8 اگست اور کوئٹہ


دو سال پہلے 8 اگست کو وکلا برادی پر دہشت گردی کے حملہ نے کوئٹہ کو قیامت کا منظر دیکھا دیا۔ ہر طرف بکھرے انسانوں کے ٹکڑے۔ اور ہوا میں خون کے رنگ نے سب کو ایک بہت بڑا دہچکا لگا دیا۔ ایک سال بیت گیا۔ ۔ ۔ ۔
کوئٹہ کہ نام ذہن میں آتے ہی چیخ و پکار، خون آلود کپڑے، روتی پیٹتی مائیں اور بہنیں ذہن میں آ جاتی ہیں۔ ہر طرف ایسا بکھرا ہوا خون جس نے کسی مسلک مذہب یا کسی بھی طبقے کے فرد کو اپنے رنگ میں نہ رنگا ہو۔
سسکتے بلکتے بچے جو اسی خون کو دیکھتے دہائیوں سے بڑے ہو رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہمیشہ ان سب میں امن کی خواہش نظر آتی رہی ہے۔

جب تک سوشل میڈیا نہیں تھا۔ اور میں خود کوئٹہ نہیں گیا تھا۔ تب تک کوئٹہ سمیت بلوچستان ایک خوف کا نام سمجھا جاتا تھا۔ کہ وہاں جو بھی گیا واپس بچ کر نہیں آتا۔ انتہا پسند دہشت گرد گروپ وہاں آنے والی کسی بھی صوبے سے تعلق ہونے کی بنا پر قتل کر دیتے ہیں۔

وقت گزرتا گیا سوشل میڈیا نے بہت سی دنیا کو آپس میں ملا دیا۔ بلوچستان بھی منظر عام پر آنا شروع ہو گیا۔ الیکٹرانک میڈیا نے بھی کوئٹہ کے حالات کو دکھانا شروع کیا تو پاکستان میں سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہی کوئٹہ نکلا۔

دہشت گرد کون ہیں کہاں سے آئے ہیں پر انہوں نے کوئٹہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مگر آہستہ آہستہ کوئٹہ میں رہنے والے لوگوں کی سوچ سامنے آنے لگ گئی۔
دہشت گردی کا شکار وہاں پولیس، وکلا، ایدھی کے کارکن اور عام لوگ بھی شکار رہے۔ پولیس کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔ اور اگر کیمونٹیز کو دیکھا جائے تو ہزارہ کمیونٹی مسیحی کمیونٹی پر دہشت گردی کے حملے ہوتے آ رہے ہیں۔
مگر اس سب خون اور دہشت کے باوجود دوسری جانب دیکھا جائے تو ان لوگوں کاجذبہ ہے جنہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اور امن کے لیے ان کی گئی کوششیں ہیں۔

ایدھی کے کارکنوں پر کئی حملوں میں شہید ہونے کے باوجود آج ان شہیدوں کے بھائی اور ورثہ بھی ایدھی کے لیے اپنی خدمات اور بھی زیادہ جذبے سے سرانجام دے رہے ہیں۔ عارف جو کہ ایدھی ایمبولینس کے ڈرائیور ہیں۔ ان کے بھائی 2013 میں علمدار روڑ پر دھماکے میں زخمیوں کو اٹھاتے ہوئے دوسرے دھماکے میں شہید ہو گئے۔ عارف نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بھائی سمیت ایدھی کے کارکنوں کے جسم کے ٹکڑے اٹھائے۔ مگر اس کے بعد عارف نے اپنی مکمل زندگی انسانیت کے نام کر دی۔ کوئٹہ کی محبت کی نام کر دی۔ عارف کہتے ہیں کہ ہمارا کام جان بچانا ہے۔ ہم پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے دوران بھی زخمیوں کو اٹھا کر لے جا رہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہے پھر مسیحی ہو ہزارہ سے تعلق ہو یا دہشت گرد ہو۔ ہمارا کام ہے جان بچانا۔

اور اسی طرح کاجذبہ وہاں کا ہر فرد رکھتا ہے۔ ہزارہ کمیونٹی پر حملوں کے باوجود وہاں کی بہادر بیٹی جلیلہ حیدر رہتی ہے۔ جلیلہ حیدر جس نے ہزارہ کمیونٹی پر حملوں پر بھوک ہڑتال کی تھی۔
ڈاکٹر شہلا سمی جو کے گائنی کی ڈاکٹر ہیں۔ جس وقت 8 اگست 2016 کو وکلا پر سول ہسپتال میں دہشت گردی کا حملہ ہوا۔ تو شہلا سمی ایک منٹ میں وہاں پہنچی۔ ہر طرف جسم کے ٹکڑوں اور کئی لاشوں کو دیکھ کر وہ گھبرائی نہیں۔ فائرنگ کی آواز پر ہر طرف افرا تفری پھیلے ہونے کے باوجود ایک ڈاکٹر اور انسان ہونے کے ناطے انہوں نے بے خوف و خطر زخمیوں کی مرہم پٹی شروع کی۔ جب سب لوگ خوف سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے تو ڈاکٹر شہلا وکیل زخمیوں کے کوٹ اور ٹائیوں سے بہتے خون روک رہی تھی۔
یہ ڈاکٹر شہلا ہی تو تھیں جن کی وجہ سے کئی اور جانیں بچ گئیں۔

مسیحی کمیونٹی کے وہ زخمی اور شہیدوں کے وہ بچے ہیں جو اب بھی جذبے سے چرچ جاتے اور عبادت کرتے ہیں۔ وہ پولیس اہلکار ہیں۔ جو اپنے ہی پولیس بھائیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے مرتے دیکھا۔ وہاں وہ وکلا ہیں جو اپنی وکلا بھائیوں کے بکھرے اور زخمی جسم اٹھاتے آج بھی اسی جذبے اور ہمت سے امن کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کوئٹہ آج بھی امن کی کوششوں اور بہادری کےجذبوں سے بھرا پڑا ہے۔ کوئٹہ تو ہے ہی بہادری کا نام جذبے کا نام کیونکہ وہاں ہر فرد کی ایک تلخ داستان ہے جسے لیے وہ لے امن کی کوششیں کر رہا ہے۔ اور ایک دن کوئٹہ مکمل پرامن اور محبتوں سے بھرا شہر ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

یاسر حمید اندھراوا کی دیگر تحریریں
یاسر حمید اندھراوا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں