تنگ نظر علماء نے ایک دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا


کتنی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں تصادم اور ٹکراؤ سے بچنے کی آیات کو ہم پڑھتے تو ہیں مگر اس کی روح سے ہم غافل رہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالى نے کافروں کے ساتھ ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کا اصول تو بتادیا : قل یا أیھا الکافرون۔ ۔ لکم دینکم و لی دین۔ اے محمد ص آپ کافروں سے کہ دیجئے کہ جس کی تم عبادت کرتے ہو اس کی عبادت میں نہیں کروں گا اور(ظاہر ہے ) جس کی عبادت میں کرتا ہوں اس کی عبادت تم نہیں کروگے۔ (تو کیوں نہیں ہم اپنے اپنے دین پر رہیں اور بغیر ایک دوسرے سے جھگڑے اس پر اتفاق کر لیں) کہ تمہارا لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔

اہل کتاب (مسیحیوں اور یہودیوں) کے ساتھ بھائی چارگی کے ساتھ زندگی گزارنے کا اصول اللہ نے سکھایا کہ : اے اہل کتاب اس بات پر آؤ جو ہم دونوں میں مشترک ہے اور وہ یہ کہ ہم ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔ اس طرح اسلام نے ہمیں حکم دیا کہ امن و سکون کے ساتھ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ زندگی گزاریں۔
Peaceful coexistence
کی تعلیم شروع میں ہی ہمیں دے دی گئی تھی۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کا منشاء یہ تھا کہ کافروں اور اہل کتاب کے ساتھ تو تم اخلاق محبت کے ساتھ رہنا مگر آپس میں تم مسلمان لڑتے رہنا کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی مسلک کے نام پر کبھی مشرب تو کبھی سلسلہ تصوف کے نام پر! ہرگز نہیں یہ اختلاف جو مخالفت میں تبدیل ہو جاتی ہے یہ اسلام کا تصور ہی نہیں ہے اسی لئے اللہ نے نبی پاک صل اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ آپ اعلان کردیجئے کہ ”جن لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں ہے“۔

عربی شعر کا معنی ہے : تلوارسے ملے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں مگر زبان کے دیے ہوئے زخم کبھی نہیں بھرتے۔
ہہ ایک عالمی حقیقت universal truth ہے اور اس مفہوم کے اشعار اور مثل دنیا کی ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔

پچھلے کئی دنوں بلکہ کئی سالوں سے بعض لوگ خاص طور پر مدارس کے نئے فارغین اور بعض علماء کرام سوشل میڈیا پر بہت زیادہ فعال اور متحرک ہیں اور میری اپنی سمجھ کے مطابق وہ غیر ضروری اور غیر مفید مسلکی بحث میں خود بھی الجھتے ہیں اور ملت کے افراد کو بھی الجھا کر رکھتے ہیں۔ اصل تو عقیدہ ہے یعنی اس پر ایمان راسخ کہ 1۔ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ 2۔ محمد صلى اللہ علیھ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ 3۔ اللہ کے فرشتے ہیں جو مختلف امور پر مقررکیے گئے ہیں 4۔ اللہ نے روز ازل سے محمد ص تک تقریباً ایک لاکھ چوالیس ہزار انبیاء علیہم السلام کو اس دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف تہذیبوں میں جب جب ضرورت پڑی بھیجا اور سب سے آخر میں محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو خاتم الأنبیاء والمرسلین بناکر بھیجا یعنی اس کے بعد اب اور کوئی نبی نہیں آنے والا ہے۔

ہمارا ایمان ان تمام انبیاء علیہم السلام پر ہے خواہ ان کا نام ہم نے سنا ہے یا نہیں ان کے بارے میں ہم جانتے ہیں یا نہیں۔ 5۔ بعض انبیاء علیہم السلام کے ساتھ صحیفے بھی نازل کیے، ہمارا ایمان ان سب کتابوں اور صحیفوں پر ہے۔ 6۔ ہمارا ایمان ہے کہ ایک آخری دن ہو گا قیامت آئے گی حساب کتاب ہوگا اور اس کے مطابق جزاء یا سزا ملے گی جنت یا جہنم کے حقدار ہوں گے 7۔ ہمارا ایمان ہے تقدیر پر؛ اچھی ہو یا بری اپنا اپنا نصیب ہے۔ تو جب تک ہم اس عقیدے کا زبان سے اقرار اور دل سے تسلیم کرتے رہیں گے ہم مسلمان ہیں۔ اسی کا نام ایمان ہے۔ ہر نبی کو ان کی امت کے لئے شریعت بھی دی گئی شریعت انسان کی سماجی زندگی کو منظم کرنے کے قوانین اور اصول و ضوابط کو کہتے ہیں۔ شریعت ہر دور اور ہر نبی کی امت کے حالات کے مد نظر اللہ نے بنایا۔ اسی لئے ہر نبی کی شریعت یکساں نہیں ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے علماء اس عقیدہ کی تبلیغ کرنے کی بجائے اس عقیدہ کے ارد گرد اپنی اپنی پسند کے دائرے کھینچتے گئے چنانچہ اسلام کو شیعہ اور سنی میں تقسیم کیا پھر دونوں فرقہ کے لوگ مزید دائرے بنا کر اسلام کی وسعت کو اور تنگ کرتے چلے گئے مثال کے طور سنی طبقہ : اسلام ایک دائرہ اس دائرہ کے اندر دوسرا دائرہ : حنفی شافعی مالکی حنبلی یا غیر مقلد اہل حدیث۔ تیسرا دائرہ حنفی کے اندر : دیوبندی یا بریلوی چوتھا دائرہ دیوبندی کے اندر ؛ جماعت اسلامی یا تبلیغی اس کے بعد مشرب چشتی قادری نقشبندی وغیرہ۔

آج کل اہل حدیث جو اب اپنے آپ کو سلفی کہتے ہیں ان کے بعض مولویوں نے امام ابو حنیفہ رح کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے ان کی ہجو اور ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور دیوبندی مولوی اس کی دفاع میں لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح دیوبندی مولوی حضرات کبھی ذاکر نایک تو کبھی دوسرے غیر مقلدین کے خلاف محاذ کھولتے ہیں۔ ایک غیر مقلد مولوی اس پر مصر ہیں کہ وہ بحث جاری رکھیں گے۔ میں نے متعدد بار ان سے درخواست کی کہ اسے بند کریں اس لئے کہ ان فقہی موشگافیوں میں عوام کو الجھانے سے حاصل کیا ہوگا کیا حنفی طریقہ پر نماز پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہوگی؟ چودہ سو سال سے چلے آرہے مسلکی اختلافات کیا آپ ختم کر سکتے ہیں؟

آپ اپنی لکھنے پڑھنے کی صلاحیتوں اور توانائی کو کسی مفید کام میں لگائیں؟ مناظرہ کا زمانہ تو نہیں رہا لیکن موجود ٹی وی ڈیبیٹ اسی کی جدید شکل ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلا کر اسلام کی تصویر مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس موضوع پر بات کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں بین المذاہب کورس کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لیں ذاتی سطح پر وسیع مطالعہ سے اپنے آپ کو اس لائق بنائیں کہ مدلل اور مسکت جواب سے دفاع کر سکیں۔ پچھلے سال جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے ایم اے اسلامک اسٹڈیز میں تین غیر مسلم تھے اس سال تقریباً چھ غیر مسلم ہیں لسٹ ابھی فائنل نہیں ہے۔ آپ مولوی حضرات سارے فارغین تو نہیں ان میں سے ایک معتد بہ تعداد ایسے فارغین کی ہوتی ہیں جن کی پکڑ اسلامی عقائد اور شریعت اسلامی فقہ وغیرہ پر اچھی ہوتی ہے وہ بین المذاہب موضوعات پڑھیں گے تو جلد مہارت حاصل کر سکتے ہیں بہ نسبت ان گریجویٹس کے جو عموما اسلامی معلومات سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔

لیکن افسوس کہ آپ لوگوں کے اندر اس قدر شدت اور تعصب ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف برہنہ گفتاری اور ذاتیات پر حملہ کرنے سے نہیں جھجکتے ہیں اور یہ زبانی حملے اس قدر تکلیف دہ ہوتے ہیں کہ انسان اسے برسوں نہیں بھولتا جبکہ آپ اگر کسی کو جسمانی اذیت دیں تو زخم دوچار دنوں میں مندمل ہو جاتا ہے۔ تو کیوں نہیں آپ تھوری دیر کے لئے آپس میں دست گریبان ہو جائیں اس کے بعد اس قسم کی لا یعنی بحث کا خاتمہ بالخیر کر دیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں