عرب دنیا کا افغانستان یمن


دنیامیں ایک جنگ ہورہی ہے جس میں معصوم انسانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ مسلم دنیا، مغربی دنیا اور امریکی میڈیا میں اس جنگ کی خبریں بہت رپورٹ کی جاتی ہیں یا کوشش کی جاتی ہے کہ خبروں کے ریڈار سے یمن کو غائب کردیا جائے۔ تین سال سے یمن کی جنگ خبروں کے ریڈار سے غائب ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یمن میں 2015 سے اب تک 10 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 55 ہزار انسان زخمی ہوئے۔ 2 ملین سے زائد یمنی انسان خوراک کے ضرورت مند ہیں، بقول اقوام متحدہ یمن اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو فوڈ ایمرجنسی کا شکار ہے لیکن مہذب اور انسانیت پرست ترقی یافتہ دنیا کو اس کی پروا ہی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ناکہ بندی کی وجہ سے یمن میں دوائیوں کی قلت کے سبب ہیضے اور پیٹ کی بیماریوں کے سبب انسان مررہے ہیں۔ ایک ملین سے زائد افراد اس وقت بیمار ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ شمالی یمن کے سرحدی صوبے صعدہ کے شہر ضحیان جو کہ سعودی سرحد کے قریب ہے، بچوں سے بھری ایک بس پکنک سے دوبارہ اسکول وآپس آرہی تھی کہ سعودی اتحادی افواج کی فضائیہ نے اس بس پر بمباری کردی۔ ریڈ کراس کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں 47 افراد ہلاک جبکہ 77 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں 29 اسکول کے بچے تھے جن کی عمریں دس سال سے کم تھیں۔ 77 زخمیوں میں بھی 47 اسکول کے بچے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی حالت تشویشناک ہے۔

سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان کے مطابق فوجی اتحاد کی جانب سے میزائل لانچر کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے بچوں سے بھری بس بمباری کا نشانہ بن گئی۔ ترجمان کے مطابق وہ قانون کے مطابق جائز فوجی کارروائی کررہے ہیں۔ جو عالمی اصولوں کے مطابق ہے۔ اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں کا قتل عام کرنے والوں کی ذہنیت کیسی ہے؟

یمن میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ حدیدہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے لگاتار بمباری کی زد میں ہے۔ جس کی وجہ سے عالمی امدادی ادارے انسانی رسد یمن کے اندر لانے سے قاصر ہیں۔ تین اگست کو حدیدہ پر بمباری کی گئی جس میں 55 شہری ہلاک اور 177 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ ایک اسپتال پر کیا گیا تھا۔ اسی طرح 23 اپریل کو یمن میں ایک بارات پر حملہ کیا گیا جس میں دولہا اور دلہن سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے۔ 28دسمبر 2017 کو ایک حملہ کیا گیا جس میں 54 افراد مارے گئے۔ حدیدہ میں ہی ایک گھر پر حملہ کیا گیا جس میں ایک ہی خاندان کے 14 افراد مارے گئے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کی بجائے اس کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ مظلوم اور معصوم بچے مررہے ہیں، لیکن انسانیت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ خوفناک بات یہ ہے کہ یمن میں مرنے والوں کی خبریں بھی میڈیا کی سرخیوں میں نہیں ہیں۔ اس قتل عام پر ریڈ کراس اور اقوام متحدہ چیخ رہا ہے، مذمتی بیان جاری کررہا ہے۔ لیکن مغربی اور امریکی میڈیا اس جنگ کے بارے میں رپورٹ ہی نہیں کررہا۔ مسلم میڈیا کے بارے میں تو تبصرہ کرنا ہی بیکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں امریکہ اور مغربی دنیا القاعدہ کو مضبوط کرکے یمن کے شہریوں کا قتل عام کروارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ جنگ جاری رہی تو یمن القاعدہ کا مرکز بن جائے گا۔ یمن عرب دنیا کا افغانستان بن چکا ہے، لیکن دنیا کو اس کی پرواہ نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایک وقت آئے گا جب یمن القاعدہ اور داعش کا لانچنگ پیڈ بن جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں