نظریہ عمران کی مخالفت


پاکستان ایک کثیر الآبادی اور کثیر الثقافتی ملک ہے جس میں طرح طرح کے خیالات رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک ایسی قسم ہے جو نظریہ عمران کے مخالف اور ناقد ہونے کے علاوہ ان کو قوم کا مسیحا نا سمجھنے کا گناہ بھی کرتے ہیں۔ ان گناہگار لوگوں سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیسے پاکستانی ہیں جو تبدیلی کے مخالف ہیں، کیا آپ پاکستان کو ترقی کرتے دیکھنا پسند نہیں کرتے، کیا آپ کو نوجوان سیاست میں بات کرتے اور حصہ لیتے اچھے نہیں لگتے، کیا آپ پاکستان کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہتے ہیں؟ اور اگر کوئی تبدیلی جیسی بیماری کا شکار ہوچکا ہو تو سونے پہ سہاگا ہوجاتا ہے ایسی صورت میں صرف اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ را ایجنٹ ہیں، ملک کے غدار ہیں، کافر ہیں، بکاؤ ہیں یا یہودیوں کے ساتھ ملکر ملک مخالف ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں نیز یہ کہ آپ پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں (نوٹ: مزے کی بات یہی سب الزام تب بھی لگتے ہیں جب آپ اسٹیبلشمنٹ کی ملکی سیاست میں مداخلت، ان کی پالیسیز پر تنقید اور ان کے زیر انتظام چلتے ہوئے کاروباروں پر بات کرتے ہیں مگر یہ مماثلت محض اتفاقیہ ہے)۔

خیر تو ان تمام سوالوں کے جواب ہوتے ہوئے بھی ہم میں سے اکثر لوگ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، کبھی تپ کہ الٹا سیدھا جملہ بول دیتے ہیں۔ کچھ ڈھیٹ ایسے بھی ہیں جو مستقل مزاجی کے ساتھ کبھی طنز سے، کبھی غصہ سے اور کبھی تحمل سے ایسے افراد کو سمجھانے اور جواب دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ ان تمام سوالوں کے جواب کو سننے اور سمجھنے کے لئے وسیع الذہن اور وسیع النظر ہونا بہت ضروری ہے جو کسی بھی گفتگو کا بنیادی جزو ہونا چاہئیے تاکہ سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ چلتا رہے۔ اس پہلو پر مگر تبدیلی کی مار سب سے پہلے پڑی، ایسے معاشرے میں جہاں پہلے ہی اختلاف کا حق ہونا جرم عظیم سمجھا جاتا تھا، اظہار رائے کا مزید فقدان پیدا کردیا گیا۔ جانتے بوجھتے۔

اگر عمران خان کے طرز سیاست اور 2012 میں ان کو یکایک ملے ہوئے عروج کی وجوہات اور اسباب سے بات شروع کی جائے تو کہانی بہت لمبی ہوجائے گی۔ قصہ مختصر 2013 کے الیکشن میں عمران خان بظاہر ایک لیڈر کے طور پر ابھرے اور ان کی تقلید عوام بلخصوص نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے کی۔ سب کچھ بظاہر بہت خوشنما ہونے کے باوجود کچھ لوگ مگر ہوا کا رخ دیکھ رہے تھے کہیں نہ کہیں کچھ شدید کھٹک رہا تھا اور اس کی بنیاد عمران خان کے حسن اور ورلڈ کپ سے جلن ہرگز نہ تھی۔ راتوں رات اتنے وسیع جلسے کرنا جس کے لئے کثیر سرمایہ درکار ہوتا ہے، بقیہ تمام پارٹیوں کے گندے انڈوں کا تحریک انصاف میں شامل ہونا اور عمران خان کا بانہیں پھیلا کر ایسے افراد کا استقبال کرنا ان چند تحفظات میں شامل تھا۔

وہ نوجوان مگر ان تحفظات سے یا تو سیاست کی تاریخ سے نابلد ہونے کی وجہ سے لاعلم تھے یا ان کو نظر انداز کرتے ہوئے عمران خان کو لیڈر اور مسیحا مان چکے تھے۔ یہاں تک بالکل ٹھیک بھی تھا ہر انسان کو ذاتی حیثیت میں حق حاصل ہے وہ جس کو چاہے اپنا لیڈر مانے مگر اس کے بعد یہ نوجوان ہی ہماری عمران خان سے سب سے بڑی شکایت بن گئے۔ وہ لوگ جو ترقی کے لئے پرجوش تھے آپ نے بجائے ان کی سیاسی تربیت کرنے کے جب آپ کے پاس موقع بھی تھا اور وسائل بھی، ان کےجذبہ اور امید کو ہیجان اور جنون میں بدل دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا کی بدولت آسان رسائی کی وجہ سے سیاست دان خود کو ہمہ وقت عوام کے احتساب میں محسوس کرتے ہوئے ایک مہزب دائرہ اختیار کی طرف بڑھ رہے تھے، آپ نے اپنے کارکنوں کو لیڈر کی پوجا، فوٹوشاپ ترقیوں، گالم گلوچ، کفر و غداری، عورتوں کی کردار کشی میں الجھا دیا۔

آپ کے نمائندے و ترجمان بھی یہ سب کرتے رہے اور آپ کی خاموشی نے آپ کے کارکنوں کو مزید بڑھاوا دیا۔ اچھے اداروں سے اچھی تعلیم حاصل کرنے والے اور انٹرنیٹ کی بدولت تمام دنیا تک رسائی رکھنے والی نسل کی ذہنی استعداد کو اپنی ڈکشنری والے نئے پاکستان تک محدود کردیا جس میں آپ امیرالمومنین ہیں اور جہاں جو صرف آپ نے کہا اور جس نے آپ کی مانی وہ حق اور سچ ہے باقی نہ آپ کی بدزبانی اور کارگردگی پر سوال کیا جاسکتا ہے نہ آپ کی دوغلی اور خود پسند سوچ پر۔ دھرنہ سے لےکر پینتیس پنکچر اور پارلیمنٹ پر حملہ سے لے کر مذہبی جنونیت کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے ہوا دینے تک، اپنے دیے ہوئے ہر بیان پر قلابازی کھانے سے لے کر اپنی ذاتی زندگی کا تماشہ بنانے تک آپ نے یکے بعد دیگرے اپنے مخالفوں کا موقف درست ثابت کیا کہ نئے پاکستان کی بس پیکنگ برانڈڈ ہوگی باقی سب کچھ پرانا ہے چاہے وہ آپ کا طرز سیاست ہو یا آپ کے خود چنے ہوئے سیاسی ساتھی۔

یہاں تک کہ 2018 کے الیکشن میں بھی آپ نے ہمیں غلط ثابت نہیں ہونے دیا اور ہر وہ عمل کیا جس پر دوسروں کو لعن طعن کرتے آئے تھے۔ آزاد امیدواروں کو خریدنے سے لے کر جہانگیر ترین، جو اس ہی عدالت عالیہ سے سندیافتہ چور اور کرپٹ ہیں جس نے نواز شریف کو کرپٹ اور چور کہا، کو بغل میں لے کے گھومنے تک اور الیکٹبلز کی مدد سے الیکشن جیتنے تک سب کچھ کھلے عام کیا اور پوچھو تو کہتے ہیں الیکشن میں کامیابی ان کے بغیر ممکن نہیں۔ کوئی بتائے کہ یہ تو پھر الیکٹبلز کی جیت ہوئی نا کہ آپ کے نظریہ (اگر تو کوئی ہے) کی تو پھر بھیا کاہے کی تحریک؟ اور کاہے کا انصاف؟ لیکن ان سب معاملات پر بات کرنے پر آپ اور آپ کے چاھنے والوں کی طرف سے وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ خدا کی پناہ نا کسی کی ماں بخشی جاتی ہے نا ہی بہن۔

میرے نزدیک آپ کا جرم باقی تمام سیاستدانوں سے بڑا ہے اس لئے ہے کیونکہ جس وقت باقی تمام لوگ اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ایک مثبت طرز سیاست کی طرف بڑھ رہے تھےآپ ہماری نوجوان نسل کو واپس دھکیل کر اس عدم برداشت کے کبھی نہ ختم ہونے والے دائرے میں لے آئے اور ان کی سوچ کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی تعفن زدہ کردیا۔ آپ کے نئے پاکستان کے بننے سے پہلے ہی اس میں سے سڑانڈ اٹھنے لگی ہے۔ آپ سے اور آپ کے چاہنے والوں سے گزارش یہ تھی کہ اقتدار کی سیاست کررہے ہیں تو وہ ہی کریں یہ قوم ووم کا چکر چھوڑیں۔ جہاں تک بات رہی کہ باقی سب سیاستدان بھی تو یہی سب کرتے ہیں یا کر چکے ہیں تو اگر آپ نے بھی وہ سب دہرانا ہی ہے تو پھر تو پرانا پاکستان ہی ٹھیک تھا اتنی کیا حجت کرنی؟ ساتھ میں یہ بھی یاد دہانی کرانی تھی کہ جس نے بھی آپ کو وزیر اعظم کی یہ سیج سجا کے دی ہے وہ ایک ہلکی سی چوں پر کسی بھی لمحے آپ کے پیروں تلے زمیں کھینچ لیں گے اور اس وقت کوئی زندہ لاش آپ کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

انعم احمد خان کی دیگر تحریریں
انعم احمد خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں