غارت ہوتی امیدوں پر دِلوں میں اُبلتا غصہ


ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے لئے عمران خان صاحب یقینابلھے شاہ کے بیان کردہ وہ جوگی ہوں گے جو ہماری اُمیدوں کی کوک سن کر پہاڑوں سے اُترآیا ہے۔ ان کے مداحین کی جانب سے 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں ان کی فتح کا جشن منانا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ تحریک انصاف کی پراپیگنڈہ فیکٹری کوخوشی ومسرت کے اس ماحول میں لیکن وہ بچگانہ کہانیاں گھڑنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں جن کے ذریعے ہمیں یہ گماں کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب جیسے ممالک بھی سرکاری سطح پر ان کی کامیابی کا جشن منارہے ہیں۔ برطانیہ نے اپنے ملک میں پاکستانی خزانے سے ”لوٹی“ رقوم سے خریدی جائیدادوں کی تفصیلات عمران حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حتیٰ کہ یورپین یونین بھی پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATFکی گرے لسٹ سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہورہی ہے۔

کئی بار اس کالم میں تفصیل کے ساتھ یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کی سیاسی اور معاشی ضروریات سے قطع نظر برطانیہ جیسے ممالک مجبور ہورہے ہیں کہ ان کے ہاں غیر ملکیوں کی جانب سے خریدی جائیدادوں کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدنے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ آف شور کمپنیاں ایسی جائیدادوں کے اصل مالکان کے ناموں کو خفیہ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

برطانوی ٹیکس گزاروں کا اصل شکوہ یہ تھا کہ ان کی جانب سے ادا شدہ رقوم جن ”غریب“ ممالک میں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے امداد کے نام پر خرچ ہوتی ہیں وہاں کی اشرافیہ نے ان ہی کے ملک میں قیمتی جائیدادیں خرید رکھی ہےں۔ یہ خریداری ثابت کرتی ہے کہ ان کی امداد کے مستحق گردانے ممالک اتنے بھی غریب نہیں۔ وسائل سے مالامال ہیں۔ ان ممالک کی حکومتیں مگر اپنی اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے اجتنا ب برتتی ہیں۔ حکمرانوں نے اپنے اختیارات کوکمیشن اور کک بیکس کے لئے استعمال کیا اور کرپشن کے ذریعے جمع ہوئی رقوم سے برطانیہ میں جائیدادیں خریدنا شروع کردیں۔ اس رحجان کی حوصلہ شکنی ہونا چاہیے تاکہ ”غریب“ ممالک اپنے ہاں ٹیکس کلچر متعارف کروانے پر مجبور ہوں۔ اپنے حکمرانوں کے مالی معاملات پر کڑی نگاہ رکھنے کی راہیں تلاش کریں۔

آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدی جائیدادوں کے خلاف یہ سوچ مگر پاکستان جیسے نسبتاً غریب ملکوں کی محبت میں نہیں ابھری ہے۔ اصل مقصد اس کا ترقی یافتہ ممالک کے ٹیکس گزاروں کو مطمئن کرنا ہے۔ جن کی اکثریت اب ”غریب“ ممالک کی ”امداد“ سے اُکتاچکی ہے۔ بریگزٹ وغیرہ کے ذریعے یورپی ممالک بلکہ یہ پیغام دے رہے ہیں ان کے ہاں بھی غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ وہاں مقیم تارکینِ وطن کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ وہاں کے سیاست دان اپنے ممالک میں ٹیکس کے ذریعے جمع ہوئی رقوم کو اول خویش بعد درویش کی بنیاد پر خرچ کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہماری پریشانیوں کا مداوا ان کا درد سر نہیں۔

عمران خان کے بجائے شہباز شریف کے قابو میں آئی پاکستان مسلم لیگ اگر 25 جولائی 2018 کے انتخابات جیت جاتی تو آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدی جائیدادوں کی تفصیلات اس کی دسترس میں بھی ہوتیں۔ یہ اہتمام فقط عمران حکومت کی آسانی کے لئے مختص نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی پراپیگنڈہ فیکٹری کو مگر اس حقیقت کی خبر نہیں۔ برطانوی سفیر کی عمران خان صاحب سے ملاقات کے بعد جو پریس ریلیز جاری ہوئی اس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش ہوئی کہ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم نے برطانوی حکومت کو ”قوم کی لوٹی ہوئی دولت“ ہمارے خزانے میں لوٹانے پر آمادہ کرلیا ہے۔

یہ پریس ریلیز جاری کرنے والے بقراط کو اس حقیقت کا احساس بھی نہیں ہوا کہ عمران خان صاحب نے ابھی تک وزارتِ عظمیٰ کا حلف نہیں اٹھایا ہے۔ کسی ملک کا سفیر ان دنوں 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں کامیاب ہوئی جماعت کے ”سربراہ“ کو مبارک دینے بنی گالہ جاتا ہے۔ سفارتی کتابوں میں یہ ملاقات ”غیر رسمی“ اور ”غیر سرکاری“ ہوتی ہے۔ اس ملاقات کے Notesنہیںلئے جاتے۔ فقط گپ شپ ہوتی ہے۔ ایسی ملاقاتوں میں وعدے بھی نہیں ہوتے۔ ان کا تاثر بھی دیا جائے تو ایسے وعدوں کی کوئی سرکاری اہمیت نہیں ہوتی۔ اسی باعث ایسی ملاقاتوں کے بعد Call Onکرنے والے سفیر کے دفتر سے کوئی رسمی بیان جاری نہیں ہوتا۔ کئی صورتوں میں جاری کرنا ضروری ہو بھی جائے تو اس میں نہایت نپے تلے الفاظ کے ساتھ مختصر ترین انداز میں ”خیرسگالی“ کا پیغام دیا جاتا ہے۔

برطانوی سفیر تو نسبتاً چھوٹی سطح کا ایک افسر ہے۔ عمران خان صاحب پاکستان کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد برطانوی وزیراعظم سے کسی رسمی یا سرکاری ملاقات میں بھی پاکستانیوں کی جانب سے برطانیہ میں خریدی جائیدادوں کا ذکر کریں گے تو وہ فوراً اس ضمن میں ہماری ”مدد“کا وعدہ کرے گی مگر اس شرط کے ساتھ کہ ”معاملے کو برطانوی قوانین کے مطابق “نمٹایا جائے گا۔
اہم بات لہذا وعدہ نہیں ”قانون“ ہوگا۔ برطانوی قانون نے آف شور کمپنیوں کو پابند کردیا ہے کہ وہ ان کے ذریعے خریدی جائیدادوں کے اصل مالکان کے نام ظاہر کریں۔ یہ نام برطانیہ کی رجسٹری میں موجود ہوںگے۔ کوئی بھی برطانوی شہری اس رجسٹری کو دیکھنے کاحق رکھتا ہے۔ حکومت ِ پاکستان بھی اس رجسٹری سے اپنی ضرورت کی معلومات حاصل کرنے کا حق استعمال کرسکتی ہے۔

فرض کریں ہم برطانوی رجسٹری کے ذریعے یہ معلومات کرلیتے ہیں کہ لندن کا فلاں پلازہ مثال کے طورپر نصرت جاوید کی ملکیت ہے۔ یہ معلوم ہوجائے اور میں بدستور پاکستان کا شہری ہوں۔ سالانہ ٹیکس کے گوشوارے جمع کرواتا ہوں تو ایف بی آر کو یہ معلوم کرنے کا حق مل جائے گا کہ مجھ سے معلوم کرے کہ میں نے وہ پلازہ کیسے اور کب خریدا اور اسے اپنے گوشواروں میں ظاہر کیوں نہیں کیا۔

مذکورہ پلازہ خریدنے کے بعد اگر میں برطانوی شہری بن کر وہیں مقیم ہوگیا تو ایف بی آر اس حق سے محروم ہوجائے گا۔ ایف بی آر فقط برطانوی حکومت کو یہ اطلاع دے گا کہ میں نے اس پلازے کے بارے میں اسے آگاہ نہیں کیا تھا۔ یہ اطلاع مل جانے کے بعد یہ فقط برطانوی حکومت کا حق ہے کہ وہ مجھ سے اگر مناسب سمجھے تو یہ معلوم کرے کہ میںنے وہ پلازہ کیسے خریدا تھا۔ میں اس ضمن میں برطانوی حکومت کو مطمئن نہ کرپایا تو اس پلازے کو بحقِ سرکار ضبط کرلیا جائے گا۔ اس کی نیلامی ہوگی اور نیلامی کے ذریعے آئی رقم پاکستانی خزانے میں نہیں بلکہ برطانوی خزانے میں جمع ہوگی۔ برطانیہ اور پاکستان کے مابین ایسا کوئی معاہدہ ہی موجود نہیں جس کی روسے برطانیہ یہ رقم پاکستانی خزانے میں جمع کرانے کاپابند ہے۔

سادہ لوح پاکستانیوں کو خدارا یہ کہانی بیچنے سے لہذا گریز کریں کہ مثال کے طورپر شریف خاندان سے منسوب ایون فیلڈ فلیٹس کی چابی بہت جلد پاکستانی حکومت کو ملنے والی ہے۔ ان فلیٹس کی نیلامی ہوگی اور اس کے ذریعے جمع ہوئی رقم پاکستانی خزانے میں جمع ہوجائے گی۔ Hype Buildingاگر Hope Buildingمیں بدل جائے تو بری طرح بیک فائر کرتی ہے۔ اُمیدیں غارت ہوجائیں تو دلوں میں غصہ اُبلنا شروع ہوجاتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں