شاہ صاحب کا تعویذ اور اسمبلی کا اجلاس


adnan-khan-kakar-mukalima-3

پاناما کے کاغذات پر اپنا موقف دینے کے لیے میاں نواز شریف اسمبلی میں تشریف لاتے ہیں۔ ن لیگی اراکین کے نعروں سے ہال گونج اٹھتا ہے ’دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا‘۔ وہ نعروں کی گونج میں اپنی نشست سنبھالتے ہی ہیں کہ عمران خان اسمبلی کے ہال میں داخل ہوتے ہیں۔ فضا میں تحریک انصاف والوں کے نعرے گونجنے لگتے ہیں ’دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا‘۔ ن لیگی صفوں کی جانب سے ہنسنے کی آوازیں بلند ہوتی ہیں تو ایک سیانا انصافی چلاتا ہے ’اوئے ٹائیگرو، آج پھر شکاری کہنا بھول گئے ہو‘۔

عمران خان بھی اپنی نشست سنبھال لیتے ہیں اور سوچنے لگتے ہیں۔

میرا پکا ارادہ ہے کہ اسمبلی میں میاں نواز شریف صاحب کی کرپشن کو بنیاد بنا کر ان کے پرخچے اڑا دوں گا۔ پاناما پیپرز میں ننھے منے گولو گولو سے شریفوں کے نام پر کمپنیاں کھلنا ان کی کرپشن کا حتمی ثبوت ہے۔ مجھے الیکشن کمیشن، عدلیہ اور دوسرے اداروں پر یقین نہیں ہے اس لیے وہاں میاں نواز شریف کی نااہلی کی درخواست نہیں دوں گا۔ ویسے یقین تو مجھے اسمبلی پر بھی نہیں تھا اور میں اس کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کو وقت ضائع کرنے کا بہانہ سمجھتا تھا، مگر اب ہمارے شاہ صاحب نے جب سے اپنا کوئی تعویذ پلا کر اپوزیشن کی پارٹیوں کو اپنے اشاروں پر ناچنے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ سب بھی حکومتی کرپشن کے خلاف مہم چلانے پر راضی ہو گئی ہیں، تو پارلیمنٹ کو میاں صاحب کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنے شاہ صاحب کا تو اب میں بھی مرید ہوتا جا رہا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ اپنے موجودہ پیر صاحب سے ترک تعلق کر کے اب شاہ صاحب کی باقاعدہ بیعت کر لوں۔

ہمارے شاہ صاحب بھی کمال کے شخص ہیں۔ جس طرح سے میں نے اے این پی والوں کو مسلسل برا بھلا کہا، اس کے بعد تو ان کی شرم سے بری حالت ہو گئی تھی۔ لیکن پھر بھی شاہ صاحب پورا وفد لے کر ان کے پاس چلے گئے۔  ہمارے شاہ صاحب نے پتہ نہیں کون سا تعویذ انہیں گھول کر پلایا  کہ وہ  شرم سے پانی پانی ہو گئے اور ان کو میری تقریروں پر لعنت ملامت کرنے کی بجائے خوب چائے پانی پلایا۔ اس کے بعد شاہ صاحب پیپلز پارٹی والوں کے پاس گئے۔ کرامت دیکھیں ان کی، آٹھ سال سے میں آصف علی زرداری کو برا بھلا کہہ رہا ہوں اور پیپلز پارٹی کو میاں صاحب کی حکومت آنے سے پہلے کرپٹ ترین کہتا تھا، مگر خورشید شاہ تو ان کے ایسے مرید ہوئے کہ کہنے لگے کہ کرپشن کے ہم پیپلز پارٹی والے بھی دشمن ہیں۔ ہم کرپشن کے خلاف آپ کی اس جنگ میں آپ کے ساتھ ہیں۔ بلکہ ساتھ کیا ہیں، ہم اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے خود ان لیگیوں سے نمٹ لیں گے۔ پتہ نہیں کیا گھول کر پلا دیا ہے ہمارے شاہ صاحب نے کہ ساری اپوزیشن ہی ان کی مرید ہو گئی ہے اور اب ہمارے ساتھ کرپشن کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکی ہے۔

خورشید شاہ صاحب نے بہترین پلان بنایا ہے کہ میاں نواز شریف کو گھیر گھار کر پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔ پھر چپ چاپ ان کی تقریر سنی جائے گی تاکہ وہ جو کہنا چاہتے ہیں، کہہ ڈالیں۔ اور جب تقریر ختم ہو جائے گی تو پھر پہلے خورشید شاہ صاحب اور پھر میں خود ان ن لیگیوں کے بخیے ادھیڑ دوں گا۔ عدالت سے انہیں ان کے چالاک وکیل بچا لیتے ہیں، الیکشن کمیشن میں مجھے لگتا ہے کہ یہ کمیشن کی جانبداری سے بچ جاتے ہیں، لیکن پارلیمان میں کون بچائے گا انہیں خورشید شاہ صاحب اور میرے حملوں سے۔ خورشید شاہ صاحب نے انتظام کر لیا ہے کہ ہماری تقریریں بھی براہ راست نشر کی جائیں گی اور قوم خود ہی جان لے گی کہ ہم میاں نواز شریف کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور کیسے ان کی کرپشن کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ لو میاں صاحب تقریر کرنے لگے ہیں۔ اب کھیل شروع ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے تو میں ایک بال میں دو وکٹیں لینے کی دھمکی دیتا تھا، یہاں تو ان کو بالوں کے بغیر ہی آؤٹ کر دوں گا۔ میرے ٹائیگرو، تیار رہو، میاں صاحب اب نو بال پر آؤٹ ہونے لگے ہیں۔

nawaz-sharif-parliamentمیاں نواز شریف تقریر کرنے کھڑے ہوتے ہیں۔

جناب سپیکر، آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم جدی پشتی امیر لوگ ہیں۔ سات پشتوں سے ہماری دولت کے قصے مشہور ہیں۔ ہماری پچھلی چھے پشتیں روحانی طور پر بڑی امیر تھیں مگر ساتویں پشت میں جب درویش صفت ابا جی نے روحانیت کی دولت کے بعد دنیاوی دولت بھی اکٹھی کرنی شروع کی تو پچاس کی دہائی میں حکومت سے پچیس ہزار روپے قرضہ لے کر فاؤنڈری چلانے کی کوشش کی۔ پھر اللہ دے اور بندہ لے۔ ایسی چل سو چل ہوئی کہ ملک کے تئیس امیر ترین خاندانوں میں ہمارا شمار ہونے لگا۔ ویسے تو ہم سب سے بڑے صنعت کار تھے، مگر ہمارے دور اندیش اور زیرک ابا جی نے صورت حال کو خوب بھانپ لیا کہ یہ سوشل ازم کمیونزم وغیرہ کا دور ہے، اس لیے جب صنعت کاروں کے خلاف مہم چلی تو ابا جی نے اسے بڑی مہارت سے امیر خاندانوں کی فہرست سے ہمارا نام نکلوا کر صرف بائیس خاندانوں کی طرف موڑ دیا اور ہمارے خاندان کو صاف بچا لے گئے۔

مگر بدقسمتی سے بھٹو کی حکومت آ گئی۔ اسے پتہ تھا کہ سب سے امیر شریف خاندان ہی ہے، اس لیے اس نے ہماری ساری جائیداد ضبط کر لی اور ایک پیسہ بھی ہمارے پاس نہ چھوڑا۔ ایسے میں ابا جی ادھار ٹکٹ لے کر دبئی چلے گئے۔ وہاں انہوں نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر کچھ بس نہ چلا تو مایوسی کی حالت میں ایک دن سجدے میں گر کر بہت گڑگڑا گڑگڑا کر دعا کی۔ آنسو بہنے لگے، کچھ دیر بعد ان کو لگا کہ آنسوؤں سے گیلی ہوئی ریت میں سے عجیب سی بو آ رہی ہے۔ انہوں نے ریت کو خوب تم پایا تو اسے اپنے ہاتھوں سے ہی تھوڑا سا کھودا۔ خدا کی قدرت کہ وہاں تیل کا چشمہ نکل آیا۔ سچ ہی ہے کہ کئی گھڑیاں دعاؤں کی قبولیت کی ہوتی ہیں۔ ابا جی نے خدا کا خوب شکر ادا کیا، اور ادھار کرائے پر ایک ٹینکر لے کر آئے اور چشمے سے تیل بھرنا شروع کر دیا۔ خدا کی قدرت کہ اس چشمے سے پورے ستائیس ٹینکر تیل نکلا جسے بیچ کر ابا جی نے وہاں گلف سٹیل مل لگا لی۔

behind_the_scenes_68

پھر جب اس محسن کش مشرف نے مجھے اندر کر دیا تو ابا جی نے یہ فیکٹری سترہ ملین ڈالر میں بیچ کر لندن میں پچھلے سالوں میں پچیس ملین ڈالر کے فلیٹ خرید لیے اور ساتھ باقی بچے ہوئے پیسوں سے جدے میں ایک اور سٹیل مل لگا لی۔ اب آپ یہ پوچھیں گے کہ سٹیل مل بعد میں بیچی اور فلیٹ پہلے خریدے تو اس کا سادہ سا جواب ہے۔ ابا جی کی دبئی میں فلم بیک ٹو دا فیوچر والے سائنسدان بابے سے ملاقات ہوئی تھی اور اس نے ان سے متاثر ہو کر اپنی ٹائم مشین والی گاڑی ان کے حوالے کر دی تھی جس میں بیٹھ کر وہ کسی بھی اگلی پچھلی تاریخ میں دبئی والے پیسے لے جا کر کاروبار کر لیتے تھے۔

خدا نے جدے والی مل میں بہت برکت ڈالی اور جب اسے بیچا تو عربوں نے اربوں روپے کی خرید لی۔ اسے بیچ کر انہوں نے خاندان کی اگلی پشت کو لندن میں کاروبار کروا دیا۔ مگر کیونکہ سعودی ارب میں ریال ہوتے ہیں اور لندن میں پاؤنڈ، تو ریالوں کو پاؤنڈ میں تبدیل کرانے کے لیے انہوں نے اس رقم کو پاناما نہر کے ذریعے سعودی عرب سے لندن بھجوایا۔ یہ جو پاناما پیپرز ہیں، یہ اصل میں پیسے لے جانے والے جہاز کا بورڈنگ پاس ہے، اور کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ کسی بھی ملک جائیں، یا کسی دوسرے شہر بھی جائیں تو جہاز میں بیٹھتے وقت یہ پیپرز ملتے ہیں۔ میرے پاس پاناما کے علاوہ ستر اسی ملکوں کے ایسے اور بھی پیپرز ہیں۔ اب جو لوگ چندے مانگتے ہیں، پلاٹ مانگتے ہیں، حکومت مانگتے ہیں، کیا ان کے نام پر ایسے پیپرز نہیں ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ ابا جی اتنے امیر تھے کہ ان کی وجہ سے ہمارے پاس سب سے زیادہ پیپرز ہیں، لیکن یہ چندے مانگنے والے اس پر جلنے کی بجائے خود کوشش کریں۔ محنت کر، حسد مت کر۔ پاکستان پائندہ باد۔

نواز شریف مسکراتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھ جاتے ہیں۔ عمران خان تقریر کرنے کی تیاری پکڑتے ہیں، مگر شاہ صاحب ان کا بازو پکڑ کر ان کو یاد کراتے ہیں کہ وزیراعظم پر حملے کی ابتدا اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب نے کرنی ہے۔ عمران خان بیٹھ جاتے ہیں اور خورشید شاہ صاحب کی طرف دیکھتے ہیں۔ خورشید شاہ کے چہرے پر شدید غصے کے آثار ہیں۔ واضح طور پر وہ وزیراعظم کی تقریر پر خوب پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔ وہ غصے سے لرزتے ہوئے اٹھتے ہیں۔ عمران خان کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوتے ہیں۔ خورشید شاہ صاحب بلند آواز میں کہتے ہیں، ’ہم نے سات سوالوں کا جواب مانگا تھا، اب ستر نئے سوال پیدا ہو گئے ہیں، میں اتنا لمبا پرچہ حل نہیں کر سکتا ہوں، میں ایوان کا بائیکاٹ کرتا ہوں۔ ساری اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر رہی ہے۔ اپوزیشن والو! چلو میرے پیچھے پیچھے۔ ہم سات سوالوں کے جواب کے لیے آئے تھے، ستر کے لیے نہیں۔ ہم سٹوڈنٹس کے ساتھ یہ زیادتی ہرگز بھی برداشت نہیں کریں گے۔ چلو چلو باہر چلو‘۔

kk

عمران خان ہکے بکے ہو کر اپنی جگہ پر جم جاتے ہیں۔ ان کے شاہ صاحب ان کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہیں، اور واک آؤٹ کرنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ باہر خورشید شاہ کو پہلے ہی میڈیا گھیر چکا ہے اور وہ تقریر کر رہے ہیں۔ یہ دونوں وہاں پہنچتے ہیں۔ بائیں طرف سے شیخ رشید احمد دھکا دے کر پہلی صف میں پہنچتے ہیں اور خورشید شاہ کے پہلو میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دائیں طرف سے تحریک انصاف کے شاہ صاحب آگے نکلتے ہیں، اور پہلی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عمران خان پیچھے کھڑے ہو کر سوچنے لگتے ہیں کہ سات سوالات کے علاوہ اب آٹھواں سوال پیدا ہو گیا ہے، کہ اپنی تحریک خورشید شاہ کے حوالے کرنا کہیں غلطی تو نہیں تھی؟ کہیں ہمارے  شاہ صاحب نے مجھے بھی تو تعویذ گھول کر نہیں پلا دیا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar