مولانا کا خانوادہ اور سیاسی کاروبار


فضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟ راہ حق میں استقامت کی یہ کہانی بہت طویل ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار تو آپ کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین بقلم خود کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ یہ انہی مبارک دنوں کی بات ہے۔ مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمن ان دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔ مارچ 2005ء میں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔ یہ سب اتنی عجلت میں کیا گیا کہ پہلے سے موجود پراجیکٹ ڈائریکٹر فیاض درانی کو ان کے منصب سے الگ کیے بغیر مولانا کے بھائی کو یہاں تعینات کر دیا گیا۔ فیاض درانی پوچھتا ہی رہ گیا کہ جو سیٹ خالی ہی نہیں اس پر کسی کو کیسے تعینات کر دیا گیا۔ لیکن تعینات ہونے والا مولانا کا بھائی تھا اس لیے فیاض درانی دیواروں سے ٹکریں ہی مارتا رہ گیا۔

دو سال مزید گزرے۔ مولانا کے بھائی کو شاید یہ محکمہ کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا۔ چنانچہ وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ایک خصوصی سمری تیار کی، اکتوبر 2007 ء میں گورنر علی محمد جان اورکزئی نے اس سمری کو منظور کر لیا اور یوں ایک اسسٹنٹ انجینئر کو سپیشل کیس کے طور پر صوبائی سول سروس کا حصہ بنا دیا گیا اور انہیں اسی افغان ریفیوجیز کمیشن میں ایڈیشنل کمشنر لگا دیا گیا۔ 2013ء میں مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو جے یو آئی اس حکومت کا حصہ بن گئی۔ درانی صاحب نے وزیر کا حلف اٹھا لیا۔ 25 فروری 2014ء کو ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور مولانا کے بھائی کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کر دی گئیں۔ اور انہیں ڈی سی او خوشاب بنا دیا گیا۔ ایک اسسٹنٹ انجینئر مقابلے کا امتحان دیے بغیر سول سروس کا حصہ بھی بن گیا اور ڈی سی او بھی لگ گیا۔

اپریل 2016ء میں اسسٹنٹ انجینئر، معاف کیجیے ڈی سی او صاحب، کی خدمات سیفران کے حوالے کر دی گئیں اور سیفران نے انہیں کمشنر افغان ریفیوجیز کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ یہ گریڈ 20 کی پوسٹ تھی جو مولانا کے بھائی کی خدمت میں پیش کر دی گئی۔ محمد عباس خان چیختا رہ گیا کہ یہ اس کی حق تلفی ہے۔ اس نے سی ایس ایس کر رکھا ہے، 19ویں گریڈ کا افسر ہے، اٹلی سے ریفیوجی لاء کورس کر رکھا ہے، آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ’ فورسڈ مائیگریشن‘ کا سمر سکول اٹینڈ کیا ہوا ہے۔ اس منصب پر ایک ایسا شخص کیسے تعینات ہو سکتا ہے جس نے نہ سی ایس ایس کیا ہے، نہ وہ اس گریڈ کا استحقاق رکھتا ہے، نہ ریفیوجیز کے حوالے سے اس کے پاس کوئی مہارت ہے۔ لیکن مولانا کے بھائی جان اس منصب پر تعینات فرما دیے گئے۔

مولانا کے ایک اور بھائی مولانا عطاء الرحمن ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب مولانا فضل الرحمن آصف زرداری کے ساتھ مل کر اسلامی انقلاب لانے کی کوششیں کرتے رہے تو ان دنوں مولانا عطا ء الرحمن وفاقی وزیر بنا دیے گئے۔ 2008ء سے 2010ء تک وہ وزیر سیاحت رہے۔ 1988ء میں پارٹی کے انتخابات ہوئے تو انہی کو الیکشن کمشنر بنا دیا گیا۔ جے یو آئی کے پی کے، کے جوائنٹ سیکرٹری بھی انہی کو بنا دیا گیا۔ 2002ء میں یہ پارٹی کے ڈپٹی الیکشن کمشنر بنے، اس کے بعد انہیں کے پی کے جماعت کا نائب امیر بھی بنا دیا گیا۔ 2003 ء اور 2008ء میں جب اسلامی انقلاب لانے کے لیے الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جانے کا وقت آیا تو علمائے اسلام کی جمعیت میں کوئی اس قابل نظر نہ آ یا چنانچہ اس بھاری ذمہ داری کے لیے ایک بار پھر انہی کو چنا گیا۔

2013ء کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر نظر انتخاب اپنے ہی بھائی پر پڑی اور انہیں لکی مروت این اے 27 سے ٹکٹ جاری فرما دیا گیا۔ یہ الگ بات کہ صاحب ہار گئے۔ سینیٹ کے انتخابات کا مر حلہ آیا تو مولانا نے ان کو ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک لا پہنچایا اور سینیٹر بنوا دیا۔ اس وقت مولانا صاحب سینیٹر ہیں۔ ایک مولانا اور بھی ہیں۔ یہ مولانا لطف الرحمن ہیں۔ کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو قائد حزب اختلاف کے لیے بھی علمائے اسلام کی جمعیت میں مولانا فضل الرحمن کے بھائی جان کے علاوہ کوئی بندہ نہ ملا چنانچہ مولانا لطف الرحمن اپوزیشن لیڈر قرار پائے۔

ایک اور مثال حاجی غلام علی صاحب کی ہے جو مولانا کے سمدھی ہیں اور سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ہمارے دوست ذبیح اللہ بلگن نے خبر دی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے اپنے صاحبزادے کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے پر مجلس عمل میں تناؤ ہے اور سراج الحق سمیت کچھ رہنما اس سے خفا ہیں۔ یہ ہمارے دوست کی خواہش تو ہو سکتی ہے، اسے خبر ماننا بہت مشکل ہے۔ سراج الحق کیسے خفا ہو سکتے ہیں؟ ان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی ہی کتنی ہے؟ شاید صرف ایک ایم این اے؟ اپنی لایعنی اور بے سمت پالیسیوں سے انہوں نے جماعت اسلامی کا آملیٹ بنا دیا ہے اور ابھی تک استعفی نہیں دیا۔ وہ اگر اعتراض کریں اور آ گے سے مولانا پوچھ لیں کہ قاضی حسین احمد کے دور میں ان کی صاحبزادی کو آپ نے ایم این اے کیوں بنا یا تھاتو سراج الحق کے پاس کیا جواب ہو گا؟ صوبائی اور قومی اسمبلی تو اب ان کے لیے ایک خواب سا بن کر رہ گیا ہے حالت یہ ہے کہ کونسلر کا انتخاب ہوتا ہے اور لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ کے صاحبزادے شیر اور بلے کے نشان پر الیکشن لڑتے ہیں۔

تو کیا شاہ اویس نورانی مولانا فضل الرحمن سے سوال کریں گے؟ اگر مولانا نے آگے پوچھ لیا کہ بیٹے کیا شاہ احمد نورانی مر حوم کے بعد پاکستان کے علماء کی جمعیت میں کوئی ایسا رجل رشید باقی نہ تھا جو آپ کو یہ ذمہ داری اپنے نازک کندھوں پر اٹھانا پڑی تو اویس نورانی کیا جواب دیں گے؟ یا اگر مولانا نے اویس نورانی اور سراج الحق کو اکٹھے بٹھا کر پوچھ لیا کہ حضرت آپ دونوں بتا دیں آپ میں سے یا آپ کی جماعتوں میں سے کس کو ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد کروں تو ان دونوں شخصیات کا متفقہ جواب کیا ہو گا؟ اب آپ بتائیے مولانا نے اپنے صاحبزادے اسد محمودکو ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد کر دیا ہے تو اس میں حیرت کیسی؟

سیاست یہاں ایک کاروبار بن چکا ہے۔ کارکن مدرسے کا ہو یا سکول کا، اس کا کام صرف نعرے لگانا اور اپنے اپنے قائدین کی مہم جوئی کا ایندھن بننا ہے۔ قائد محترم ایک طویل عرصے سے کشمیر کمیٹی کے چیئر مین تھے۔ سوال یہ ہے کہ کشمیر کاز سے آپ کی جو وابستگی ہے وہ تو سارے جہاں کو معلوم ہے اس کے باوجود کشمیر کمیٹی ہی آپ کا انتخاب کیوں ٹھہری؟ اور بھی تو بہت ساری کمیٹیاں تھیں، مزاج اور ذوق کے مطابق کسی اور کو چن لیا ہوتا، مسلسل کشمیر کمیٹی ہی پر نظر کرم کیوں فرمائی جاتی رہی؟

اس کا شاید سب سے آسان جواب یہ ہے کہ یہ صرف کشمیر کمیٹی ہے جس کے چیئرمین کا مرتبہ وزیر نہ ہوتے ہوئے بھی وفاقی وزیر کا ہوتا ہے۔ یہ واحد کمیٹی ہے جس کا سربراہ وفاقی وزراء کے لیے مختص کالونی میں قیام پزیر ہوتا ہے۔ گاڑی ملتی ہے اور پٹرول بھی۔ اب اگر صاحبزادے ڈپٹی سپیکر بن جاتے ہیں تو سرکاری مراعات اور نوازشات کا ایک جہان ہے جو پھر سے آباد ہو سکتا ہے۔

کیا آپ نے حمزہ شہباز صاحب کی گفتگو کبھی سنی؟ یہ صاحب ابھی کل تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے۔ کبھی آپ نے سوچا موصوف شریف خاندان میں پیدا نہ ہوتے تو کیا کر رہے ہوتے؟ یہی سوال ان صاحب کے لیے بھی ہے جو ڈپٹی سپیکر کے امیدوار ہیں۔ سیاست شاید ان خاندانوں کا کاروبار ہے جو وراثت میں نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ اس وراثت میں اپنے حصے کے بے وقوف بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ معلوم نہیں، یہ سیاست ہے یا کاروبار لیکن جو بھی ہے مولانا نے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔ واہ مولانا! واہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں