کیا خیبر پختونخوا کے نامزد وزیر اعلیٰ محمود خان عمران خان کا پہلا انتخاب تھے؟

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو، اسلام آباد


پاکستان

facebook
پشاور میں گذشتہ روز ہونے والی پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی میٹنگ میں محمود خان (درمیان میں) شرکت کرتے ہوئے

خیبر پختونخوا کے نامزد وزیر اعلی محمود خان کے کندھوں پر صوبے میں اب پاکستان تحریک انصاف کے منشور کو عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

محمود خان نے بلدیاتی انتخاب سے صوبائی وزیر کھیل اور کلچر کے بعد اب وزارت اعلیٰ کے عہدے تک کی بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ محمود خان پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی پہلی ترجیح نہیں تھے۔

حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے اہم عہدوں پر تعیناتی کے فیصلے کرنے ہیں اور اس کے لیے متعدد امیدوار سامنے ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ویسے ہے جب انتخابات سے پہلے پارٹی ٹکٹ لینے کے خواہشمندوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور عمران خان نے ٹکٹوں کی تقسیم کو انتہائی مشکل مرحلہ قرار دیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سب سے پہلے تو سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک امیدوار تھے اور وہ بھی ایسے مضبوط امیدوار جس کے سامنے عمران خان بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ پرویز خٹک کو دوبارہ وزیر اعلیٰ نامزد کرنا مشکل تھا اور اس کی وجہ قومی اسمبلی میں جماعت کے زیادہ سے زیادہ اراکین کی ضرورت کو قرار دیا گیا ہے ۔ پرویز خٹک قومی اسمبلی کی نشست پر بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی پہلی ترجیح سابق وزیر تعلیم عاطف خان ہی تھے اور ان کی خواہش تھی کہ عاطف خان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہوں لیکن اس خواہش کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ سوشل میڈیا اور تجزیہ کار بھی اس موضوع پر بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک نہیں چاہتے تھے کہ عاطف خان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد ہوں۔

انتہائی باخبر پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان عمران خان کی پہلی ترجیح نہیں تھے بلکہ یہ فیصلہ ایک مناسب وقت تک کے لیے کیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں ایسے بیانات آئے ہیں کہ عمران خان نے کہا ہے کہ تمام افراد کو اپنی تین ماہ کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اگر کوئی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا تو ان سے عہدہ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

BBC
پرویز خٹک کا شمار تجربہ کار اور زیرک سیاستدان کے طور پر ہوتا ہے

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور انھیں خیبر پختونخوا میں ایک ایسا وزیر اعلیٰ چاہیے تھا جو ان کے ایجنڈے کو من و عن تسلیم کرے اور اس پر عمل درآمد بھی کرے۔ ان فیصلوں میں پاکستان تحریک انصاف کے پہلے سو دنوں کا ایجنڈا، قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اصلاحات اور مختلف اداروں کے قبائلی علاقوں تک رسائی اور دیگر اصلاحات کا عمل مکمل کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ متعدد ترقیاتی کام اُن کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

محمود جان بابر کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل صوبہ ہے کہ یہاں قبائلی علاقوں میں کام کرنا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی اس میں شامل ہے تو یہ ایک مشکل کام بھی ہوگا۔

ان سے جب پوچھا کہ پرویز خٹک کو ہی کیوں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو مرکز میں بھی حکومت بنانی ہے اور پرویز خٹک کے علاوہ اسد قیصر اور حیدر علی ایسے امیدوار تھے جو قومی اسمبلی کی نشستیں بھی جیت چکے ہیں اور مرکز میں عددی برتری کے لیے ایک ایک نشست ضروری ہے یہاں تک کہ پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم سے بھی مدد مانگنی پڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ حکومتیں قائم ہو جائیں اور حالات معمول پر آجائیں تو ہو سکتا ہے کہ عمران خان خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے اپنی پہلی ترجیح عاطف خان یا پرویز خٹک کو یہ عہدہ دے دیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسری جانب تحریک انصاف کے پاس موزوں امیدواروں کی کمی تھی۔ دیگر امیدواروں میں تیمور خان جھگڑا کا نام بھی لیا جاتا رہا ہے۔

پرویز خٹک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی تجربہ کار اور زیرک سیاستدان ہیں اور انتخابات میں کامیابی کے بعد انھوں نے جو دباؤ عمران خان اور پارٹی قیادت پر برقرار رکھا وہ شاید کسی اور سیاستدان کے بس کی بات نہیں تھی۔ پشاور میں اراکین اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے اکتالیس اراکین کی طاقت کا مظاہرہ کرنا بھی اسی دباؤ کی ایک کڑی تھی حالانکہ اس بارے میں پارٹی قیادت نے نوٹس بھی لیا اور پرویز خٹک نے اس اجلاس کو ایک عام اجلاس ہی قرار دیا تھا۔

یہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک انقلابی منصوبے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ماضی کی حکومتوں سے یکسر مختلف طرز کی حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں جس کے لیے انھیں بڑے اقدامات کرنا ہوں گے اور اس میں مزاحمت، دباؤ اور سخت مخالفت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

اگر یہ درست ہے تو جب عمران خان ایک پرویز خٹک کے دباؤ میں آکر وزارت اعلیٰ کے امیدوار کے لیے اپنی ترجیح پر عمل نہیں کر سکتے تو کیا دیگر فیصلوں میں وہ اپنے منصوبے کے مطابق عمل درآمد کر سکیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4854 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp