دس روپے کی چائے


یہ ہسپتال کی کینٹین تھی جس میں مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے لوگ بھوک مٹانے کی خاطر جوق در جوق آرہے تھے۔ کینٹین کے مالکان ہشاش بشاش نظر آرہے تھے کیونکہ جتنے مریضوں کی تعداد بڑھتی ہے ان کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور یہ کوئی عام ہسپتال نہ تھا بلکہ صوبے کا سب سے بہترین ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس تھا جس میں بھوک اور پیاس کے ستائے ہوئے لوگ دھکم پیل میں مصروف تھے۔ میں بھی اپنے عبدالرحمن کے ساتھ کئی مہینوں سے یہاں زندگی کی سختیوں کی پرستش کر رہا تھا۔ وہ میرے ساتھ میرے گود میں تھا اورمیں اس پورے منظر کا نظارہ کر رہا تھا جس میں انسان تو بہت زیادہ تھے لیکن ان سے زیادہ تعداد میں ان کے ساتھ لپٹی ہوئی وہ سختیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ سب کے سب بجھے بجھے نظر آرہے تھے۔

میں نے یہاں ایک سال میں انسانوں کی وہ تمام بے بسیاں دیکھی جن کو میں صرف کہانیوں میں سن چکا تھا۔ یہاں بے بسوں کو میں نے ٹھٹھرتی سردیوں میں فرشوں پر بغیر لحافوں کے سوتے دیکھاہے۔ میں نے یہاں ایسے باپ بھی دیکھے ہیں جن کے بچے پیسوں کی وجہ سے راہی عالم بقاء ہوئے۔ یہاں میں نے زندگی کے وہ تمام حادثات دیکھے ہیں جن کی وجہ سے میرا یہ یقین اور بھی پختہ ہوگیا کہ رب کائنات کی ذات اپنے بندوں پر اس وقت حد سے زیادہ مہربان ہوجاتی ہے جس وقت اس کا بندہ تکلیف میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی ہر طرف غموں، دکھوں اور پریشانیوں کے مارے انسان ہی تھے۔

خیر میں جیسے ہی کاونٹر کی طرف بڑھا میری نظریں ایک ضعیف العمر اماں پر پڑی جس کے ہاتھ میں لاٹھی اور سر پر پھٹا ہوا سرکتا دوپٹہ تھا۔ لوگوں کی بھیڑ سے بچنے کی خاطر وہ ایک طرف کھڑی خاموشی سے کچھ کہہ رہی تھی۔ میں اس کے قریب گیا تو اس کے ہاتھ میں دس روپے کا ایک پھٹا ہوا نوٹ تھا جس کو مضبوطی سے اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور قریب تھا کہ نوٹ اور بھی پھٹ جاتا لیکن جب اس کی نظریں مجھ پر پڑی تو دس روپے کے نوٹ پر اس کی گرفت کچھ کمزور ہوگئی اور میری طرف گھبرا گھبرا کر دیکھنے لگی۔ میں اس کے اتنا قریب تھا کہ اس کی آواز صاف سن رہا تھا۔ وہ بہت دیر سے کیا کہہ رہی تھی اس کا اندازہ لگانے کی خاطر جب میں اس کے قریب گیا تو ایسا لگا جیسے آسمان پورے کا پورا مجھ پر ٹوٹ پڑا ہو۔ وہ نحیف آواز میں پکار رہی تھی کیا یہاں دس روپے کی چائے مل سکے گی؟

میں حیران تو تھا ہی پریشان بھی ہوگیا۔ میں نے پوچھا : ”اماں آپ یہاں کیا کر رہی ہے“ وہ بولی ”بیٹا میں اپنے بیمار بیٹی کو یہاں ہسپتال لائی ہوں۔ اس کو وارڈ میں چھوڑ کر چائے کی تلاش میں یہاں آگئی۔ بیٹا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا اسی لئے سوچا کہ ایک کپ چائے اگر ملے تو درد سے نجات مل جائے گی“ میں نے پوچھا ”اماں آپ نے کھانا کھایا ہے؟ “ وہ خاموش تھی اور اس کے پیشانی پر تفکر کے اثرات دیکھ کر مجھے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ مملکت خداداد پاکستان کے غریب بزرگوں کو بھوک لگ بھی جائے تو وہ مینیج کرہی لیتے ہیں۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی لیکن چند ساعتوں بعد دوبارہ گویا ہوئی۔ ”کیا دس روپے کی چائے مل جائے گی“؟

تذبذب ساتھ میں نہ ہو تو انسان کیا کچھ نہیں کرسکتا اور تذبذب انسان کو گھیرتا اس وقت ہے جب ہر طرف بے بسی ہو۔ وہ تو پریشان تھی ہی لیکن میں بھی ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے کسی نے میرے ہاتھ پاوں باندھ کر مجھے گہرے پانی میں دھکیل دیا ہو۔ میں انتہائی پریشان کھڑا یہ سب کچھ دیکھ بھی رہا تھا اور سن بھی رہا تھا۔ اماں کو کوئی بھی توجہ میں نہیں لا رہا تھا۔ میرا کزن قریب ہی کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس سے رہا نہ گیا وہ لپک کر ہماری طرف آیا اور اماں کے ہاتھ میں پیسے تھما کر مجھے وہاں سے باہر کھینچ لایا۔ میں کیا کرسکتا تھا کیونکہ بات صرف دس روپے کی چائے کی نہیں تھی بلکہ یہ ایک پورے نسل کی کہانی تھی میرے سامنے۔ میں صرف دس روپے کی دھاڑ پر پریشان نہیں ہورہا تھا بلکہ وہاں سے نکل کر ہسپتال کے اندر جب گیا تو اور بھی بہت ساری کہانیاں دیکھنے کو ملی جن کی وجہ سے میرے دن کا چھین اور رات کی نیند اڑ گئی تھی۔

یہ میری زندگی کا ایک تلخ واقعہ تھا جس میں ایک بوڑھی اماں صرف دس روپے کی چائے کے لئے بھیک مانگنے پر مجبور تھی۔ یہ دس روپے کی چائے نہیں تھی بلکہ ہم سب کے چہروں پر ایک بے بس کے ہاتھ کا زبردست تھپڑ تھا۔ لاکھوں کمالیتے ہیں لوگ لیکن دس روپے کی چائے کی صدا پر توجہ دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ زمیں اگر ہماری خواہش کے عین مطابق پھٹتی تو میں اسی لمحے یہ خواہش ظاہر کردیتا کہ یا اللہ زمین کا منہ ہی کھول لے تاکہ یہ ہم جیسوں کو ہڑپ لے اور اس کے سینے پر تھوڑا بوجھ تو کم ہوجائے۔ یہ صرف دس روپے کی چائے کا معاملہ نہیں ہم سب کی روٹین کی زندگی ہے جس میں چاروں طرف یہی صدائیں آتی رہتی ہے کہ بیٹا دس روپے کی چائے پلادو تاکہ تکلیف ذرا تو کم ہو اور ہم ہیں جو راہ چلتے بھوکوں اور پیاسوں کا مذاق اڑا کر اپنی فیشن ایبل زندگی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ ہم اندھے تو صدیوں سے ہیں لیکن بہرے اور گونگے بھی بن جائیں گے ایسا میں نے نہیں سوچا تھا۔ ہم اگر اپنے ارد گرد دیکھنے کی کوشش کریں تو ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ ہیں جو بھوک سے نڈھال ہیں لیکن خودی کی وجہ سے وہ دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ اسلام کو دوسروں پر نافذ کرنے والے اور ریاست مدینے کا خواب دیکھنے والے کھبی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ ایمان کی تکمیل کیسے ہوتی ہے۔

تبدیلی اور اسلام کا جو تصادم ہمارے ملک میں شروع ہوا ہے اس کا انجام کیا ہوگا وہ تو پتہ نہیں لیکن ایک بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جب تک بے کسوں، لاچاروں، بھوکوں اور غریبوں کوسر آنکھوں پر جگہ نہیں دی جاتی تب تک ہم اسیے ہی خوار و زار ہوتے رہیں گے۔ غریب کا چھولا جلے یہی تو عمر کی زندگی کا مقصد تھا اور اسی مقصد کو پورا کرنے کی خاطر وہ رات کی تاریکیوں میں ویران گلیوں میں پھرتے رہتے تھے۔ کوئی پوچھتا تو جواب ملتا۔ ذمہ دار میں ہوں اور مجھ سے ہی اللہ پوچھے گا۔

ان بے بسوں کو زندگی کی طرف کھینچنا ہوگا اور یہی لوگ جب زندگی کے ہر سہولت سے مستفید ہوں گے تو پھر اس معاشرے میں حقیقی تبدیلی آئے گی اور وہ بھی ایسی تبدیلی کہ جو ایک جگہ رکے گی نہیں بلکہ ہر طرف دوڑے گی اور پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ مدینے کی حقیقی ریاست ہی بنے گی ورنہ دس روپے کی چائے کی یہ ایک صدا اگر چہارسوں پھیل گئی تو اللہ کی گرفت سے بھاگنا مشکل ہوجائے گا۔ آپ دیکھنے کی کوشش کریں اور اپنے دل کو اجازت دے دیں تو یقین کریں آپ روزانہ ایسی صدائیں سنتے رہیں گے کیا دس روپے کی چائے مل سکتی ہے اور آپ جب یہ صدا سنیں گے تو مسلمان ہوکر بھی خود کو یہ کہہ کر تسلی دینے میں کامیاب ہوجاوگے کہ دس روپے کی چائے آج کل نہیں ملتی اور بھیک مانگنا تو اسلام میں حرام ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

شبیر احمد بونیری کی دیگر تحریریں
شبیر احمد بونیری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں