کنہار کنارے سندھ دھرتی کی یاد


اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچنے ہی میں انفارمیشن والے کی طرف بھاگی جو رات گئے اپنی کرسی پر غنودگی کے عالم میں ہی تھا۔ میں نے اسے جگایا تھا اس لئے اس نے بیزاری سے میری طرف دیکھا میں اس سے پوچھ رہی تھی کہ چترال کی فلائٹ کب ہے۔ ہم حیدرآباد سے چترال کو ذہن میں رکھ کر ہی چلے تھے۔

آپ چترال جاکے کیا کروگی؟ اس نے الٹا مجھ سے سوال کردیا۔ وہاں یوں یوں راستے ہیں اس نے اپنے ہاتھ کو ایسے گھما کر مجھے اشارے سے سمجھایا۔ میں جواب کے بجائے سوال کے لئے تیار ہی نہ تھی وہ الٹا مجھے دوسرا رستہ دکھا رہا تھا۔ میں غصے میں تیز ہوگئی تھی۔ آپ بجائے انفارمیشن دینے کے مجھے مس گائیڈ کررہے ہیں۔ مجھے غصے میں دیکھ کے اس کی نیند کھل گئی تھی۔ نہیں نہیں اس نے صفائی پیش کی میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ میرا مطلب تھا ہفتے میں دو دفعہ فلائٹ چلتی ہے یعنی فوکر چلتے ہیں سو بھی کل والی میں تو کوئی سیٹ ہی نہیں۔

اس نے پکا کرلیا تھا ہمیں چترال نہیں بھیجنا۔ اونہہ۔ میں نے کہا اور دوسری فلائٹ کا دن اور وقت پوچھا۔ اس نے اتوار کا دن بتایا تھا جو ہمیں چوتھا دن پڑرہا تھا۔ اچھا تو پھر اتوار کا دن ہی ٹھیک ہے۔ میں کچھ مطمئن ہوئی وہ کرسی پر ٹھیک ہوکے بیٹھا اور کہنے لگا۔ جو فلائٹ اتوار کو جائے گی وہ پھر چوتھے دن ہی واپس آئے گی آپ اتنے دن وہاں کیا کرو گی۔
پتا نہیں لوگ چترال جاکے کیا کرتے ہیں اتنے ڈھیروں ڈھیر لوگ وہاں جاتے ہی کیوں ہیں۔ سچ مجھے اس آدمی پر بہت ہی غصہ آرہا تھا۔ میں نے اسی وقت ہی فیصلہ کیا کہ چترال کے بجائے ناران ہی جاتے ہیں۔

اسلام آباد سے صبح ہی صبح چل پڑے تھے۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ سے ہوتے ہوئے جارہے تھے۔ کاغان ہائی وے بہت ہی خوبصورت تھا۔ یہ میں آپ کو تین چارسال پہلے والی بات ہی بتانے لگی ہوں۔ ہاں تو کاغان روڈ اتنا خوبصورت بنا ہوا تھا کہ میں نے دل ہی دل میں ٹھیکیدار کو شاباش دی۔ بالاکوٹ سے گزرنے لگے تو محسوس ہوا کوئی یورپین قصبہ ہے۔
اصل میں 2005 کے زلزلے کے بعد سارا بالاکوٹ ہی ڈھے گیا تھا جو کچھ باہر کی کچھ اندر کی امداد سے بلکل ہی نیا نیا بنایا گیا ہے۔

یہاں کا دریا کنہار ہمارے ساتھ ہی ساتھ چلتا جارہا تھا بے چینی سے اپنا راستہ بناتا پیچھے کی طرف جارہا تھا۔ وادی کاغان کا علاقہ شروع ہوتے ہی جادوئی نظارے شروع ہوچکے تھے۔ نظاروں نے ہمارے دل کو خوب جکڑے رکھا۔ ناران سے تعلق رکھنے والے لوگ جو اب گرمیوں میں واپس اپنے گھروں کو جارہے تھے۔ کچھ کا سامان مزدا میں یا سوزوکی میں تھے تو کچھ لوگ اپنا سامان گدھوں پہ لاد کے جارہے تھے۔

یہاں ڈھائی فٹ تک برف گرنے کی وجہ سے نیچے کی طرف آکر اپنا روز گار تلاش کرتے ہیں۔ گرمیوں کے دنوں میں گرمیوں کے مارے ہمارے جیسے لوگ ہی ان کے روز گار کا ذریعہ بنتے ہیں ورنہ تو یہاں کیا کھیتی باڑی ہوتی ہوگئی۔ کنہار کنارے گاڑی چلی جارہی تھی۔ موسم بہت پیارا تھا حیدرآباد کی جھلساتی گرمی کو یاد کرکے تو موسم پر پیار آنے لگا تھا۔ موسم سہانہ ہے دل بھی دیوانہ ہے۔ یہ شاعر نے یقینا ایسے موسم کے بارے میں ہی کہا ہوگا۔ کہ موسم اور حسین نظارے دیکھ کے دل چریا ہونے لگتا ہے۔ پہاڑوں پہ ہریالی ہرے رنگ کے دو شیڈ لئے ہوئے تھی۔ اور یہاں وہاں پیلے رنگ کے چھوٹے سے پھول پہاڑوں کو ماں سمجھ کے چمٹے ہوئے تھے۔

ڈرائیور ہمیں اخروٹ بادام کے درخت بھی دکھا تا جارہا تھا۔ کاغان کی حسین چوٹی ملکہ پربت کہلاتی ہے اس کی تنی ہوئی گردن دیکھ کے لگتا ہے کہ ملکہ پربت اپنے حسن پر بہت ناز کرتی ہے۔ اصل میں یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو میرے حسن کے مقابلے میں آئے۔ نا بابا نا۔ ایسا کوئی بھی نہیں۔ اس علاقے سے ہی نیلم یا قوت پکھراج زمرد ملتے ہیں جو باہر بھی بھیجے جاتے ہیں۔
گاڑی نے ہمیں ناران کی بازار میں ہی کسی ہوٹل تک پہنچا دیا۔ یہاں ٹھنڈ تھی اس لئے میں نے دیکھا پچھلی سائیڈ میں ہوٹل کا گیزر چل رہا تھا یعنی پانی گرم کرنے کے لئے نیچے آگ جلائی گئی تھی۔ کمرے میں سامان رکھ کر ہم باہر نکلے۔ سامنے ہی ایک عوامی سا ریسٹورینٹ بنا ہوا تھا۔ ساری دیگچیاں سڑک والی طرف ہی رکھی تھیں۔ میں نے ڈھکن اٹھا کر چیک کیا تو ایک میں کابلی پلاؤ دوسری دیگچی میں ٹنڈے کی سبزی پکی ہوئی رکھی تھی۔

اس ہوٹل کے ساتھ ہی ایک جھونپڑی میں کوئی چپلی کباب بنارہا تھا۔ یہ دیکھ کر تو منہ میں پانی آگیا۔ میں نے اس سے کہا یہ بھی لے کے آؤ۔ یہ کباب دیکھ کر دلی خوشی ہوئی تھی۔ چپلی کباب پہلی دفعہ کالج میں کھائے تھے۔ یہ ہماری نیلی آنکھوں والی پٹھان سہلیاں بنالائی تھیں۔

ساتھ ہی املی اور گڑ سے بنی چٹنی تھی۔ کالیج کی لان میں ہمارے گروپ نے ایک دائرہ بنایا تھا اور بیچ میں رکھے چپلی کباب کھائے جارہی تھیں۔
لگتا ہے یہاں شہد بہت پیدا ہوتا ہے۔ ایک شخص بالٹی میں شہد کا چھتا لئے پھر رہا تھا۔ کسی نے کہا یہ اصلی نہیں ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ جو چپلی کباب بنارہا تھا اس نے اس سے ایک ساسر میں کچھ شہد مفت میں لے کر روٹی کے ساتھ کھانا شروع کی تو میں نے بھی سامنے پڑی ساسر اٹھا کے اس کے سامنے کردی۔ اس نے شہد تو ساسر میں ڈال دی پر عیجیب سی نظروں سے دیکھا کہ یہ ایسے لوگ بھی مفت میں لے کر کھائیں گے تو ہم غریبوں کا کیا ہوگا۔

میں نے آرام سے شہد لے کر روٹی سے لگاکر کھانا شروع کیا تھا۔ پر اب بہت ہی افسوس ہوتا ہے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا یعنی اس کو کچھ پیسے دینے چائیے تھے۔ بازار میں جو چکر لگایا تو پتا چلا یہاں تو سنگاپور جیسی قیمتیں لگی ہوئی ہیں۔ ایک دکان تو ہمارے تھر کے تھری اور وہاں کے کسی لوکل بندے کی پارٹنر شپ میں چل رہی تھی۔ جھیل سیف الملوک کے بارے میں کہا جاتا ہے یہاں رات کو پریاں اترتی ہیں۔ یہ دنیا میں خوبصورت جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں آنے کے لئے ہمیں جیپ کا بندو بست کرنا پڑا۔

جھیل سیف الملوک سطح سمندر سے 10500 فٹ اونچی ہے۔ ناران سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہم لوگ جیپ میں رواں دواں ہی تھے کہ ایک جگہ رکنا پڑا۔ یہاں گلیشئر کی وجہ سے ٹریفک جام ہورہا تھا۔ اب جیپ سے اتر کر برف کے ڈھیر کو کراس کرکے دوسری طرف کھڑی جیپ میں سوار ہونا تھا۔ میں تو برف میں گرتی جارہی تھی۔ وہاں کچھ مزدور برف ہٹارہے تھے انہی میں سے ایک بوڑھا مزدور مجھے دیکھ کے مسکرایا اور آگے بڑھ کے میرا ہاتھ پکڑ کر بکری کی طرح کھینچتا ہوا دوسری طرف لے گیا جہاں جیپ کھڑی تھی۔

جھیل سیف الملوک انتہائی خوبصورت تھی مجھے تو یہ جنت کا منظر معلوم ہورہا تھا۔ پہاڑ برف سے ڈھکے ڈھکے ہوئے تھے کافی حد تک جھیل میں بھی برف جمی ہوئی تھی۔ آسمان کا نیلا عکس پانی پہ دیکھ کر آنکھوں کو بہت ہی بھلا لگ رہا تھا۔ خوبصورتی میں اتنی سحر زدہ ہوئی کہ جھیل میں چلتی ہوئی بہت آگے تک چلی گئی۔ احساس تب ہوا جب محسوس کیا میں نیچے دھنستی ہوئی چلی جارہی ہوں۔

کمرتک میں نیچے جاچکی تھی اور اب چیخنے لگی۔ بہر حال امداد جلد ہی مل گئی امداد کے ذریعے سے دو تین دن ناران میں رہ کے تو واپس ہوئے۔ واپسی میں وہی آبشار، پھول، پہاڑ، ہریالی اور کنہار کا کنارا تھا۔ بالاکوٹ تک پہنچ کے ڈرائیور نے ایک جگہ گاڑی روکی یہ ایک ٹوٹی پھوٹی مخدوش حال عمارت تھی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ زلزلے میں یہ عمارت ٹوٹ پھوٹ گئی ہے۔

سارا بالا کوٹ نیا ہوچکا پر یہ عمارت لاوارث ہے اس کے مالک نہ جانے کہاں چلے گئے ہیں یا مرچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ ابھی تک اسی حالت میں ہے۔ یہ سوچ کر تو میں لرز گئی یہی حالت تو ہمارے سندھ کی بھی ہوچکی ہے۔ اسکول، ہسپتال، روڈ بہتے گٹر نالے سب کچھ ٹوٹا پھوٹا ہے۔ شاید اس کے مالک بھی اس کو لاوارث چھوڑکے کہیں گم ہوگئے ہیں۔ جس طرح یہ عمارت انتظار کررہی ہے کہ اس کے مالک آئیں بالکل اس طرح سندھ کو بھی اپنے مالک کا انتظار رہے جو نہ جانے کب آئے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں