ہی۔ نون لیگ والے بھی ہنسیں گے۔ دل ٹوٹیں گے تو بیچارے برگر بچوں اور کپتانی کی سپورٹر آنٹی لوگوں کے۔ ان کا کیا ہے۔ وہ تو رونے کو تیار ہی رہتے ہیں۔ اچھے لوگ ہیں ۔ موسم خوشگوار ہو، پولیس تعاون پر آمادہ ہو، ڈی جے کا بندوبست ہو۔ کپتان کے مداح نچنے کو سوری انقلاب لانے کو تیار رہتے ہیں۔

نوازشریف قومی اسمبلی میں جب اپنا بور ببر قسم کا وضاحتی خطاب کر رہے تھے۔ کپتان بے تابی سے نوٹس لے رہا تھا۔ نہایت پھرتی سے اپنی تقریر کی سیٹنگ کر رہا تھا۔ وسی بابا کپتان کی ایک زوردار تقریر کے انتظار میں بیٹھا رہ گیا۔ دو تین منٹ میں خورشید شاہ نے اپنی بات کی۔ بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ حیران پریشان کپتان ڈھیلے قدموں سے مگرے مگرے (پیچھے) ہی باہر گیا۔ اپنا شناختی کارڈ دکھا کر کسی سے حیران پریشان والا لطیفہ سن ہی لیں۔

جب خورشید شاہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ شاہ محمود قریشی کھڑے تھے۔ دونوں کے پیچھے سے کپتان جھانک رہا تھا۔ آپ نے پیر دیکھے نہیں تو ان کی وارداتیں کبھی سنی تو ہوں گی۔ ان کے ملنگوں کا کوئی حال تو سنا یا دیکھا ہو گا۔ تبدیلی کے قائد سے ملنگ ہونے تک۔ یہ سفر عبرتناک ہے۔ خواجہ آصف نے خورشید شاہ کے پیروں کو ہاتھ اجلاس شروع ہوتے ہی لگا دیا تھا۔ پیر صاحب نے خوش ہو کر کپتان کے ارمان اور سیاست غتر بود کر کے رکھ دیے۔

kk
سیاست کے سینے میں دل اور آنکھ میں حیا نہیں ہوتی

سیاستدان اب انکاری ہیں۔ کرپشن کو ایشو ماننے اور اس ایشو کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے بھی انکاری ہیں۔ نوازشریف جب اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے۔ ان کا مخاطب نہ تو ممبران اسمبلی تھے۔ نہ وہ کوئی وضاحتی بیان دے رہے تھے۔ وہ اپنے ووٹروں سے مخاطب تھے۔ اپنے انہی ووٹروں سے بات کرتے ہوئے وہ کپتان کو جگتیں لگا رہے تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہماری عوام تصادم پسند ہے۔ تھلے لگا ہوا لیڈر انہیں پسند نہیں آتا۔ وہ اپنے لیڈر کو اپنے مخالفین پر گرجتا برستا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ لڑنے پر آمادہ ہیں، ان میں ماضی والا جوش اب باقی نہیں رہ گیا۔ ان کے مخالفوں کے لئے بری خبر یہ ہے کہ وہ اب ہوشمندی سے سرگرم ہوتے ہیں۔

تسلی رکھیں جیسی مرضی تحقیقات کر لیں۔ خلائی مخلوق کو بلا لیں۔ تحقیقات ہی کرنی ہیں نہ۔ گھٹ ہی کوئی سیاستدان اس میں پھنسا ہوا ملے گا۔ پھنس بھی گیا تو اس کا وارث اسی کا نامزد کردہ ہو گا۔ سیاستدان نہ الطاف حسین کو مجیب الرحمن بننے دیں گے۔ نہ کسی قانون یا اپنی سابق حماقتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوں گے۔ نہ ہی یہ اپنی رٹ سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ آپ بھلے خوشی منا لیں کہ افغان سفیر اسلام اباد کی بجائے اب پنڈی جاتا ہے۔

احتساب کا وہی سسٹم چل سکے گا جو سب فریق مل بیٹھ کر بنائیں گے۔ ایک دوسرے کا مسئلہ سمجھیں گے۔ سابق گناہوں سے درگزر کریں گے۔ آئندہ کے لئے ٹھیک ہوں گے۔ کرپشن بھی ایسا ہی ایشو بن کر رہ جائے گا جس کو لوگ سنجیدہ نہیں لیتے۔ جیسے کبھی الیکشن میں دھاندلی کا ایشو ہوتا تھا

سیاستدان دھاندلی کے بعد اب کرپشن کے الزامات کو بھی مذاق بنانے پر کپتان کے شکر گزار ہی رہیں گے۔ کپتان کو اب اپنی سیاست کا فوری جائزہ لینا ہے۔ اپنے لئے نیا لائحہ عمل ڈھونڈنا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں تاریخ کپتان کو توانائی، امید اور سیاسی امکان کے ایک عظیم نقصان کی صورت میں یاد رکھے گی۔


Comments

FB Login Required - comments