جانور اور اندھوں کا ڈیکارتی یقین پنا


رینے ڈیکارت (فرانسیسی فلسفی) کا خیال تھا کہ جانور بالکل گھڑی کی طرح مکینیکل ہیں۔ انھیں دکھ درد کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر میں ڈیکارت کے اس خیالِ خام کے دائرے میں جانوروں کے ساتھ ساتھ ان تمام نیم انسانی کمزوروں کو بھی لانا چاہتا ہوں جن کے بارے میں غالب اقلیت یا اکثریت قائل ہے کہ بظاہر یہ کمزور ہماری طرح ہی دکھائی دیتے ہیں مگر یہ ہم جیسے ہیں نہیں۔ یہ تو بالکل ڈیکارت کی گھڑی کی طرح مکینیکل ہیں۔ انھیں دکھ درد کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ جیسے بھارت کے مسلمان و ہریجن، جیسے پاکستان کے ہندو، کرسچن وغیرہ۔ ۔ ۔

مگر میں آج کوئی روایتی رونا رونے کے بجائے اپنا دائرہِ تحریر محض جانوروں کے بارے میں انسانی سلوک تک رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ سلوک بتاتا ہے کہ انسانوں کی اکثریت جانوروں کے بارے میں ڈیکارت کے خیالات سے متفق ہے بھلے ڈیکارت کا نام بھی نہ سنا ہو۔ اگر اگلی سطور پڑھتے پڑھتے آپ کے خیال کی رو جانوروں کے بجائے کسی فرد، گروہ، تنظیم، ادارے، نظریے، واقعہ، طرزِ عمل وغیرہ وغیرہ کی جانب بھٹک جائے تو لکھاری ذمہ دار نہ ہوگا۔

ہر مذہب نے کچھ جانوروں کے گوشت کے استعمال کی اجازت دی اور کچھ کا گوشت ممنوع قرار دیا۔ ہر مذہب نے ضرورت کے سوا جانوروں کو خامخواہ قید کرنے اور بغرضِ تفریح تکلیف و ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا اور پالتو جانوروں سے مہربانی کا سلوک اختیار کرنے کی تاکید کی اور اس مہربانی کے اجر کا مژ دہ بھی سنایا۔ اور پھر سائنسی طور پر یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ہر جاندار زندگی کے دائرے کا اہم اور لازمی جزو ہے۔ اگر کوئی ایک حیاتیاتی نسل خطرے میں پڑتی ہے تو پورا سرکل آف لائف کمزور ہو کر بالاخر ٹوٹ پھوٹ بھی سکتا ہے۔

رومن بادشاہ تو عوام کی توجہ روزمرہ مسائل اور اپنی نا اہلی سے ہٹانے کے لیے انھیں جانوروں کی لڑائی کے تماشے میں مصروف رکھتے تھے لیکن جدید، روشن خیال، پڑھی لکھی خدا ترس دنیا میں آج جانوروں کے ساتھ جو ہورہا ہے اس کے ہوتے ہوئے رومن دور فرشتوں کا زمانہ لگتا ہے۔

صرف امریکی لیبارٹریز میں سالانہ لگ بھگ ستر ملین چوہے، کتے، بلیاں، خرگوش، بندر، پرندے وغیرہ تحقیق و ترقی کے نام پر اذ یت ناکی اور ہلاکت کا شکار ہوتے ہیں۔

چین فر کا سب سے بڑا عالمی ایکسپورٹر ہے۔ فیشن انڈسٹری کی بھوک مٹانے کی خاطر سالانہ ساڑھے تین ملین جانور صرف اس لیے مار دیے جاتے ہیں کہ ان کے نرم بال فر کی مصنوعات میں استعمال ہوسکیں۔ حالانکہ فی زمانہ سنتھیٹک میٹیریل سے بھی اتنے ہی گرم کپڑے اور دیگر مصنوعات بن سکتی ہیں اور بن بھی رہی ہیں۔

فر کو تو جانے دیں جانوروں کی تو کھال بھی ان کے لیے مصیبت ہے۔ صرف دو ہزار دو سے دو ہزار پانچ کے دوران جوتے، پرس، بیلٹس، جیکٹس وغیرہ بنانے کے لیے یورپی یونین میں چونتیس لاکھ بڑی چھپکلیوں، تیس لاکھ مگرمچھوں اور چونتیس لاکھ سانپوں کی کھالیں امپورٹ کی گئیں۔ اگر ہاتھی کے دانت اور گینڈے کے سینگ نہ ہوتے تو آج ان کی نسل اپنی بقا کی جنگ نا لڑ رہی ہوتی۔

گائے کا دودھ یقیناً اہم انسانی غذا ہے۔ لیکن اب سے تیس برس پہلے تک گائے کی اوسط عمر بیس سے پچیس برس ہوا کرتی تھی۔ اب اسے چار سے پانچ برس ہی زندہ رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا دودھ بڑھانے کے لیے مسلسل ہارمونل انجکشن دیے جاتے ہیں اور مصنوعی طریقوں سے لگاتار حاملہ رکھا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا ہوسکیں۔ یوں وہ تھوڑے ہی عرصے میں سوائے ہلاکت کے کسی کام کی نہیں رہتی۔

مرغی گوشت کی ساٹھ فیصد عالمی مانگ پوری کرتی ہے۔ لیکن بیس فیصد مرغیاں گندگی اور پنجروں میں گنجائش سے زیادہ ٹھونسے جانے اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران ہی مرجاتی ہیں۔ انڈے دینے والی مرغیوں کا گوشت عام طور سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ جب وہ بانجھ ہوجاتی ہیں تو انھیں ہزاروں کی تعداد میں زندہ دفن کردیا جاتا ہے۔

شمالی بحر اوقیانوس کے جزائر فیرو میں ہر موسمِ گرما میں ایک ہزار پائلٹ وھیل مچھلیوں کو گھیر گھار کر کنارے تک لایا اور تیز دھار آلات سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ مچھلیوں کے قتلِ عام سے تاحدِ نظر پانی سرخ کرنے کا یہ میلہ جانے کب سے جاری ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرہ نارتھ سالویزی کی ٹوموہون مارکیٹ میں بندر، چمگادڑ، بلی، کتے، سور، چوہے، اڑدھے زندہ روسٹ کر کے لٹکا دیے جاتے ہیں۔ اور ان کے ہم نسل بالکل سامنے پنجروں میں بند اپنی باری گن رہے ہوتے ہیں۔

بل فائٹنگ میں ہر سال لگ بھگ چالیس ہزار بھینسے مر جاتے ہیں۔ ایک بھینسا جس کے جسم میں بل فائٹر کے کئی فاتحانہ نیزے گڑے ہوں مرنے میں گھنٹہ بھر لگاتا ہے۔

جب گرے ہاؤنڈز (شکاری کتے) دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہیں رہتے تو انھیں گولی ماردی جاتی ہے۔ یوں ہر سال لگ بھگ پچاس ہزار گرے ہاؤنڈز انسانی تفریح کی قیمت اپنی جان سے چکاتے ہیں۔ یہی سلوک ناکارہ گھوڑوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ فلم ہیونزگیٹ کے ایک منظر میں حقیقت بھرنے کے لیے زندہ گھوڑا ڈائنامائیٹ سے اڑا دیا گیا۔

کبھی جنگوں میں بس اونٹ، گھوڑے، گدھے اور خچر استعمال ہوا کرتے تھے۔ آج شاید کچھ ہی جانور بچے ہوں۔ ڈولفنز سے سمندر میں بچھی بارودی سرنگیں تلاش کرائی جاتی ہیں۔ سی لائنز دشمن کے زیرِ آب غوطہ خور تلاش کرتے ہیں۔ کتے بم سونگھتے پھرتے ہیں۔ بارودی سرنگوں سے اٹے میدانوں پر سے بھیڑ بکریاں گذارے جاتے ہیں تاکہ وہ میدان انسانوں کے لیے محفوظ ہوجائیں۔

کیمیاوی ہتھیاروں اور ان کے توڑ کے تجربات، دھماکوں کے اثرات اور چھوٹے ہتھیاروں کی فائر پاور جانوروں پر آزمائی جاتی ہے۔ جن علاقوں میں بچوں کو مسلح تنازعات میں جھونکا جاتا ہے ان کی معصومیت اور قدرتی جھجک مٹانے کے لیے ان کے ہاتھوں جانوروں کی سفاکانہ طریقے سے ہلاکت سے عسکری تربیت شروع ہوتی ہے۔ جیسے مرغی پکڑ کر اس کی گردن ہاتھوں سے الگ کردینا یا ٹانگیں پکڑ کر پھاڑ دینا وغیرہ۔

کہا جاتا ہے جانور چونکہ بے زبان ہوتے ہیں لہذا ان کی ہلاکت سے انسانی نفسیات پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اور ایسے واقعات انسانی شعور میں زیادہ عرصے نہیں رہتے۔ لیکن ایف بی آئی کے مطابق چھتیس فیصد جنسی قاتلوں کے پروفائلز سے ظاہر ہوا کہ وہ بچپن میں جانوروں پر تشدد کے شوقین تھے اور اس شوق نے ان میں جو بے حسی پیدا کی وہ بڑھتے بڑھتے انسانوں کے متشدد شکار تک لے آئی۔

ہم بچپن سے بار بار بتایا جاتا ہے کہ جانور بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور اپنے اپنے انداز میں اس خدا کی تمجید کرتے ہیں۔ جس نے اصحابِ کف کے کتے کے لیے بھی اجر رکھا ہے۔

ہم اس نبی کے پیروکار ہیں جس کی بلی مغیرہ چادر پر سو جاتی تو چادر وہیں چھوڑ دیتے تاکہ نیند نہ ٹوٹے۔ آپ نے جانور کو داغنا، آپس میں لڑانا اور تفریحاً ان کی شکلیں مسخ کرنا قابلِ نفرین و ملامت قرار دیا۔ فرمایا کہ جس نے ایک چڑیا کو بلاوجہ مارا اسے یومِ قیامت جواب دینا ہے۔ ایسے رقیق القلب کہ پیاسے پلے کو کنوئیں سے پانی پلانے والی عورت کو اجرِ عظیم کی نوید سنائی۔

مگر یہ نورانی مثالیں عقلی نابیناؤں کے کس کام کی؟
ہمیں تو لوہے کے پنجروں میں ٹھنسی مرغیاں، موٹر سائیکل کے پیچھے دوہرے بندھے بکرے، ڈیڑھ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا سفر کرنے والے ٹرکوں کے اندر معلق چارپائیوں میں ٹانگیں پھنسائے بکرے اور ایک دوسرے سے جڑی کھڑی بھینسیں، وزن کے زور پر ہوا میں معلق گدھے، گلے کی رسی کے جھٹکے پر ڈنڈے کے خوف سے ناچتے بندر، چڑیا گھر کے کنکریٹ سے پنجے کھرچ کر زخمی ہونے والے شیر، نتھنوں میں نکیل ڈالے کرتب دکھانے پر مجبور ریچھ، لاکھوں روپے کی شرط پر لہو لہان لڑائی کے منہ نچے کتے اور ایک دوسرے کی گردن نوچنے اور آنکھیں پھوڑنے والے مرغ دکھائی نہیں دیتے؟

اتنی قلیل بینائی اور کم عقلی کے باوجود اگر ہم خود کو بدستور جنت کا حقدار سمجھتے ہیں تو پھر تو واقعی ہم خدا کی کریمی، رحمانیت، غفوریت و رحمت پر اندھا دھند یقین رکھتے ہیں۔ پھر تو شاباش ہے خود ہم کو ہماری۔ ۔ ۔
پیر 28 مارچ 2016

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں