سیاست دان دہشت گرد ہیں اور عدلیہ محسن قوم


یادش بخیر ملک میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھرنے والی تحریک انصاف کے سربراہ اور متوقع وزیر اعظم عمران خان بھی دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔ اب اسلام آباد کی چوکس پولیس نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر مظاہرہ کرنے والے بعض سیاسی کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے اور نمایاں لیڈروں کو فی الوقت ’نامعلوم‘ ملزمان کی فہرست میں ڈال کر یہ معاملہ آنے والی حکومت پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف فوج اور چیف جسٹس کے خلاف نعرے لگانے پر دہشت گردی کے الزام میں کارروائی کی اجازت دیتی ہے یا سیاسی مخالفین پر رحم کھاتے ہوئے انہیں ’معاف‘ کرنے کا حکم صادر کرتی ہے۔ اسلام آباد پولیس کا متعلقہ انسپکٹر بھی اس قدر چوکس ہے کہ اس نے اس معاملہ میں قانون سے رجوع کرنے یا افسران بالا سے رہنمائی طلب کرنے کی بجائے منتخب حکومت کی آمد کا انتظار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ کیوں کہ اس ملک میں قانون حکمرانوں کے چشم و ابرو کا محتاج ہوتا ہے۔ اس لئے قانون کے رکھوالے قانون پر نگاہ رکھنے کی بجائے قانون دانوں پر نظر رکھتے ہیں اور بعض اوقات کہے کو کم اور ان کہے کو زیادہ مانتے ہوئے ضروری اقدام کرتے ہیں۔

زمام اقتدار سنبھالتے ہوئے عمران خان اور تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ اداروں کو درست کردیں گے۔ شاید اسی خوف میں ادارے پہلے سے ہی درستی کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔ ملک کے الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے پیمرا نے سپریم کورٹ کے حکم پر ملک کےتمام نجی ٹیلی ویژن چینلز کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے پرائم ٹائم میں چیف جسٹس کے ڈیموں کی تعمیر کے لئے قائم کئے ہوئے فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل کرنے کا اہتمام کریں ۔ یہ حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت دی گئی ہے کہ دو روز کے اندر متعلقہ اشتہار کے متن کو آزادی اظہار کے ’محافظ‘ پیمرا کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے چونکہ یہ نہیں پوچھا جاسکتا کہ وہ کس قانون اور آئین کی کون سی شق کے تحت ملک کے پرائیویٹ میڈیا اداروں کو ایک خاص مقصد سے اشتہار چلانے کا حکم صادر کرسکتے ہیں، جنہیں آئین ہی خودمختارانہ رائے کے اظہار کا حق دیتا ہے۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ چیف جسٹس ڈیم بنانے کے جوش میں اپنے سامنے پیش ہونے والے سرمایہ داروں کو بھی اس اہم قومی منصوبہ میں اعانت کرنے کا مشورہ نما حکم دیتے رہے ہیں۔

 چیف جسٹس ثاقب نثار چونکہ ایک ایسے عہدے پر فائز ہیں جو آئین کی موجود تفہیم کے مطابق سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے، اس لئے ان سے اور ان کے حکم پر عمل کرنے کی صورت میں پیمرا سے کون پوچھ سکتا ہے کہ وہ کیسے نجی اداروں کو اپنی مرضی کے اشتہار چلانے کا حکم جاری کر سکتا ہے۔ یوں تو قانون کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اگر کوئی افسر بالا کسی ماتحت کو قانون شکنی کا حکم دے تو متعلقہ جونیئر اس افسر کے غیر قانونی حکم کو ماننے سے انکار کرسکتا ہے بلکہ اسے انکار کرنا چاہئے تاکہ وہ خود بھی اس قانون شکنی کا مرتکب قرار نہ پائے جس کا ارتکاب کرنے کا حکم اسے دیا جا رہا ہے۔ تاہم ملک میں آئین و قانون کو نظر انداز کرنے کی افسوسناک تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی ہمیشہ آئین شکنی کو ’جائز‘ قرار دینے کو ہی محفوظ راستہ سمجھا ہے اور ججوں کی اکثریت نے فوجی آمروں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے ان کے جاری کردہ عبوری آئینی حکم ۔ پی سی او پر حلف اٹھانا بھی ضروری خیال کیا۔ ایسے ججوں کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جنہوں نے غیر آئینی اقدام کو مسترد کرنے اور آئین کے نام پر جاری ہونے والے غیر آئینی حکم کو قبول کرنے سے انکار کیا ہو۔ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ’خود مختار اور آزاد‘ عدلیہ نے دو وزرائے اعظم تو ضرور معزول کئے ہیں لیکن نہ کسی سابق فوجی افسر کو کسی بھی الزام میں سزا دینا ضروری سمجھا ہے اور نہ ہی بعد از وقت کئے جانے والے کسی فیصلہ میں کسی جج کوآئین شکنی یا قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ تاکہ ملک کی اعلیٰ عدلتوں کے سابقہ ججوں کی آئین شکنی کے حوالے سے ریکارڈ درست کیا جاسکتا۔

اس پس منظر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اگر قومی جذبہ سے سرشار ڈیم بنانے کے جوش میں عوام سے چندہ اکٹھا کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کر رہے ہیں تو کون مائی کا لال ان کا راستہ روک سکتا ہے۔ ملک میں فوج اور عدالتوں کی پروپیگنڈا مشینری نے پہلے ہی یہ رائے مستحکم کرلی ہے کہ سیاست دان جو بھی فیصلہ کرے گا اس میں کمیشن کھائے گا اور بد عنوانی کرے گا ۔ اس کے برعکس اگر فوج یا عدالت کوئی فیصلہ کرتی ہےتو اس کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کے بارے میں بال کی کھال اتارنے کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ قدم قومی مفاد کے عین مطابق ہوتا ہے۔ قومی مفاد کی یہی تشریح گو کہ اس ملک کے بیشتر سیاسی اور آئینی مسائل کی جڑ ہے لیکن اسے ہر آنے والے دن کے ساتھ مستحکم اور مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اب اس اصول اور تفہیم کو قومی شعار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عدالتیں اگر قومی مفاد اور عوام کےفائدے کے لئے کوئی حکم دیتی ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس جب انصاف کرنے اور عدالتی امور نمٹانے کے علاوہ ہسپتالوں کی اصلاح کرنے، شہر صاف کروانے اور پانی کی قلت دور کرنے کے لئے ڈیم بنانے کے منصوبوں کی سرپرستی کرتے ہیں تو ہر طرف سے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں ۔ فوج اور سرکاری ملازمین بھی ایک یا دو دن کی تنخواہیں اس کار خیر میں دیتے ہیں اور سرمایہ دار بھی حسب توفیق وسائل فراہم کرتے ہیں۔ قومی جوش و جذبہ کے اس وفور میں یہ پوچھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس قسم کے فیصلوں یا احکامات کا قانونی جواز کیا ہے۔ کیوں کہ جو کام قوم کے مفاد میں ہو اسے فوج کے سربراہ اور منصف اعلیٰ کے علاوہ کوئی سمجھنے کی ’صلاحیت ‘ نہیں رکھتا۔

آئندہ چند روز میں جب ملک بھر کی ٹیلی ویژن نشریات میں چیف جسٹس کی تصویر کے ساتھ ڈیم فنڈ میں چندہ دینے کی اپیلیں نشر ہوں گی اور ٹاک شوز اور کالموں میں اس کار عظیم کی شان میں قصیدے پڑھے جائیں گے تو کسی کو یہ سوال کرنے کا حوصلہ نہیں ہوگا کہ چندہ کر کے ایسے منصوبے کیسے پورے کئے جا سکتے ہیں جن پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو۔ اور ایک قانون دان خواہ وہ ملک کا چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو ڈیم بنانے جیسے منصوبہ کی نگرانی کیوں کر کرسکتا ہے جس کے فنی اور سیاسی پہلوؤں کے بارے میں نہ اسے بنیادی علم ہو اور نہ وہ ان سے نمٹنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔ جس طرح میڈیا مالکان پیمرا کے حکم نامہ پر سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے کہ پیمرا کس اختیار کے تحت انہیں کمرشل وقت کو نام نہاد ’قومی مقصد‘ کے لئے وقف کرنے کا حکم دے سکتا ہے یا یہ کہ ان کے میڈیا ہاؤسز میں کام کرنے والے صحافی اور کارکن بھی قوم کے مفادات کو سمجھتے اور اس کے لئے قربانی دینے کا جوش و جذبہ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ سرمایہ داروں کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جو میڈیا کو صنعت اور کاروبار سمجھ کر اس میں شامل ہوئے ہیں اور مالی مفاد سے زیادہ کوئی بات سمجھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ یوں بھی پیمرا کے جائز و ناجائز حکم کے خلاف جن عدالتوں سے رجوع کرنے کا قانونی امکان موجود ہے، اسی کا چیف جسٹس یہ حکم جاری کروانے کا سبب بن رہا ہے تو کہاں کی اپیل اور کیسا قانون۔

میڈیا مالکان نے نئے جمہوری دور میں ’سیلف سنسر شپ‘ کو ایک کلاسیکل اصطلاح بنا دیا ہے۔ یعنی جو کام ایوب خان اور ضیا الحق کے دور میں پی آئی ڈی کے اہل کار یا فوجی افسر کرتے تھے ،وہ اب مالکان کی سیلف سنسر شپ کی خود ساختہ خوبصورت تشریح کی بدولت بخوبی انجام پاتا ہے۔ مالکان کو مقتدر حلقوں کے ساتھ خیر سگالی کی بنیاد پر ہونے والی ملاقاتوں میں قومی مفاد کی جو تعبیر بتائی جاتی ہے وہ پوری وفاداری سے اپنے صحافیوں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ صحافیوں اور اینکرز سے اگر کوئی پوچھے ’حضور وہ آپ کی خود مختاری کیا ہوئی ؟‘ تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اگر وہ مالکان کی بات نہ مانیں تو غریب کارکنوں کا روزگار بند ہوجائے گا۔ ملک کے مؤقر انگریزی روزنامہ ڈان اور اس کی ٹیلی ویژن نشریات کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا کچھ احوال اخبار نے ایک اداریہ میں بیان کیا تھا اور باقی ماندہ اس کے سی ای او حمید ہارون نے بی بی سی کے پروگرام’ ہارڈ ٹاک‘ سے انٹرویو میں بتا دیا تھا۔ لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جیو اور جنگ کو طویل عرصہ تک ریاستی اداروں کی خفگی کا سامنا رہا بالآخر ہزاروں کارکنوں کے گھروں کے چولہے جلانے کے لئے اسے بھی قومی مفاد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

ملک کے ادارے میڈیا کا کام ہی ’آسان ‘ نہیں کر رہے اور قومی مفاد و حقیقی جمہوری کلچر کے لئے صرف اینکرز اور کالم نگاروں کی تربیت کا ہی اہتمام نہیں کیا جارہا بلکہ چیف جسٹس کے ڈیم بنانے کے عظیم منصوبے آنے والی حکومت کے لئے بھی سہولت پیدا کریں گے۔ عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور کسی کی ’ڈکٹیشن‘ نہیں لیتے لیکن وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچنے کے لئے انہوں نے قومی مفاد کا جو سبق یاد کیا ہے اس کی روشنی میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اسی قومی جذبے سے سر شار چیف جسٹس کے شروع کئے ہوئے منصوبوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اپنے پورے تعاون کا یقین دلائیں گے۔ عمران خان حکومت سنبھالنے کے بعد عوام سے 8 ہزار ارب روپے اکٹھے کرنے کے عزم کا اعلان کر چکے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے پیسے درست جگہ صرف ہوں گے تو وہ چندہ دینے میں دریغ نہیں کرتے۔ اس طرح عمران خان اور جسٹس ثاقب نثار ایک ہی مقصد کے لئے کام کررہے ہیں۔ یوں بھی عمران خان، نواز شریف کو ان کے راستے سے ہٹانے پر ثاقب نثار کے ممنون ہیں۔ انہیں اب کرسی بھی بچانی ہے اور یہ بھی بتانا ہے کہ وہ ناشکر گزار نہیں ہیں۔

ایسےمیں اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر کو اپوزیشن کے سیاسی قائدین کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمات قائم کرنے اور ملزموں کو پکڑنے کے لئے شاید زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو یکساں طور سے یہ سمجھنا ہو گا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس یا آرمی چیف جب آئین و قانون کی خلاف ورزی پر مجبور ہوتا ہے تو اسے قومی مفاد کہا جاتا ہے اور جو لوگ قومی مفاد کے خلاف نعرے لگاتے ہیں ، وہ دہشت گرد کہلاتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی پر محیط جمہوریت کے اس سفر میں اہل پاکستان اس مقام تک تو آگئے ہیں۔ مزید دو چار سالوں میں آزادی اظہار کی طرح پارلیمانی جمہوریت بھی قومی مفاد کے راستے کا پتھر بن سکتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 981 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali