کاغذ کا لمس اور ٹچ سکرین پر کتاب


قاری اور لکھنے والے کا رشتہ اور رابطہ بھی عجب ہے۔ اک دوجے سے دُور ہونے کے باوصف اِس میں ایک لمس ہے جو محسوسات کی ترسیل کرتا ہے۔ کسی مضمون کا خیال میں آنا، پھر اس کا لفظوں میں، فقروں میں ڈھلنا اور پھر قرطاس پر اتر آنا۔ اس کا کاتب یا کی بورڈ پر اُنگلیوں کی پوروں کی لطیف ضربات لگاتے کمپوزر کے ہاتھوں بارِدگر لکھا جانا اور پھر کاغذ پر چھپ کر اخبار، رسالے یا کتاب کی صورت قاری تک پہنچنا۔ پھر روشنائی اور کاغذ کی خوش بُو میں بسے حرف کتاب یا اخبار کی صورت تھام کر جب قاری پڑھتاہے تو ایک ایسے لمس سے آشنائی پاتا ہے جس میں لکھنے والے کی کیفیات کی بھینی بھینی باس ہوتی ہے۔ آپ نے کبھی تازہ اخبار کی تہہ کھول کر اسے سونگھا ہے؟ نئی طبع شدہ کتاب کو یونہی بے سوچے سمجھے کہیں سے بھی کھول کر کبھی اس طرح منہ چھپایا ہے کہ آپ کی ناک تو جلد بندی کے درز میں پیوست ہوتی ہو اور کتاب کے صفحات آپ کے رخساروں کا بوسہ لیتے ہوں؟ یقین کیجیے اس سے بڑا نشہ کوئی نہیں۔

اخبار و کتاب سے حصول اطلاع و علم اپنی جگہ مگر ان میں بسی خوش بُو کا سرور اپنا ایک الگ ہی سحر رکھتا ہے۔ اچھا اب کسی پرانی لائبریری میں چلئے۔ اس کی شیلفوں میں سطریں باندھ کے پڑی کتابوں میں سے کسی ایک کو اٹھا کر کھولیے۔ اس کے صفحات کا رنگ اور خوش بُو آپ کو بتاتے ہیں کہ اِن پر کتنا زمانہ گزر چکا۔ پُرانی کتابوں کے صفحات کے مابین جو بے مکانی ہوتی ہے، وہ دراصل گزرے وقت کا مکاں ہے۔ یہاں وقت سوتا ہے اور جب کبھی آپ کتاب کھولتے ہیں تو یہ انگڑائی لے کر بیدار ہوتا اور آپ کو اپنی عمر کا پتہ دیتا ہے۔ یہ تمام تر راز ونیازقاری پر کتاب یا اخبار کے لمس سے منکشف ہوتے ہیں۔

تاہم مجھے لگتا ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اس لمس سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب اس لمس کو ہم یک سر فراموش کر دیں گے۔ تین ہزار سال قبل مسیح میں آگ سے پکی مٹی کی پلیٹوں پر کتاب لکھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اور جو کاغذ اور چھپائی کی ایجاد کے بعد پانچ ہزار برس کا سفر کر کے یہاں تک پہنچا ہے، ای بک کلچر اور پی ڈی ایف کے ہاتھوں دم توڑ دینے کو ہے۔ اخبارات اور کتابوں کی تعداد اشاعت کم سے کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہ نہیں کہ اِن کی خواندگی کم ہوئی ہے۔ اخبار اور کتاب دیکھنے والوں کی تعداد بڑھی ہے مگر قاری واخبار کے مابین وہ لمس عنقا ہوتا چلا جا رہا ہے جس کا اُوپر تذکرہ ہوا۔

اب کتاب اوراخبار سکرینوں پر پڑھی جاتی ہے۔ حرف و جملے خانماں بر باد ہو گئے ہیں۔ پہلے حرفوں کو روشنائی کا لبادہ اورسینہءکاغذ پر جو آشیاں میسر ہوتا تھا، وہ اب نہیں ہے۔ سکرین پر پڑھتے پڑھتے آپ نے واپسی کے نشان کو چُھواتو وہ حرف جو ابھی آپ کی خواندگی میں تھے، کہیں لامکاں کو کوچ کر جاتے ہیں۔ میسر ہوتے ہیں مگر موجود نہیں، دست یاب مگر وجود اور لمس سے عاری۔ نئی نسل کی تو خیراب چھپے ہوئے لفظ اور کاغذ کے لمس سے آشنائی بہت کم ہوتی چلی جا رہی ہے مگر مجھ ایسے ادھیڑ عمریے کہ جنہوں نے حرفوں کے لمس اور خوش بُو کی اسیری میں عمر کاٹی ہے، وہ بھی اب اِن بے وجود و بے مکاں حروف کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

میرے فون میں وٹس اِیپ کے چند گروپ ایسے ہیں جہاں سویرے ہی سویرے روزانہ اخبارات پی ڈی ایف فارم میں پوسٹ ہوتے ہیں۔ اب سویرے آنکھ کھلتے ہی عادت یہ ہے کہ سرہانے پڑی عینک اور فون اُٹھایا کرتا ہوں۔ کال، پیغامات دیکھتے ہوئے ان گروپوں میں آئے اخبارات پر بھی نظر دوڑا لیتا ہوں۔ دو تین اخبار جو گھر پر آتے ہیں، گیراج میں پڑے دھوپ کھایا کرتے ہیں اوربعض اوقات جوں کے توں سٹور میں چلے جاتے ہیں۔ ابھی زیاد ہ دن نہیں گزرے کہ صبح اُٹھ کر سب سے پہلے، گیٹ کے نیچے سے کھسک کر اندر آئے ان اخبار ات کی طرف جھپٹا کرتا تھا۔ مگر یہ تب کی بات ہے جب میرا فون ”سمارٹ“ نہیں ہوا تھا اور یہ فقط کال سننے یا زیادہ سے زیادہ ایس ایم ایس کے کام آتا تھا۔

اس پی ڈی ایف کلچر میں اتنی طاقت ہے کہ اس نے تین ساڑھے تین دہائیوں کی میری عادت بدل ڈالی ہے۔ ایسے ہی بے شمار کتابیں پی ڈی ایف کی صورت موصول ہوتی رہتی ہیں۔ رات کو سونے سے قبل جو تھوڑی دیر کا مطالعہ ہوا کرتا تھا، وہ بھی اب کاغذ وروشنائی کی مجلد کتابوں سے ہٹ کر سکریں پر نظر آتی بے لمس کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔ جیسے آج کل بہت سے دفاترمیں Paperless کلچر نظر آتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ آئندہ ایک آدھ دہائی میں ہماری ساری زندگی ہی پیپر لیس ہو جائے گی۔ کاغذ کا استعمال سامان رکھنے کے لفافوں اور ہاتھ پونچھنے کو ٹشو پیپرکی حد تک رہ جائے گا۔ حر ف اور کاغذ کا صدیوں پرانا رشتہ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ حروف کی بے مکانی شروع ہو چکی اور یہ ان کو مکمل بے گھرکیے بغیر رُکنے کی نہیں۔ خیر۔ ! اس معاملے کا ایک دیگر رُخ بھی ہے۔

مطبوعہ حروف کے کلچر کو دھیرے دھیرے مرتا دیکھ کر میں قدرے ملول ضرور ہوں مگر مایوس ہرگز نہیں۔ اِس جہانِ آب وگل میں اگر کوئی چیز مستقل اور دائمی ہے تو وہ ہے تبدیلی۔ یہ تبدیلی جس پر آج ہم بات کر رہے ہیں، یہ بھی آکے رہے گی۔ یہ تبدیلی طالب علم کی، علم تک رسائی آسان بنا رہی ہے۔ تلاش کا عمل سہل ہو گیا ہے۔ اب آپ کو لائبریری کی لمبی لمبی شیلفوں میں چنی ہزاروں کتابوں میں بسی دھول جھاڑ کر چھینکتے ہوئے، مطلوبہ معلومات تک پہنچنے کی مشقت سے نجات مل رہی ہے۔ آپ کی مطلوبہ انفارمیشن اب بس ایک کلک کی دوری پر ہے۔ آپ کے ہاتھوں میں تھما یہ موبائل، الہ دین کے جِن سے بھی پہلے، آپ کو مطلوبہ مواد مہیا کر دیتاہے۔

انسان کا ہزاروں سالوں پر محیط تلاش، تحقیق، جستجو اور ایجاد کا سفر صرف ایک ہی مقصد کے لیے ہے کہ کسی طور زندگی کو سہل کیا جا سکے۔ چنانچہ جو تبدیلی، زندگیوں میں آسانی لانے کا موجب بنے گی، اسے بہت جلد قبول کر لیا جائے گا۔ اور پھر میرے یہ حرف آپ کاغذ پر پڑھتے ہیں یا اپنے فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ کی سکرین پر، اس سے کیا فرق پڑتاہے۔ اصل چیزرابطہ ہے، وہ تو دونوں صورتوں میں قائم ہے اور اسے قائم رہنا چاہیے۔
ہاں! البتہ لمس کو ہم ضرور مِس کیا کریں گے۔ کم از کم میری نسل اور میرے عہد کے لوگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں