تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا اتحاد کس کو فائدہ پہنچائے گا؟


سال 1987کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم اِنتخابات میں اَپنے رِوایتی اَنداز میںبڑی کامیابیاں حاصل نہیں کرسکی۔ شہری سندھ کی کوئی تین دہائیوں پر محیط اِنتخابی تاریخ کے تناظر میں یہ یقینا ایک غیر معمولی تبدیلی ہے۔ اَگرچہ اِس نئی صورتحال کے اَسباب کو کئی پہلوؤں سے پرکھا جاسکتا ہے لیکن پارٹی کی مقبولیت اوراثرو رسوخ کا گراف بلاشبہ 22اگست 2016کے دن رونما ہونے والے واقعات کے بعد سے ہی گرنا شروع ہو تا ہے۔ رَہی سہی کثرکامران ٹیسوری سمیت دیگرمعاملات پر اختلافات کے باعث ہونے والی دھڑے بندی نے پوری کردی۔ اِنتخابی نقطہ نظر سے 22اگست کے بعد مستقل طور پر خاموشی اختیار کرجانے والے روایتی ووٹرز اِس دھڑے بندی کے سبب مزید تذبذب کا شکار ہوتے رہے۔

پارٹی کے نستباً محدود ہوجانے والے وسائل اور غیر منظم انتخابی مہمات کے طفیل کسی بھی مدمقابل کوفائدہ پہنچنا اَگرچہ ایک فطری عمل تھالیکن حکومت سازی کے دوران پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی قیادت کا فوری طور پر رابطے میں آجانا اورباہمی تعاون پرمتفق ہونا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ سیاسی طور پرکراچی اور وَفاق کے درمیان براہ راست تعلق کی اہمیت پر پہلے بھی زور دیا جاتا رہا ہے لیکن شہر، صوبے اور مجموعی طور پر ملک کے موجودہ حالات میں شاید یہ ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کی منتخب حکومتوں کے ساتھ وَفاق اور صوبے میں ایم کیو ایم کے الحاق کی مایوس کن داستان بھی اِس نکتے پر قیاس اور تجزیات کا اہم سبب ہوسکتی ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایم کیو ایم کے لئے پی ٹی آئی کی متوقع حکومت سے الحاق ماضی کے تجربات سے مختلف ہوگا یا مجموعی طور پر اَب اِس کے بہتر اور دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات کی شدّت اگرچہ غیر معمولی رہی لیکن اِن روّیوں پر نظر ثانی اب ناگزیر ہے۔ پاکستان میں سیاسی اتحاد اور معاہدوں کی تاریخ خاصی طویل اور نتائج کے اعتبار سے ملی جلی ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں پر مشتمل یہ تاریخ بنیادی طور پر انتخابی نوعیت کے اتحاد، حکومت سازی کے غرض سے قائمکیے جانے والے اتحاد اور جمہوریت کی بحالی کے لئے عمل میں لائے جانے والے سیاسی معاہدوں پر مشتمل ہے۔ سال1965 میں ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاداس تاریخ کی پہلی بڑی مثال ہے۔ بعد اَزاں 1967میں اِسی تحریک کی بدولت نوابزادہ نصراللہ خان کی قیادت میں پاکستان ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ کہتے ہیں کہ 1970کے انتخابات کا انعقاد اِن ہی تحریکوں کا محاصل تھا۔

سال 1977کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو پر دھاندلی کے الزامات کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں کی پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم تلے جدوجہد اورپھر چندہی برسوں بعد، دائیں بازو کے ہم خیال رہ نماؤں کی تحریک بحالی جمہویت کے تحت مارشل لا کے خلاف محاذآرائی محض جزوی طور پر کامیاب رہیں۔ اِن متحرک پلیٹ فارمز کو مزاحمتی اِتحادبھی کہا جاسکتاہے۔

سال 1988کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن 1990میں یہ حکومت برخاست کردی گئی۔ پھر پاکستان مسلم لیگ سمیت کئی مخالف جماعتوں نے یکجا ہوکراسلامی جمہوری اتحاد کے انتخابی معاہدے کی بنیاد رکھی۔ سال 1990کے عام انتخابات میں اِس اتحاد کو کامیابی حاصل ہوئی اور نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ یہ حکومت بھی1993میں فارغ کردی گئی اور یوں اِسی سال انتخابات کے لئےپاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے ایک نیا انتخابی پلیٹ فارم تیار کیا گیا۔ اِس کے باجود پیپلز پارٹی انتخابات جیت کر بر سر اقتدار آگئی۔ لیکن 1996میں صدارتی مداخلت کے تحت اِس حکومت کی بے دخلی، 1997میں نواز شر یف کی قیادت میں مسلم لیگ کی کامیابی اور پھر اکتوبر 1999میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں نواز حکومت کے خاتمے کی صورت میں یہ سیاسی آنکھ مچولی جاری رہی۔

جنرل پرویز مشرف کے اِقتدار میں آنے سے قبل نوابزادہ نصراللہ خان کی قیاد ت میں 19جماعتوں پر مشتمل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی بنیاد رکھی گئی ؛ نواز شریف کو اِقتدار سے ہٹانا اِس اتحاد کا واحد ایجنڈا تھا! لیکن نواز شریف کو ہٹانے کا کام جنرل پرویز مشرف نے اِس اتحادکے تعاون کے بغیر ہی سر انجام دے دیا لہٰذا یہ پلیٹ فارم بھی غیر موثر ہوگیا۔ اَہم بات یہ کہ کم و بیش نو برسوں پر محیط سیاسی آنکھ مچولی کے اِس عجیب دور میں ایم کیو ایم 1988، 1990اور1997میں ہر نو منتخب حکومت کی اتحادی رہی لیکن ہر بار کسی نہ کسی نا اتفاقی کے باعث یہ جماعت حکومت سے علیحدہ ہوگئی۔ ایم کیو ایم نے بحیثیت اتحاد ی سال 2002 کے انتخابات میں منتخب ہونے والی قاف لیگ کے ساتھ پہلی بار پانچ سال پورےکیے۔

اِس وقت ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات بظاہر خوش اَسلوبی کے ساتھ آگے بڑھتے نظر آرہے ہیں لیکن اِس اتحاد کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں ابھی سے شروع ہوچکی ہیں۔ تاثر ہے کہ ماضی کے برعکس مستقبل میں جارحانہ سیاسی فیصلوں سے اِجتناب کرنے اور قومی دھارے میں شامل رہنے کو ترجیح دینے والی نئی ایم کیو ایم پی ٹی آئی کی متوقع حکومت کے لئے بحیثیت اتحادی زیادہ سود مند اورکہیں زیادہ قابل قبول ہوسکتی ہے۔

حکومت میں آکر پی ٹی آئی کے لئے بھی یقینا یہ سنہری موقع ہوگا کہ وہ شہر کراچی اور یہاں بسنے والوں کے حقوق کی بحالی کے لئے عمرا ن خان کے دیرینہ عزم کو پورا کرے اور شہرسے حاصل کردہ مینڈیٹ اور ایم کیو ایم سےکیے ہوئے معاہدے کودیرپا امن کے قیام، روز گار کے بہترمواقع اور ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کے ذریعے درست اور ناگزیر ثابت کردے۔ اگرچہ ایم کیو ایم کوحالیہ انتخابات کے نتائج پر تحفظات رہے ہیں لیکن اِنہی نتائج کے تحت شہر کے انتخابی میدان میں پی ایس پی اور دیگر نئے حریفوں سے نجات پارٹی کے لئے یقینا ایک غیر متوقع اور سود مند تبدیلی ہے۔

پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کو پائیدار رکھنے کے لئے ایم کیو ایم کے پاس قاف لیگ کے ساتھ پانچ برسوں پر محیط مضبوط اِتحاد کی مثبت مثال موجود ہے خاص بات یہ کہ قاف لیگ کے دور کی طرح اِس بار بھی برسر اقتدار پارٹی کے ساتھ دیرپا اتحاد کا خاطر خواہ کوئی طاقتور مخالف دُور تک موجود نہیں۔ شاید اِسی لئے ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نئی حکومت کے ساتھ اشتراک کے مستقبل سے خاصے پر اُمید ہیں۔ کہتے ہیں کہ، ”ہم نے تو ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے، یقینا اُنہوں نے بھی کچھ نہ کچھ تو سیکھ ہی لیا ہوگا۔ ‘‘
بشکریہ روزنامہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں