میمو گیٹ اسکینڈل: حسین حقانی کو واپس لانا انتہائی دشوار ، سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی


میمو کمیشن کیس میں عدالتی معاون احمر بلال صوفی نے حسین حقانی کو واپس لانے کے لئے قانونی ڈرافٹ پیش کردیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے میمو کمیشن کیس کی سماعت کی جس میں عدالتی معاون نے ڈرافٹ پیش کیا۔

ڈرافٹ کے مطابق حسین حقانی کو نیب قانون کے تحت ہی واپس لایا جاسکتا ہے، ریڈ وارنٹ جاری ہونے پر انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔

حسین حقانی کو توہین عدالت کیس میں وطن لانا بھی ممکن نہیں تاہم سفارتخانہ فنڈز میں خردبرد کیس ان کو واپس لانے کیلئے اہم ثابت ہو سکتا ہے جس کے لئے قانون سازی کرنا ہو گی

چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری درخواست پر حسین حقانی کو پاکستان لانا شاید ممکن نہیں ۔ اس پر عدالتی معاون نے کہا کہ دفتر خارجہ امریکہ سے مایوسی کا اظہار کر سکتا ہے ۔

عدالت نے احمر بلال صوفی کو اپنی تجاویز اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ اٹارنی جنرل اپنی رائے دے دیں جبکہ اس حوالے سے عدالت نے نیب سے بھی رائے طلب کر لی تاہم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں