کیا کوئی دوسرا راستہ نہیں


mujahid aliپاکستان پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف علی زرداری نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی دفاعی ضرورتوں کو نظر انداز نہ کرے۔ یہ بیان ایک ایسے موقع پرسامنے آیا ہے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایف 16 طیاروں کی خریداری اور فوجی امداد کی فراہمی کے حوالے سے شدید اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ امریکی کانگرس نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان جب تک حقانی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتا، اس وقت تک پاکستان کو فوجی امداد فراہم نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف بھارت ایٹمی آبدوزوں کی تیاری اور میزائل شکن بلاسٹک میزائل کے تجربے کرکے پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بنا ہؤا ہے۔

آصف علی زرداری ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر ہیں۔ انہیں امریکہ کا دوست ہونے کی شہرت بھی حاصل ہے۔ ان کے اس بیان کا یہ مقصد بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں یقین ہو کہ واشنگٹن کے مقتدر حلقوں میں ان کی آواز سنی جائے گی اور امریکی کانگرس میں ان کے دوست اور پاکستان سے ہمدردی رکھنے والے ارکان، ان کی باتوں پر توجہ دیں گے۔ اس بیان کا ایک مقصد پاکستانی فوج کو ایک بار پھر اپنی وفاداری کا یقین دلانا بھی ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے اس بیان کو داخلی سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت بھی ہوگی۔ لیکن اس بیان کے ذریعے یہ اصول سامنے لایا گیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی دفاعی ضرورتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ اس کا کم از کم یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ ملک کی روشن خیال اور ترقی پسند پارٹی کہلانے والی پیپلز پارٹی کے لیڈر یہ اعلان کررہے ہیں کہ پاکستان کے پاس اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو خوش کرنے اور امریکہ سے ہماری کمزوریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان پر بدستور ’مہربانی‘ کرنے کی پالیسی جاری رکھنے کی درخواست کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس بیان میں اس بنیادی اصول کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ہر ملک اپنی ضرورتوں اور سیاسی ، سفارتی اور اسٹریٹیجک تقاضوں کے تحت خارجہ اور دفاعی پالیسی بناتا ہے۔ امریکہ کئی سال سے آہستہ آہستہ یہ واضح کرتا رہا ہے کہ اب اس کے مفادات کا محور بھارت ہے۔ وہ بھارت کو ایران کے سابق شاہ رضا شاہ پہلوی کے ایران کی طرح خطے کا مانیٹر بنانے کی تیاری کررہا ہے تاکہ وہ اس علاقے کے مسائل کو بھی حل کرے اور چین کے مقابلے میں امریکہ اور مغرب کے لئے پہلی دفاعی پوزیشن پر ہونے کا رول بھی ادا کرے۔ پاکستان ان عزائم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

امریکہ سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے آصف زرداری نے گزشتہ ہفتہ کے دوران نیویارک ٹائمز کے ایک جارحانہ، یک طرفہ اور بے بنیاد اداریئے کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس ادریئے کے مندرجات کو مسترد کرنے کی بجائے ملک کے سابق صدر نے اس ادریئے کے اختتامی حصہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بھی پاکستان کو امریکی مفادات کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکومت پاکستان کو افغانستان سے نکلنے کے لئے سہارے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ طالبان کے ساتھ امن قائم کرنے اور انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے اسے پاکستان کی امداد کی ضرورت ہے۔ اسی لئے کانگرس کے ترش اور پاکستان دشمن اعلانات کے بعد امریکی حکومت کے نمائیندے صورت حال کو قابل قبول بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پاکستان کو اہم حلیف قرار دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ صدر اوباما کی صدارت کا آخری سال ہے۔ وہ اس مرحلہ پر کوئی بڑا اور نیا قضیہ کھڑا کرنے سے گریز کریں گے۔ لیکن یہ رویہ نئے صدر کے برسر اقتدار آتے ہی تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے مسلسل پاکستان کی دفاعی، سیاسی اور اسٹریٹیجک ضرورتوں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ پاکستان، کسی بھی طرح واشنگٹن میں پاکستان مخالف بھارتی لابی کی جگہ لینے کے لئے اقدامات کر سکتا ہے۔ اگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی یا حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی صورت میں کوئی فوری اقدام کرکے کانگرس کو راضی کرنے اور امداد بحال کروانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو بھی تھوڑے عرصے بعد کسی دوسرے بہانے سے امریکہ کی طرف سے ایسی ہی نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ امریکہ یہ واضح کر چکا ہے کہ اس کے اصل مفادات بھارت کے ساتھ وابستہ ہیں اور ان میں باہمی تجارتی مفادات کے علاوہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور فوجی قوت کے سامنے دیوار کھڑی کرنے کی بنیادی خواہش بھی شامل ہے۔ ایسے میں پاکستان جو کہ چین کا قریبی دوست ہے، اس حوالے سے طویل المدت امریکی مفادات میں حصہ دار نہیں بن سکتا۔

اس پس منظر میں پاکستانی لیڈروں کو بار بار امریکہ کی طرف دیکھنے اور اسے اپنی قربانیوں کا واسطہ دینے کی بجائے، اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کی ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال رہا ہے تو وہ پاکستان کا کب تک اور کس حد تک ساتھ دے سکتا ہے۔ قومی پالیسی سازی کے تناظر میں ملک کے لیڈروں کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی اس حقیقت کو قبول کرلیا جائے ، ملک و قوم کے لئے اتنا ہی بہتر ہے۔ تب ہی ہم اپنے مفادات کے تحفظ کے دوسرے اور قابل اعتبار دوستوں کی طرف رجوع کرسکیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali