پاکستان میں انصاف کا حصول – نقش بر آب


Hashim 1فروری 2011 کو کینیڈا کی چیف جسٹس بیورلے میک لیکلن نے اپنے حکمرانوں کو تنبیہ کی تھی کہ انصاف کی رسائی صرف امیروں تک محدود ہو گئی ہے کیونکہ متوسط اور غریب طبقوں کو انصاف اور ان کے حقوق کی صفوں سے نکال دیا گیا ہے اس بیان کے ساتھ ہی کینیڈا میں جیسے بھونچال آ گیا ہو  وہاں کے حکمرانوں نے اپنی ترجیحات کی سمت کو درست کیا۔

بلا شبہ چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی صاحب بھی کئی دفعہ اپنے خطاب میں برملا اسی پہلو کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن ہمارے پیارے ملک میں نہ تو کوئی بھونچال آیا اور نہ ہی حکمرانوں نے اپنی ترجیحات کی سمت کو تبدیل کیا بلکہ اُن ترجیحات میں اضافہ ہوا جس کا تعلق امرا، جاگیرداروں، وڈیروں، اور خانان سے وابستہ ہیں۔ غریب و متوسط طبقے کو نہ صرف انصاف کی فراہمی سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ اُن کے حقوق کی پا مالی انتہائی بے دردی سے کی جا رہی ہے۔ اس کے صلے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، دہشت گردی، تعصب و فرقہ واریت، تعلیم کا فقدان، مہنگائی اور مزید کئی عفریتوں کی شکار متوسط و غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی عوام کو ہی اُن کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

انصاف اور حقوق کی رسائی غریب اور متوسط طبقے تک کیوں نہیں ہو پا رہی ہے؟ کیوںکہ قانون کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ قانون کو معزول کیا جا رہا ہے۔ قانون سازی اپنے مفادات کے حصول کے لئے کی جا رہی ہے

کون کر رہا ہے قانون کو معزول یا قانون کی بے حرمتی؟ اس کا جواب تو بیورلے میک لیکن اور جناب انور ظہیر جمالی صاحب نے دے دیا اور اب تو اس کا جواب روز روشن کی طرح عیاں بھی ہو چکا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کا کام کسی بھی لحاظ سے تسلی بخش نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جن بلوں کو قانون کی شکل دی جاتی ہے اس پر سنجیدگی اور توجہ سے بحث ہی نہیں کی جاتی۔ نتیجہ وہی” ڈھاک کے تین پات”۔ قانون کی ایسی شکل سامنے آتی ہے کہ جس کا کوئی بھی متوازن قانونی نظام اجازت نہیں دیتا۔ سیکورٹی ادارے خود قانون کی پامالی کر رہے ہوتے ہیں جو کہ وفاق اور صوبے کے وزراؤں کے زیر اثر کام کرتے ہیں۔ جب ہی تو سپریم کورٹ کو کہنا پڑا کہ” سیکورٹی ادارے اگر قانون کے پابند نہیں تو دفاتر پر داعش کے جھنڈے لہرا دیں”۔ یہ ملک کو پنپنے نہ دینے کا المیہ ہے کہ سیکورٹی ادارے قانون کی دھجیاں اس طرح سے بکھیر رہے ہوتے ہیں جس سے یہ پیغام تسلسل سے دیا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم ہی قانون کے رکھوالے ہیں اور ہم ہی قانون شکن۔ جناب چیف جسٹس صاحب کو یہ بھی کہنا پڑ گیا کہ”جمہوریت کے نام پر کچھ گروہ ملکی وسائل پر قابض ہیں۔ عام آدمی کو دو وقت کی روٹی ملنا محال ہورہی ہے۔ معاشرے سے خوف خدا اور حرام و حلال کا فرق ختم ہوتا جا رہا ہے”۔ چیف جسٹس صاحب معاشرے کی تباہ حالی کی عکاسی اور اس کے ذمہ داروں کا درست تعین کر رہے ہیں۔ عوام خود بھی شب و روز اس کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کبھی سوئس کیس کے نام سے تو کبھی وکی لیکس اور اب پاناما لیکس، آف شور اکاونٹس اور کمپنیوں کے نام سے۔

جناب جون ایلیا صاحب اپنی تحریر میں فرماتے ہیں کہ “حکمرانوں سے کہو کہ عام آدمی سے سمجھوتا کریں کہ جو قانون ہم نے بنایا ہے اس کا احترام ہم بھی کرتے ہیں تم بھی کرو، اور جب عام آدمی کو قانون کا پابند بنا دیا گیا ہو تو پھر خاص آدمیوں کو بھی اس کا پابند ہونا ہو گا۔ اگر قانون کی دو طرفہ رعایت نہیں کی گئی اور اس کی حرمت کو برقرار نہیں رکھا گیا تو پھر ان بستیوں میں جنگل سے درندے ہی آکر آباد ہوں گے”۔ جناب جون صاحب آپ نے درست فرمایا ہماری بستیوں میں، ہمارے شہر میں جنگل کے درندے ہی آ کر آباد ہو رہے ہیں جو ایک موبائل کی خاطر کسی کی جان لینا غلط نہیں سمجھتے۔ یہ درندے ہمارے پارکوں میں ہماری مسجدوں میں حملے کرتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کو اپنا تر نوالہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ سب متوسط و غریب طبقے کو انصاف کی فراہمی سے محروم رکھنے کے سبب ممکن ہوا۔

قانون کی معزولی اور اس کی بے حرمتی اور غریب و متوسط طبقے کو انصاف کی صفوں سے نکال دیئے جانے کے سبب ہمارا معاشرہ “نقش بر آب “ہوتا جا رہا ہے۔ میرے منہ میں خاک کہیں نقش بر آب ہو ہی نہ جائے۔ اللہ کرے اس سے قبل کہ میری صدا میری گونج ہر طول و عرض تک پہنچ جائے ہے کوئی دانشور، علم و حکمت و دانائی سے مالا مال جو اس زہر کا تریاق دریافت کر سکے؟ تمھارے، میرے اور آنے والوں کے لئے نجات کا راستہ تلاش کر سکے۔


Comments

FB Login Required - comments