سیاست کے صاف ہونے اور پاکستان کے سپر پاور بننے کا وقت آ گیا ہے


اس وقت سیاسی فضا میں بے چینی طاری ہے۔ بظاہر تحریک انصاف مرکز میں اکثریت لے چکی ہے مگر سپیکر کے خفیہ رائے شماری والے انتخاب میں وہ پٹ سکتی ہے۔ پنجاب کی صورت حال ہنوز بے یقینی کا شکار ہے کہ ادھر کون وزیر اعلی بنوائے گا۔ افواہیں اڑ رہی ہیں کہ اراکین کو خریدا بیچا جا رہا ہے مگر ظاہر ہے کہ ایسا صرف وہ پارٹیاں کر رہی ہوں گی جو ہماری مخالف ہیں۔

اب اگر آپ ہماری طرح زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھنے پر مصر ہوں تو پھر آپ کو یہ ماننا ہو گا کہ امیدواروں نے کروڑوں روپے دے کر اپنی پسندیدہ پارٹیوں کے ٹکٹ خریدے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہر حلقے میں اپنی اپنی مہم پر کروڑوں روپے بھی خرچ کیے ہیں۔ جیتنے والے تو چلیں جیت گئے جو ہارے ان کے کروڑوں روپے اس وقت تک کے لئے ڈوب گئے جب تک ان کو اقتدار میں حصہ نہیں ملتا۔

اب صورت حال کچھ ایسی ہے کہ سندھ اور پختونخوا میں تو مضبوط حکومتیں بنتی دکھائی دے رہی ہیں مگر مرکز اور پنجاب کچھ ڈانوا ڈول ہیں۔ یعنی دو تین اراکین اگر حکومتی پلڑے سے پھدک کر اپوزیشن کے پلڑے میں بیٹھ گئے تو ترازو اپوزیشن کے حق میں جھک کر اسے حکمران بنا دے گا۔ مزید مذاکرات، یعنی خرید و فروخت کے نتیجے میں اپوزیشن واپس حکومت سے اپنی اوقات میں آ جائے گی۔ نتیجہ یہ کہ عین ممکن ہے کہ چار چھے مہینے بعد دوبارہ الیکشن ہو جائیں۔

چار چھے مہینے سے عوام کی سپورٹ میں کیا فرق پڑنا ہے۔ انہوں نے تو جسے پہلے ووٹ دیے تھے انہی پارٹیوں کو دوبارہ دیں گے۔ رل تو بچارے امیدوار جائیں گے۔ ابھِی کروڑوں کا خرچہ کر کے بیٹھے اور بوہنی (پہلی آمدنی) بھِی نہیں ہوئی کہ دوبارہ نئے سرے سے کاروبار کو جمانے کا کروڑوں کا خرچہ سر پر آن پڑا۔

نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے گا۔ اب چند ماہ بعد ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں بھی وہی لٹکی ہوئی پارلیمنٹ (ہنگ پارلیمنٹ کا سلیس ترجمہ) آ گئی تو ظاہر ہے کہ اس کے چند ماہ بعد سہ بارہ الیکشن ہو جائیں گے اور خرید و فروخت کرنے والی مزید پارٹیاں اور امیدوار دیوالیہ ہو کر سیاست سے ریٹائرمنٹ لینے اور گھر بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آخر کوئی اپنے پلے سے ووٹ خریدنے پر کتنا خرچہ کر سکتا ہے؟ قارون کو بھی چار الیکشن ڈیڑھ سال میں لڑنے پڑیں تو وہ اپنے خزانوں کی چابیاں کباڑ میں بیچنے اور انہیں اٹھانے والے اونٹوں کے گوشت سے ووٹروں کی ضیافت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

خرید و فروخت کرنے والے سیاسی عناصر کے اس طرح گھاٹے کھانے اور مرگھٹ پر پہنچنے کے بعد سیاست سے پیسے کا عنصر ختم ہو جانا چاہیے۔ یعنی صرف وہی امیدوار سیاست کے میدان میں اتریں گے جو اپنی جیب سے پھوٹی کوڑی بھی خرچ کرنے کو تیار نہ ہوں اور ٹکٹ خریدنے کی بجائے مفت میں اینٹری پاس لے کر فلم دیکھنے کے عادی ہوں۔

سیاست میں اس انقلابی تبدیلی کے بعد پھر وہ صاف شفاف حکومت آئے گی جو بہترین پاک صاف، نان کرپٹ، مخلص اور قوم کا دردِ دل رکھنے والے سیاسی نمائندوں پر مشتمل ہو گی اور وہی پاکستان کو ایک نہایت ہی دیانت دار سپر پاور بنائے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 958 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar