پندرھواں خواب نامہ۔۔۔۔ ڈیٹ بھی بس جسمانی تبادلہِ لطف و اضطراب ہے


21 مئی 2018
یا درویش لاہور سے سلام قبول کیجئے
رابعہ کو درویش کے مشاہدات جان کر اچھا لگا اور یوں لگا جیسے سمندر پار درویش اور دو بڑی خلیجوں کے درمیان بسنے والے دو تخلیق کاروں کے مشاہدات ایک سے ہیں۔
اگر درویش کو لگتا ہے کہ خط کی طوالت کے باعث اس کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تو رابعہ چاہے گی درویش اپنی بات مکمل کر لے

درویش کو یہ جان کہ حیرت ہو گی کہ وہ جو سوسائٹی چھوڑ کے گیا تھا اب وہ بہت بدل چکی ہے۔ یہاں ڈیٹ ہونے لگی ہے۔ پسند تو خیر نہیں کی جاتی مگر فیشن و مجبوری بننے لگی ہے۔ اس لئے کچھ خاص طبقات میں قبول بھی کی جانے لگی ہے۔ لیکن اس میں ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری بہن، بیٹی کسی کے ساتھ مل لیں، لیکن اگر کسی کی بہن اور بیٹی ہم سے مل لے تو کوئی حرج نہیں۔ قابل فخر بھی ہو سکتا ہے۔ کہ ہم کسی کی مجبوری کا ٹھٹھہ عمر بھر یاد کے طور پہ اْڑا سکتے ہیں۔

یہاں ویلنٹائن ڈے مغرب سے زیادہ جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اور اتنے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے کہ ایک دن میں ایک ہی شخص کئی خواتین سے محبت کے ہر طرح کے تحائف کا تبادلہ خوش اسلوبی سے کر لیتا ہے، اور ایک ہی دن میں عورت بھی یہی تحائف نامہ محبتی تبادلہ احسن طور انجام دے لیتی ہے۔ لیکن ہم یہ سب فخریہ اعمال بہت چوری چھپے کرتے ہیں۔ اتنا خفیہ کہ ہمیں خود کو بھی علم نا ہو۔

یہاں ملنے کو بے بسی کی آخری سیڑھی پہ قبول کر لیا گیا ہے۔ جس سے نقصانات زیادہ ہو رہے ہی۔ کیونکہ سوسائٹی اتنی سویلائزڈ نہیں ہوئی۔ یہ ملاقات بھی محض جسمانی تبادلہ لطف و اضطراب ہے جس میں شریک حیات کا چناؤ نفی ہے۔ تبدیلی و لطف جسمانی مقصد حاصل ہے۔ ذہن اور روح سے کسی کو غرض بھی نہیں۔ اس جسمانی تبادلہ میں ایک اور چیز کا حسن ہے، وہ ہے مادہ پرستی کیونکہ اس کے بنا پیٹ نہیں بھرتا۔ بہت تلخ جملہ ہے، رابعہ بہت دکھ سے لکھ رہی ہے”اگر مردکو عورت کا جسم محبت کے نام پہ استعمال کرنا آگیا ہے تو عورت نے بھی مرد کی کمزوری کو استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس سکون کی تلاش میں ملنے والے جسمانی تبادلہ کرتے ہیں، اس کے بدلے مزید بے چینی و اضطراب لے کر لوٹتے ہیں۔ یو ں سکو ن در سکون کے سفر میں اضطراب در اضطراب، ہیحان در ہیجان کے مسافر بن کر سوال بن جاتے ہے“۔

رابعہ کا خیال ہے کہ جس طرح انسانی جسم سے لہریں خارج ہوتی ہیں، یونہی انسانی نیتوں اوراعمال و رویوں سے بھی ان دیکھی لہریں خارج ہو تی ہیں۔ جس کی تاثیر غیر محسوس طور چارو ں اور پھیل جاتی ہے۔ یو ں یہ ایک سوسائٹی کی تاثیر بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علاقوں میں جانے سے انسان پہ مختلف قسم کے ذہنی و جسمانی اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ اسی کو شاید مزید ترقی یافتہ لفظ میں زمان و مکاں کا سفر بھی کہہ سکتے ہیں۔

Soul Mate والا اوج اور خوبصورتی قصے کہانیو ں کی باتیں رہ گئی ہیں۔ سوسائٹی نے مرد و زن کے اذہان میں فرسودہ غبار جنس بھر دیا ہے۔ جو بادل گہرے ہو تے جا رہے ہیں۔ جنسی فلموں کے مناظر کو ہم حقیقت دینے میں کو شاں ہیں۔ اس سے کیا جسمانی و ذہنی بیماریا ں پھیل رہی ہیں اس سے بے خبر جسموں کی مشقت کو ہم سچی محبت کہتے ہیں۔ اگر آزادی کا تصور ہے تو انتہا پسندی اگر حدود و قیود کی بات ہے تو انتہاپسندی۔
ابھی اس معاشرے نے بہت سے تہذیبی زلزلوں سے گزرنا ہے۔ جس میں کئی نسلوں کو اپنا وجود دینا ہے۔

رابعہ یہاں بھی ایسے بہت سے لوگوں سے ملی ہے جنہوں نے بہت سے لو گوں سے بہت سی ملاقاتیں کی ہیں۔ جس میں خواتین و مرد دونوں شامل ہیں اور رابعہ کو حیرانی ہے ان سب کی زندگی میں جتنے بھی لوگ آئے وہ سب سے یکساں محبت کے دعوے دارہیں۔ ان میں بہت سے شادی شدہ افراد بھی شامل تھے۔ بہت سے غیر شادی شدہ بھی۔

ابھی یہاں مکمل سچ نہیں بولا جاتا۔ ہر مرد و زن اپنی ساری کی ساری جسمانی مشقت فخریہ بتا کر، خود کو فخرسے یوسف ثانی پیش کرتا ہے اور خصوصا مرد زیادہ سے زیادہ خواتین سے تعلقات کا ذکر اتنے فخر سے کرتے ہیں کہ گھن آتی ہے۔ کہ انسان نا ہو گیا کوئی بْچر شاپ ہو گئی کہ سب کی ایک ہی آلے سے گردن کاٹ دی جائے۔

رابعہ اگر درویش سے ایک نفسیات دان کے حوالے سے پوچھ لے تو وہ کیا جواب دے گا؟ کیونکہ رابعہ کو تو یہ مرد کا کوئی کمپلیکس لگتا ہے۔ اس کا کوئی مرض لگتا ہے؟
جس کا حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ اس کے برعکس رابعہ کچھ ایسی خواتین سے بھی ملی کہ عمر بھر وہ اپنے سیکسی ہونے کا فخر کرتی رہیں کئی مردوں کے عشق و محبت و ہوس کے قصے سناتی رہیں کہ کیسے ہر طرح کی پیاس کی تسکین کی۔ لیکن آخر میں شادی کسی ایسے مرد سے کر لی جس کا اس شعبہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

بہت سے ایسی خواتین سے ملی جنہوں نے بڑے بڑے مل اونرز سے ریٹائر ڈ افسروں سے دولت کے لئے شادی کر لی اور soul mate نا ملنے کا گلہ کیے رکھا۔ رابعہ کو احساس ہوا کہ یہاں مرد وزن کے تعلق کی بنیاد دولت ہے۔ یا کہیں وقتی کشش، محبت تو جو مستقل مزاجی و قربانی مانگتی ہے، جن نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔ وہاں کامیاب روح کا ساتھی ہی ہوتا ہے۔
اور اکثریت اس روح کے ساتھی سے مل ہی نہیں پاتے کیونکہ ابھی یہ معاشرہ تعلقات کے عبوری سفر پہ نفسیاتی و سماجی سطح پہ پہلی یا دوسری سیڑھی چڑھا ہے۔ انہیں روح کے ساتھی والی نا تلاش ہے، نا اس کو سمجھنے کی خواہش و وقت۔

روح کے ساتھی کی کشش، کشش ثقل جیسی ہوتی ہے۔ انسان، انسان میں دور رہتے ہوئے بھی جذب ہو رہا ہوتا ہے اور اتنا پر سکون تحلیل ہورہاہوتا ہے کہ پھر جدائی روح سے جسم کی مانند ہو تی ہے۔ جب سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے روح کے ساتھی سے ملنے کے بعد کبھی محبت پھر نہیں ہوتی کیونکہ جنت کے انگور کا مزہ چکھ لینے کے بعد زمین کے انگور کا مزہ چھن جاتا ہے۔
یہ سکون کا سفر ہے اضطراب کے مسافر صرف ایک دوسرے کی جنسی کشش میں مفاداتی طور پہ مبتلا ہوتے ہیں۔ جو کبھی شعوری ہوتا ہے کبھی لا شعوری مگر چھٹی حس سے آگے ایک ساتواں آسمان ہوتا ہے وہ آپ کے اندر الام بجا رہا ہوتا ہے۔ چاہے وہ خطرے کا ہو چاہے امن کا۔ مگر ہم اسے سن نہیں پاتے۔
یا درویش رابعہ ان مشاہدات و تجربات و تجزیات کو زندگی تین ادوار میں تقسیم کر سکتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں