جہانگیر ترین کی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس


ہمارے ساتھ کے پرانے لوگوں کو یاد ہو گا کہ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی ذمہ داری حکومت کی ہوا کرتی تھی۔ نہ صرف شہروں میں اربن ٹرانسپورٹ سروس کی بسیں چلا کرتی تھیں بلکہ ایک شہر سے دوسرے تک جانے کی سب سے بہترین سروس سرکاری بسیں فراہم کیا کرتی تھیں۔ ان بسوں کو عرف عام میں جی ٹی ایس کہا جاتا تھا جو گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا مخفف ہے۔ پھر وقت بدلا، سرکار نے عوام سے تعلیم اور صحت کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی چھین لی۔ ایک طرف ریلوے کو نیم مردہ کر کے مسافروں کو نجی کمپنیوں کے سپرد کر دیا گیا اور دوسری طرف جی ٹی ایس کی بسوں کو بیچ کھایا گیا۔

جی ٹی ایس اپنے زمانے میں بہت اعلی درجے کی بس سروس سمجھی جاتی تھی۔ نجی بسوں سے کہیں زیادہ آرام دہ بسیں جو وقت پر چلتی تھیں اور سفر کم وقت میں طے کیا کرتی تھیں۔ پورے ملک میں ان کا جال بچھا ہوا تھا۔ پشاور سے پنڈی جانا ہو یا ملتان سے لاہور، شرفا کی پہلی ترجیح ریل اور دوسری جی ٹی ایس ہوا کرتی تھی۔ پھر اس بہترین سرکاری سروس کو بھی نظر لگ گئی۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس نہ رہی۔

اب ہمیں خبریں مل رہی ہیں کہ نئے پاکستان میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس پہلے سے بھی کہیں زیادہ بہتر انداز میں دوبارہ کام کرتی دیکھی گئی ہے۔ یہ سروس ملتان اور پشاور سے سواریاں اٹھاتی ہے اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کر کے اسلام آباد اور لاہور لے آتی ہے۔ نئے پاکستان میں ابھی اس کو غالباً تجرباتی بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے کیونکہ فی الحال محدود سیٹوں کی وجہ سے چند گنے چنے افراد کو ہی اس میں سفر کرایا جا رہا ہے۔ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی اس بہترین اڑان کے سبب ہی نہ صرف نیا پاکستان بلکہ نیا پنجاب بھی بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ سروس اتنی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ جہانگیر ترین نے اسے چلانے کی ذمہ داری خود اٹھائی ہوئی ہے۔ بلکہ چلانے کی کیا، اڑانے کی کہیے۔ جہانگیر ترین کی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس میں فی الحال صرف ایک ہی جہاز موجود ہے جو ملک کے گوشے گوشے سے بھٹکے ہوئے آزاد رو مسافروں کو ان کی طے کردہ منزل کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ یہی مسافر نئے پاکستان کی نئی گورنمنٹ بنانے کے پراجیکٹ میں چونے اور روڑوں کا کردار ادا کریں گے تاکہ تعمیر خوب پختہ ہو۔ کپتان جہانگیر ترین نہ صرف خود مسافروں کی خبر گیری کرتے ہیں بلکہ ان کو صحیح گھر تک چھوڑ کر آنا بھی اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔

گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کے ذریعے گورنمنٹ بنانے کا یہ پائلٹ پروگرام کامیابی سے مکمل ہوتا ہے اور جہانگیر ترین کا جہاز فارغ ہوتا ہے تو ہم یہی امید کرتے ہیں کہ دو نہیں ایک پاکستان کے ماٹو پر چلنے والی یہ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس دوبارہ ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک اپنا فیض عام کرے گی اور مسافروں کی جان دوسرے ٹرانسپورٹروں کی بدمعاشی سے بھی چھوٹ جائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1036 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar