مڈل کلاسیوں کا کچھ حال احوال


مڈل کلاس ایک ایسی کلاس ہوتی ہے کہ جو کسی بھی ملک کی معیشت کو مستحکم اور متوازن رکھنے میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کیونکہ پیشہ ور ملازمین اور ٹیکس ادا کرنیوالے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسی کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کی مثال بالکل آلو کی سی ہے کہ جو ہمارے ہاں ہر موسم میں اور ہر علاقے میں بکثرت پائے جاتے ہیں بقلم خود تو ان کی کوئی خاص قدرومنزلت اور وقعت نہیں ہوتی مگر یہ ہر سبزی کا گہنہ اور مانگ کا سیندور ہو تے ہیں ان کے بغیر موصوفہ بیوہ ہو جائے، ان کا وجود معاشرے میں اتنا ضروری ہے جتنا خاندان میں پھپھو کا۔ بات سخن گسترانہ ہے چنانچہ کنایہ پر ہی گزارا کر لیجیے۔

اب کچھ سادھو لوگوں کے ذہن میں فوراً ایک بھونڈا سا سوال اٹھے گا اجی یہ مڈل کلاسیے ہوتے کیسے ہیں، کیسے دکھتے ہیں، کہاں پائے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو ملا حظہ فرمائیے اپنے تمام تر سوالات کا دُھلا ہوا جواب۔

محل وقوع :ملک بھر کے ہر شہر ہر بستی ہر قریہ میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے تحاشہ، بلا وجہ، بے تُکا اور بے حساب و بیشمار پائے جاتے ہیں۔

مزید نشانیاں: مہینے کے اوائل میں یہ عیش و تنعم کے ساتھ رہتے ہیں، ان دنوں میں یہ آپ کو اے ٹی ایم کی لائن میں لگے نظر آئیں گے، بازار میں سب سے اونچی مُنڈی اور کوہان انہیں کے ہوں گے، طبیعت میں اچانک چھچھورا پن عود آتا ہے نتیجتاً گنگناتے ہوئے نظر آئیں گے، خریداری کا یہ عالم کہ اس شاپنگ مال سے نکلے تو اس میں جا گھسے وہاں سے نکلے تو کہیں اور جا دھمکے، یہ راشن لیا جارہا ہے، بیگم گواچی گاں کی طرح کپڑے والی دکان سے جو نکلی تو جوتوں والے کے درپے ہوگئی ادھر سے جو نکالا تو منیاری والے کی طرف لپک گئیں، گویا مالِ مفت دل بے رحم والی مصداق غالب آئے، بل اتارے جا رہے ہیں، بچوں کے واجبات ادا کیے جارہے ہیں گویا آج یہ حاتم طائی 2 بنے پڑے ہیں۔

مگر رکیے، ٹھہریے فلم کا ڈراپ سین بھی دیکھتے جائیے! وہ کہتے ہیں نا کہ ’چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ’ مہینے کے آخر میں یہ ایسے عزلت گزیں اور مردم بیزار ہو جاتے ہیں کہ گلی کوچوں میں یوں گھومتے نظر آئیں گے گویا یادداشت کھو گئی ہو، تمام شوخی و بانکپن رفع ہو جاتا ہے، اندر کا گلوکار گم گشتہ و لب بستہ و گنگ ہو جاتا ہے اور ہاتھوں سے بالکل ایسے ہی خالی ہوبیٹھتے ہیں جیسے دُنیا میں آئے تھے، چال ڈھال میں بلا کی متانت، شرافت، انکساری اُمڈ آتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کسی تبلیغی جماعت کے امیر ہیں۔ اپنی اسی معصومیت کے بل بوتے پر یہ ان دکانداروں سے بھی ادھار سودا سلف مار لاتے ہیں جنہوں نے اپنی دکان کے نام سے بڑا بورڈ یہ لکھ کر آویزاں کیا ہوتا ہے‘ اُدھار محبت کی قینچی ہے‘ یا ’اُدھار مانگ کر شرمندہ مت کریں‘

ملنے کا پتہ؛

ملنے کا پتہ یہ ہے کہ جب بھی کبھی آپ کا گزر کسی گلی محلے سے ہو تو جس گھر کی دہلیز پر اخبارات کا ایک پلندہ پڑا جمائیاں لے رہا ہو یا جس گھر کے سامنے کوئی سائیکل موٹر کسی گیس پائپ کے ساتھ بذریعہ لاک بغل گیر ہو یا کوئی صاحب اپنی قسطوں والی بوسیدہ مہران کو مانجھ رہے ہوں یا بجلی کے میٹر کو گومگو کی حالت میں دیکھ رہے ہوں اور گھر کے باہرایک عدد گھسی ہوئی گھنٹی جو کہ غالب امکان یہی ہے کہ معدوم و بیزار حیات ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں برقی رو دوڑ رہی ہو اور اس کو چھونے پر آپ کی جو چیخ برآمد ہو وہی ان کے کے لئے گھنٹی کاکام دے اور مابدولت بڑی طمانت کے ساتھ باہر برآمد ہوں۔ اسی گھنٹی کی بغل میں نام والی تختی کے اوپر نام کے ساتھ جلی حروف میں ڈاکٹر، وکیل، انجینئیر، پاک فوج یا پروفیسر درج ہو گا۔

کھانا:

جیسے چینی لوگ ہر سال کو کسی نام کے ساتھ منسوب کرتے ہیں اسی طرح کھانے کے اعتبار سے بھی ان کے ہاں مہینے کے تمام ہفتوں کے نام کچھ یوں ہوتے ہیں۔
پہلے ہفتے میں بڑے زوروں سے ’باہر کے کھانوں‘ سے گلچھرے اڑائے جاتے ہیں۔
دوسرے ہفتے میں ذرا زور کم ہوتا ہے تو ’مٹن، بیف اور بریانیوں‘ کے دور چل نکتے ہیں۔

تیسرے ہفتے میں ککڑ شریف کو ’مختلف سبزیوں‘ کے ساتھ یکے بعد دیگرے عقد نکاح میں باندھا جاتا ہے۔
جبکہ آخری ہفتے میں ایسا غدر پڑتا ہے کہ حالات از حد جانکاہ ہو جاتے ہیں اور ’دال دال‘ کا ورد پکایا جاتا ہے۔

ایک مہمان کی ستم ظریفی کہ وہ ایسے صاحب کے گھر عین آخری ہفتے میں وارد ہوئے اور کسی وجہ س یہ دورانیہ طوالت پکڑ گیا ایک دن کھانے کی میز پر یونہی بیٹھے بیٹھے میزبان نے ازراہِ معلومات چاند کی تاریخ دریافت کی، ادھر مہمان تو دال کو دیکھ کر جلے بھنے بیٹھے تھے جھینپتے ہوئے بولے اجی صاحب چاند کی تاریخ کا تو معلوم نہیں مگر دال کی آج سات تاریخ ہو گئی ہے‘ یہ کمبخت ہفتہ ایسا منحوس ہوتا ہے کہ اگر اس ہفتے میں یہ اپنے طوطے سے بھی ہوچھ لیں کہ میاں مٹھو چوری کھانی تو وہ بھی جھلا کر بولے گا، ‘کیوں مرچیں ختم ہو گئی ہیں ’

خیر یہ بھی ’ ہر رنج رفتنی ہے اور ہر عیش گزشتنی‘ کا خیال دل میں رکھے یہ ابھاگن گھڑیاں گزارتے ہیں۔ اور کیلنڈر پر نظریں جمائے زیرِ لب و زیرِ قلب تاریخوں کو برق پا رہتے ہوئے اپنی محبوب( یکم تاریخ )کو یوں مدعو کرتے ہیں کہ

قاصد! پیام شوق کو اتنا نہ کر طویل
کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

زبان:

زبا ن کے معاملے میں یہ انتہائی محروم ثابت ہوتے ہیں۔ نہ اردو میں وہ روانی رہتی ہے نہ اپنی مادری زبان پہ گرفت اور انگریزی تو ایسی کہ ساری زندگی کی بھی اکٹھی کرلیں تو بمشکل ساڑھے تین یا چار منٹ کی بول پائیں اس کے بعد ان کی تھوتھنی سے انگریزی کم اور آآ، ای ای، ریں ریں اور روں روں کی آوازیں زیادہ نکلتی ہیں۔ زبان سے یاد آیا اس اسے پہلے کہ کوئی مڈل کلاسیا مجھے آ لے اپنے توسنِ خطابت کو لگام کھینچے دیتے ہیں۔ اور بوریا بستر گول کر تے ہیں۔ غالب کی ان الفاظ کے ساتھ

مہرباں ہو کہ بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں