راولپنڈی کے ہسپتال اور جان لیوا بیماریاں پھیلانے والا طبی فضلہ


دنیا بھر میں ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ کا قانون اور ایک طریقہ کار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں نہ ہی کوئی قانون ہے اور اگر ہوتا بھی تو اس پر عملدرآمد سب سے بڑا مسئلہ ہوتا۔ دنیا بھر میں طبی فضلہ کو تلف کرنے کے مختلف طریقے رائج ہیں لیکن راولپنڈی میں طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے ماسوائے دو اداروں کے جن میں ہولی فیملی ہسپتال اور این سی پی سی میں فضلہ تلف کرنے کے پلانٹ موجود ہیں جس کی ہم مثال پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر سرکاری اور نجی ہسپتال اور گلی محلوں میں موجود کلینکس میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

اس کاروبار میں ہسپتالوں کی مینجمنٹ اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے افراد ملوث ہیں اور بہت سے ایسے ہسپتال بھی موجود ہیں جن میں انسینی ریٹر(INCENIRATOR)موجود ہی نہیں یا خراب ہے اور اس صورتحال کا فائدہ کرپٹ مینجمنٹ اٹھا رہی ہے مضر صحت خام مال سے بننے والے سامان سے ایڈز، ہیپاٹائٹس بی، سی اور خون کی بیماریاں پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اسی طرح راولپنڈی میں سرکاری چار بڑے ہسپتالوں سمیت شہر راولپنڈی کے ہزاروں نجی ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور گلی محلوں میں قائم نرسنگ ہومز اور کلینکس میں روزانہ سینکڑوں کلو گرام استعمال شدہ سرنجیں، بلڈ اور یورین بیگ میڈیکل ڈیوائسس سمیت انتہائی آلودہ فضلہ اکھٹا ہوتا ہے اس فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔

اس فضلے کی اگر روزانہ کی بنیاد پر اوسط نکالی جائے تو بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق ایک سرکاری ہسپتال میں روزانہ اوسطا آدھ کلو سے چار کلو گرام فی بیڈ کے حساب سے فضلہ نکلتا ہے۔ جبکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں اس فضلے کی اوسط مقدار آدھ کلو سے دو کلو گرام ہے۔ اس طرح نرسنگ ہوم سے اوسطا آدھ کلو سے دو کلو گرام تک طبی فضلہ نکلتا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیکٹریاں غیر قانونی طور پر ہسپتالوں میں استعمال شدہ سرنج وبلڈ و ریورین بیگ گلوکوز ڈرپ استعمال شدہ میڈیکل ڈیوائسس سے پلاسٹک بنانے کا خام مال تیار کرنے میں ملوث ہیں۔

قانونی طور پر ہسپتال کے استعمال شدہ پلاسٹک فضلہ کسی بھی صورت میں دوبارہ قابل استعمال نہیں بنایا جاسکتا تاہم زیادہ منافع حاصل کرنے کی غرض سے غیرقانونی پلاسٹک خام تیار کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ہسپتال کے استعمال شدہ سرنج، پیشاب کی تھیلیاں، ڈرپ کسی بھی صورت میں دوبارہ استعمال کرنے کے لیے کسی ادارے کو نہیں بیچی جاتیں، بلکہ اس استعمال شدہ سامان کو مخصوص طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہیے تاہم یہ فضلہ جس میں سرنج، یورین بیگ، گلوکوز ڈرپ بیگ 110 روپے فی کلو کے حساب سے ان فروخت ہوتا ہے جس کو دوبارہ استعمال کے قابل بناکر لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ان استعمال شدہ سرنجوں اور ڈرپ بیگز سے اچھی کوالٹی کا پلاسٹک خام مال سستے داموں تیار ہوجاتا ہے۔ ان فیکٹریز سے کچن میں استعمال میں ہونے والا سامان بنانے والے، ہاٹ پاٹ، کولر، برنیاں و دیگر سامان اور بچوں کے کھلونے بنانے والی فیکٹریز کے مالک خریدتے ہیں، ذرائع نے مزید بتایا کہ 250 سے 300 روپے فی کلو کے حساب سے یہ ری سائیکل پلاسٹک دانہ خریدتے ہیں۔ اور پھر اس دانے سے ڈسپوزایبل برتن بنائے جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس کا 60 فیصد پھیلاؤ اسی فضلہ جات و کچرے کی وجہ سے ہورہا ہے۔

اگر پورے پنجاب کی بات کی جائے تو پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں116ٹن کچرے میں سی15فیصد کچرا و فضلہ انتہائی خطرناک ہے جبکہ ہسپتالوں کے فضلہ جات میں پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کی وجہ سے خطرناک بیماریاں بڑھ رہی ہیں حکومت کو چاہیے کہ اس گھنانے جرم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے بصورت دیگر یہ صورت حال مستقبل میں کسی بڑے مسئلہ کا سبب بن سکتی ہے۔

بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹر رب نواز نے بتایا کہ سول ہسپتال میں انسینی ریٹر نہیں ہے اور ہاسپٹل ویسٹ ( طبی فضلہ ) کو روزانہ کی بنیاد پر پچاس کلو گرام فضلہ ہولی فیملی ہسپتال کے انسینی ریٹر میں جلایا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طبی فضلہ کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے لیکن بعض اوقات نچلی سطح کے ملازمین ڈرپس اور دیگر چیزیں بیچ دیتے ہیں۔ ایمرجنسی اور راہداریوں میں بکھرے ہوئے کچرے کے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختلف رنگوں کے ڈسٹ بن تمام شعبہ جات میں رکھے ہیں جن میں لال رنگ کے ڈسبن میں طبی فضلہ اکھٹا کیا جاتا ہے جسے بعد میں ہولی فیملی ہسپتال کے انسینی ریٹر میں تلف کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ کچرا باہر راہداریوں میں بکھرا پڑا نہ ہو اور اس حوالے سے سختی بھی کی جاتی ہے۔

ہولی فیملی ہسپتال کے ڈاکٹر ریاض نے بتایا کہ ہسپتال میں روزانہ انسینی ریٹر چلایا جاتا ہے جس میں100 سے 150 کلو طبی فضلہ محفوظ طریقے سے تلف کیا جاتا ہے۔ ہمارے پاس اس وقت بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی، ڈسٹرکٹ ہسپتال راولپنڈی اور تحصیل میونسپل آفس سے آنے والا فضلہ بھی جلایا جاتا ہے۔ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر سے ان کے پاس چار سے پانچ ہسپتال ایسے ہیں جو روزانہ چار کلو گرام تک فضلہ تلف کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ طبی فضلہ بیچ دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے اقرار کیا کہ ایسا ضرور ممکن ہو سکتا ہے کہ استعمال شدہ ایک آدھ ڈرپ اور انجیکشن بیچ دی گئی ہو۔ لیکن یہ نچلی سطح پر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی خاموشی حیرت انگیزاور سمجھ سے بالا تر ہے۔ تمام نجی وسرکاری ہسپتالوں کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ استعمال شدہ سرنجوں سمیت تمام طبی فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ حکومت اور متعلقہ محکمے کو اس جانب بھر پور توجہ دینی چاہیے تاکہ وبائی اور مہلک بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

ثاقب راٹھور کی دیگر تحریریں
ثاقب راٹھور کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں