بیٹا نہ دیجئو


زمانہ نیا ہو یا پرانا رسمیں روایتیں اور ان کی بدصورتیاں ہمارے خون میں رچ بس گئی ہیں چاہ کربھی جان چھڑانا ناممکن لگتا ہے۔ اور جس گھر میں بیٹی جوان ہوجائے اورجہیز جوڑنے کےلئےپیسے تک نہ ہوں۔ جہاں کبھی ماں کی سسکیاں دبتی ہیں تو کبھی بیٹی کی آرزوئیں اور کبھی باپ کا حوصلہ۔ فضل دین کے گھر کے حالات بہت کشیدہ تھے چار بیٹیوں کا بوجھ سر پہ اور جہاں کھانے کے لالے پڑے ہوں وہاں جہیز کے جوڑنے کیا معنی۔ اس کی چاروں بیٹیاں بے حد خوبصورت تھی اور اس وجہ سے رشتے تو بچپن سے ہی آنا شروع ہوگئے تھے مگر جہیز پہ آکے بات رک جاتی۔ ادھر دونوں میاں بیوی کی ایک ہی پریشانی تھی کہ کسی طرح بیٹیاں گھروں کی ہوجائیں۔ چھوٹی دو پڑھ رہی تھیں جبکہ بڑی دو بی اے کے بعد پڑھائی کو خیر باد کرکے رشتے کے انتظار میں گھر بیٹھ گئیں غریب باپ کی خودداری برداشت نہ کرسکی کہ اس کی بچیاں قصبے کے سکولوں میں ٹیچری کرکے دھکے کھائیں پر وقت وقت کی بات ہے آہستہ آہستہ بچیوں اور ماں نے مل اسے قائل کر ہی لیا۔

بڑی کا رشتہ ہوگیا لوگ اچھے تھے اس لئے فضل نے زیادہ تامل نہیں کیا اور پہلے سے طلاق شدہ لڑکے سے بیٹی بیاہنے کی تیاریوں میں لگ گیا، یہ ہمارے معاشرے کا رواج ہے کہ طلاق کی صورت میں صرف لڑکی کے کردار پر کیچڑ اچھالاجاتا ہے اور لڑکے کےکرتوت کوئی نہیں دیکھتا نہ جاننے کی کوشش کرتا ہے جس کا خمیازہ اس کی زندگی میں آنے والی دوسری عورت کو بھگتنا پڑتا ہے پر کاش والدین ہی ایک طلاق شدہ لڑکے سے شادی کرنے سے پہلے سوچ لیں پرمرد تو چار شادیاں تک کر سکتا ہے سو ایک طلاق میں کیا برائی۔

ہر شادی شروع میں بڑی رنگین اور خوبصورت ہوتی ہے اور بعد میں بوسیدہ رضائی کی طرح دھنکی ہوئی، استعمال شدہ۔ موسموں اور رویوں کی بساند اپنے اندر سموتی ہوئی تو کبھی آنسوؤں سے بھیگتی ہوئی مگر پھر بھی یہ رضائی کی طرح بہت سی بدصورتیاں، زیادتیوں کو اپنے اندر سموتی اور ڈھانپتی چلی جاتی ہے۔ عالیہ کے ہاں اوپر تلے چار بیٹیاں ہو گئیں کچھ تو لاپرواہی اور کچھ بیٹے کی خواہش اور پھر بیٹا نہ دے سکنے کے طعنوں اور غصے میں کوئی بھی اس کا اور اس کی صحت کا خیال نہیں رکھتا تھا یہاں تک کہ وہ خود بھی نہیں۔ بچیوں کی پیدائش میں وقفہ بہت کم تھا سو سب چھوٹی چھوٹی تھیں ان سب کو سنبھالتے سنبھالتے وہ خود ادھ موئی ہونے لگتی تھی اور غضب تو جب ہوا جب وہ پانچویں بار پھر امید سے تھی اور اس سے بڑا غضب یہ کہ جب ساس کے زبردستی لے جانے پر الٹراساؤنڈ کرانے پر پتہ چلا کہ اس بار پھر بیٹی ہے

اس پر تو قیامت ٹوٹی ہی تھی کہ ایک اور ننھی جان اس کے صحن میں باپ کی گالیاں اور دادی کی جوتیاں کھانے کے لئے آنے والی ہے۔ پر اس کی ساس نے تو صحن میں بیٹھ کر جھولی اٹھا اٹھا کر بین ڈالنے شروع کر دیے“ ہائے میرے بچے پر پانچ پانچ لڑکیوں کا بوجھ، ہائے کدھر کو ہانکے گا وہ ان مصیبتوں کو“ اور پھر پے در پت جوتیاں مار مار کے صحن میں کھیلتی بچیوں کو باری باری اندر ڈر سے ہانپتی کانپتی ماں کے پاس دھکیل دیا ” امی ہم تو بس چار جونکیں ہیں پھر دادی آج پانچ کیوں بول رہی ہیں“ معصوم سی ردا کو پتہ تھا کہ وہ چاروں بہنیں اس کے پاپ کو چمٹی ہوئی جونکیں ہیں۔ اس نے ردا کو زور سے بھینچ لیا اور خود بھی زور زور سے رو پڑی اس قیامت کا سوچ کر جو شام میں اس کے شوہر کے آنے پر مچنے والی ہے وہ دھاڑے گامارے گا اسے بھی بچیوں کو بھی۔

وہ رورہی تھی کانپ رہی تھی اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر اس نے اپنے ہاتھ سے ایسا کیا کیا ہے جو اسے اس جرم کی پاداش میں سزابھگتنی ہے اس سے تو نہ اس کے شوہر نے پوچھا تھا نہ خدا نے کہ تمھاری کوکھ ہری کر دوں؟ جب اس کی مرضی اس کی منشا سے ہوا ہی کچھ نہیں تو پھر یہ ساری گالم گلوچ، بددعائیں اور مار کٹائی اس کی کیوں؟ یہ کیوں اور پٹنے کا خوف نہ صرف اپنا بلکہ ساتھ میں بچیوں کے پٹنے کا خوف بھی اک اک لمحہ اسے قبر میں اتارتے رہے پھر بھی وہ قبر میں نہ اتری۔ وہ چاہتی تھی کہ آج کا دن بہ ڈھلے تپتے صحن میں زور زور سے تپڑی لگاتے ہوئے وہ دعائیں کرتی رہی کہ کاش اس کا حمل ضائع ہوجائے یہ بچی جنم نہ لے اس وقت یہ بچی اسے اپنی اور اپنی چاروں بیٹیوں کی دشمن لگ رہی تھی پر اندر سے مامتا کی ہوک چیخ مارتی تو وہ تڑپ جاتی یہ جو بنا قصور کے سزا اس کے جسم سے لگ گئی ہے وہ اس کے اپنے جسم کا حصہ ہے مامتا تمام تر خود غرضیوں پہ حاوی آگئی

پر اس وقت اس کی مامتا کا خون ہوگیا جب شام میں نادر نے گالیوں سے لے کر دھکوں کے ساتھ صرف ایک ہی اعلان کیا کہ وہ اس بچی کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کرا دیں گے۔ صحن میں بیٹھی اس کی ماں نے نادر کے سامنے یہی بین ڈالا تھا اور یہ بین عالیہ کی جھولی میں آکے گرگیا تھا اس نے نادر کی منتیں کیں ساس کے پیر پکڑے کہ وہ سکول میں نوکری کر کے اپنی بچیوں کو پال لے گی مگر وہ یہ ظلم نہیں کرسکتی ایک ننھی جان کو دنیا میں آنے سے پہلے وہ ختم نہیں کر سکتی پر اس کی ایک نہ سنی گئی بچیاں گھر میں یہ واویلا دیکھ کر روئے جارہی تھیں باپ اور دادی نے انھیں پیٹ کر گلی میں نکال دیا اور بند کمرے میں جہاں ہمیشہ اس نے غلامی ہی کی تھی کبھی پیاس بجھا کر کبھی ماریں کھا کر آج پھر اس کی چیخیں دب گئیں سوائے ساس کے کسی نےنہ سنیں جو اس کی ہر آہ پر ”اور مار اور مار ” کہہ کے دانت پیستی اور بین کرتی جاتی

رات تکلیف کی تھی بہت تکلیف کی اتنی تکلیف اسے کبھی بھی نہ ہوئی چاہے وہ کیسے بھی دھنکی گئی ایسی تکلیف اس پہ کبھی نہیں ٹوٹی تھی۔ یہ دوہری تکلیف اور پھر آنے والی قیامت کا خوف۔ بچیوں کو پتہ تھا آج کی رات ماں نہیں مل سکتی۔ دروازہ بند تھا وہ ڈری سہمی دبک کے دادی کے کمرے میں پڑی چارپائی پر ہی آگے پیچھے لگ کے سوگئیں رات ہی تو گزارنی تھی ان کے ننھےدل دعائیں کر رہے تھے کہ رات گزرجائے جلدی سے۔ ادھر عالیہ کی ممتا دھاڑیں مار مار اپنے اندر مررہی تھی کہ آج کی رات نہ گزرے

اور صبح لال آنکھیں اور جگہ جگہ نیل زدہ جسم اور چہرہ لئے اٹھنا مشکل ہورہا تھا نادر تیار کھڑا تھا جیسے کوئی موت کا فرشتہ سرہانے آکے کھڑا ہوجاتا ہے پھر جتنا مرضی تڑپو موت برحق ہے اور موت برحق ہی تھی اس کی کوکھ میں پلتی ننھی جان کی بس خدا زمینی تھا اس کا اپنا باپ۔ وہ پتھر سے بھاری وجود اٹھا نہیں پارہی تھی مگر تین بول کے ساتھ پانچ بیٹیاں بوڑھے باپ کے گھر لے کے جانے سے بہترتھا کہ ایک بیٹی قبر میں بھیج دے وہاں تو آسمانی خدا ہوگا نا جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے پر دل کدھر راضی ہورہا تھا

گالیوں، بین اور مار کٹائی، طلاق کی دھمکی، زمانے کی رسوائی، ایک بے سہارہ عورت ہمیشہ بے سہارہ ہی رہتی ہے وہ چھت کے پنکھے کو گھورتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ زمین پر خداؤں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کی ساس، شوہر، یہ گلی محلے میں کھلے ہوئے چھوٹے موٹے کلینک، یہ پیسے لے کر قتل کرنے والی ڈاکٹرنیاں، نرسیں، دائیاں۔ یہ سب قاتل تھے اس کی بچی کے۔ اور وہ خود۔ اس کی تو ایک نہ سنی گئی وہ پیدا کرنے والی کوکھ قاتل کیسے ہوسکتی ہے پھر اس کے ضمیر نے جھنجھوڑا کہ شروع میں تو وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ یہ حمل ختم ہوجائے کیوں یہ جھنجھٹ اس کی زندگی میں آرہی ہے اور ایک کمزور عورت کی طرح اس نے اسے اپنی نحوست قرار دے دیا کہ ساری نحوست اس کی اسی سوچ کی تھی اس نے توبہ کی اللہ سے معافی مانگی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر شرمندہ ہوئی، روئی، گڑگڑائی۔ اپنے رب سے خوب لاڈ کیے کہ آئندہ ایسی ناشکروں والی سوچ کبھی دل میں نہیں لائے گی۔ پر پتھرائی آنکھوں ویرانی اور جسمانی کمزوری اس کی کان نہیں چھوڑ کے دے رہی تھی۔ اماں اسے اچھی خوراک کھانے کو بولتی اور ساس اس کے منہ کا نوالہ تک چھیننے کے درپے ہوجاتی۔ ”تونے کونسا بیٹا پیدا کرنا ہے جو گھر کا سارا راشن ختم کرنے کے در پہ ہوگئی ہے اس کی ساس کا بس چلتا تو اسے اور اس کی بیٹیوں کو بھوکا مار دیتی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں