یمن: اتحادی فضائیہ کی سکول بس پر بمباری، درجنوں بچے ہلاک


A Yemeni man holds a boy injured in an air strike in Saada (9 August 2018)

Reuters
ریڈ کراس نے کہا ہے کہ کے سدا کے ہسپتال میں ایک بڑی تعداد میں زخمییوں اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں لائی گئی ہیں۔

باغیوں کے زیرِ قبضہ شمالی یمن کے علاقے میں سعودی عرب کے زیرِ قیادت اتحادی فضائیہ کی ایک سکول بس پر بمباری سے درجنوں افراد اور مقامی سکول کے طلبا ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے ذرائع کے مطابق یہ بس صعدہ صوبے کے شہر ضحيان کی ایک مارکیٹ سے گزر رہی تھی جب یہ ہوائی بمباری کا نشانہ بنی۔

باغیوں کے علاقے میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 43 ہے جبکہ ریڈ کراس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں دس برس سے کم تھی۔

مزید پڑھیئے

یمن میں جنازے پر حملہ اور تباہی

یمن میں سعودی اتحادی افواج کا حدیدہ بندرگاہ پر یلغار

’یمن کی بیوقوفانہ جنگ سعودی عرب کے فائدے میں نہیں‘

اتحادی افواج نے، جو حوثیوں کے خلاف یمن کی حکومت کی حمایت میں لڑ رہی ہے، کہا ہے کہ ان کی بمباری قانونی طور پر درست تھی۔

اُس کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے شہریوں کو کبھی بھی جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اتحادی افواج پر ہسپتالوں، مارکیٹوں، سکولوں اور رہائیشی علاقوں پر بمباری کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

صعدہ میں کیا ہوا؟

شمالی یمن کے قبائلی زعما کا کہنا ہے کہ سکول کی یہ بس اس وقت بمباری کا نشانہ بنی جب یہ ضحیان کی ایک مقامی مارکیٹ کے قریب سے گزر رہی تھی اور اس بس میں مقامی سکول کے بچے اور کچھ مقامی افراد سوار تھے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ جمعرات کو سدا کے ایک ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں لائی گئیں۔ ریڈ کراس اس ہسپتال کی امداد کرتی ہے۔

A doctor treats children injured by an air strike in Saada, Yemen (9 August 2018)

Reuters
بین ااقوامی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ وہ مقامی ہسپتال کیلئے امدادی سامان بھیج رہا ہے تاکہ زخمیوں کے اتنے بڑے ہجوم سے نمٹا جاسکے

یمن میں ریڈ کراس کے عملے کے سربراہ جوہنس بروور نے ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ ایک بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور ان میں ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کی عمریں دس برس سے کم تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اس ہنگامیں حالت سے نمٹنے کیلئیے ہسپتال کو ہنگامی بنیادوں پر مزید سپلائیز بھیج دی گئیں ہیں۔

حوثیوں کے ٹیلیویژن چینیل المسیرہ نے کہا ہے کہ اس حملے میں بچوں سمیت 47 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 77 زخمی ہوئے۔ اس چینیل نے ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشوں کی تصویریں نشر کی ہیں جن میں وہ سکول یونیفارم پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ردِّعمل کیا آیا؟

حوثیوں کے ترجمان عبدالسلام نے اتحادی افواج پر عام ہجوم کو بمباری کا نشانہ بنا کر شہریوں کے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی نے زور دے کر کہا ہے کہ بین االاقوامی قوانین کے مطابق شہریوں کی حفاظت ہر حال میں کرنا لازم ہے۔ جبکہ ناروے کی مہاجرین کی کونسل کے سیکریٹری جنرل یان ایگلینڈ نے اس حملے کو بھونڈا اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی فوج جنگ کے قواعد و ضوابط کو مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا بس اتحادی فضائیہ کی بمباری کی براہ راست نشانہ تھی، تاہم اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ انھوں نے ایک درست کارروائی کی جو بین الاقوامی ضوابط کے مطابق جائز تھی۔

Smoke rises after a reported air strike in Sanaa, Yemen (9 August 2018)

Reuters
باغیوں کے زیرِ قبضہ یمن کے دارالحکومت صنعا پر سعودی بمباری کی خبریں آتی رہی ہیں۔

اتحادی افواج کے ترجمان کے نے کہا کہ انھوں نے بدھ کی شب عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا جو جزان میں یمنی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ترجمان کا دعویٰ تھا کہ باغیوں کے اس حملے میں ایک شہری ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے تھے۔ ان کے مطابق قریبی علاقے عمران کے حوثی باغیوں نے ایک میزائیل داغا تھا جس کو ہوا ہی میں مار گرایا گیا تھا۔

ترجمان نے حوثیوں پر بچوں کو اپنے حملوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ڈھال بنانے کا بھی الزام لگایا۔

Map of Yemen showing location of Dahyan, Saada province

BBC

اس کے بعد باغیوں کے زیرِ قبضہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں فضائی بمباری کی خبر آئی۔

ایک ہفتہ قبل بھی بحیرہ احمر پر بندرگاہ والے شہر حدیدہ میں بمباری سے 55 افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے تھے۔ لیکن سعودی عرب کے زیر قیادت افواج کے ترجمان نے حملے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ بمباری باغیوں کی مارٹر فائرنگ کی وجہ سے ہوئی تھی۔

یمن میں جنگ کیوں ہے؟

یمن کی جنگ میں تیزی اس وقت آئی جب سن 2015 میں حوثی باغیوں نے ملک کے مغربی علاقے کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا اور یمنی صدر عبد ربو منصور ہادی کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔

حوثیوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت سے خبردار ہو کر متحدہ عرب ممالک، سعودی عرب، اور سات دیگر عرب ممالک نے مل کر مداخلت کی اور ہادی کی حکومت کو بحال کیا۔ ان کے بقول حوثی ایران کی حمایت یافتہ عسکری گروہ ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطباق کم از کم دس ہزار افراد جن میں دو تہائی شہری ہیں، اس جنگ کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ پچپن ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

یمن میں جنگ اور اس محاصرے کی وجہ سے دو کروڑ سے زیادہ افراد اس وقت ایک المناک حالت کا شکار ہیں جنھیں امداد کی سخت ضرورت ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یمن میں اس وقت دنیا کا سب سے بڑا خوراک کی کمی کا بحران ہے جس کے نتیجے میں وہاں ہیضہ کی وبا پھیل گئی ہے جس سے مزید لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5674 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp