نئے اور پرانے پاکستان میں فرق


ستر سال بعد پرانے پاکستان کے اندر ہی نئے پاکستان کے از سر نو قیام کے چرچے ہیں۔ یار لوگ استفسارکرتے ہیں کہ آیا کسی پرانی چیز کو نیا بنایا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟ پرانی چیزوں کو نیا بنانے کے لیے جو بھی طریقے اختیار کیے جائیں گے کیا وہ سب ملمع سازی، تصنع، بناوٹ اور ظاہری ٹیپ ٹاپ پرمشتمل نہیں ہوں گے؟ ہمارے ہاں نئے اور پرانے چراغوں کے حوالے سے بہت بحث ہوتی ہے۔ جب کوئی نیا چراغ جلایا جاتا ہے تو پہلے پرانے چراغوں کو بجھایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر دور میں نئے چراغوں نے پرانے چراغوں کو یوں للکارا ہے۔ نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے۔ ہم نئے اور پرانے پاکستان کا موازنہ کر رہے تھے۔ پرانا پاکستان تو خالص جمہوری اور سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود پذیر ہوا تھا جب کہ نئے پاکستان کی بنیادوں میں سنا ہے ”خلائی مخلوق“کے ساتھ ساتھ بابا رحمتے کی ٹیم کا بھی ہاتھ ہے۔ پراناپاکستان ووٹ سے بنا تھا مگر نئے پاکستان میں ووٹ کے علاوہ ”نوٹ“ کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ہمارے گھر میں کوئی نئی چیز آتی ہے تو ہم پرانی چیزوں کو بیچ دیتے ہیں یا خیرات کر دیتے ہیں۔ یہ سوچ سوچ کر ہم ہلکان ہو رہے ہیں کہ نئے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پرانے پاکستان کا کیا ہو گا؟ پرانے پاکستان میں تو ہزاروں شہیدوں کا لہو شامل تھا اور نئے پاکستان کی بنیاد میں کچھ ”غازیوں“کا کردار بھی ہے۔ پرانے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم، قومی ترانہ اور کرنسی بھی تبدیل کی جائے گی؟ مہاجرین کا مسئلہ، اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کا قضیہ، پانی کا مسئلہ اور مسئلہ کشمیر پرانے پاکستان کے چند اہم ابتدائی ایشوز تھے جب کہ نئے پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں وزارتوں اور عہدوں کی تشکیل و تقسیم بنیادی بات ہے۔

نئے پاکستان والوں کویہ وضاحت بھی کرنا چاہیے کہ 25 جولائی کو نیا پاکستان بن گیا یا بننا شروع ہوا؟ کیونکہ کسی ملک، تہذیب یا قوم کی تعمیر میں بعض اوقات صدیاں لگ جاتی ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان اسی دن بن گیا تھا یعنی بننا شروع ہو گیا تھا جس دن پہلے مسلما ن نے برصغیر میں قدم رکھا تھا۔ کچھ مؤرخ قیام پاکستان کی شروعات کو ہندوستان میں محمد بن قاسم کی آمد سے جوڑتے ہیں۔ اگر اس طرز استدلال کو درست تسلیم کر لیا جائے تو نئے پاکستان کی مکمل تعمیر میں ابھی صدیوں کی جانکاہ محنت حائل ہے۔

قائد اعظم کی جیب کے کھوٹے سکوں نے پرانے پاکستان کی منزل کو کھوٹا کیا تھا، نئے پاکستان کی تعمیر میں بھان متی کا کنبہ مصروف ہے۔ اب دیکھتے ہیں یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے؟ بہرحال ایک خلقت نئے پاکستان کے ”بانی“سے بے شمار امیدیں وابستہ کر کے بیٹھی ہے دیکھتے ہیں ان امیدوں کا کیا بنتا ہے؟ خوابوں کے سوداگروں نے کچھ ایسے سہانے خواب دکھائے ہیں کہ پاکستان کی مثالی ترقی اورخوش حالی کے جلو میں لوگ پوری دنیا سے بیروزگاروں کو جوق در جوق وطن عزیز میں آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ پرانا پاکستان تو وسیع ہندوستان کے ٹوٹنے پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا، نیا پاکستان بنانے کے لیے تو کسی خطے کو آنگن کی طرح تقسیم نہیں کرنا پڑے گا؟ چلتے چلتے ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سناتے ہیں۔

نئے پاکستان کے ایک پرانے گھر کے چھوٹے سے ٹوٹے پھوٹے اور بوسیدہ کمرے سے کئی عارضوں میں جکڑے ہوئے عمررسیدہ پرانے پاکستانی نے طویل اور صبر آزما کھانسی کے دورے کے بعد انتہائی نڈھال اور نحیف آواز میں ملتجیانہ انداز میں کہا کہ ”بیٹا!دو دن سے میری دوائی ختم ہوئی ہے، آج گھر واپسی پر ضرور لیتے آنا ورنہ چند گھڑیوں کی نیند سے بھی محروم ہو جاؤں گا۔ “جواب میں نئے پاکستان کے پر آسائش اور آرام دہ کمرے کے کونے سے نئے پاکستان کے بانیوں میں سے ایک نے قریب قریب جھنجھلاہٹ اور کرختگی سے کہا کہ ”بابا!آج نئے پاکستان کی تعمیر کی خوشی میں ساری رات جشن طرب منایا جائے گا، میں تو کہیں صبح کے وقت آؤں گا“ اس کے بعد باہر موٹر سائکل سٹارت ہونے کی آواز آئی اور بابا جی کو ایک اور کھانسی کا جان لیوا دورہ پڑا۔ مجھے نئے اور پرانے پاکستان میں ایک واضح فرق تو اسی وقت نظرآ گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

پروفیسر نعیم اختر کی دیگر تحریریں
پروفیسر نعیم اختر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں