محبت کی زبان میں لکھا گیا ناول


(مقبول ترین سندھی ناول رھجی ویل منظر کے اردو ترجمے منظر جو رہ گیا پر تبصرہ)

حیدرآباد لٹریچر فیسٹول دوہزار سترہ کا ایک سیشن۔ جس میں سندھی کے معروف ادیب طارق عالم ابڑو پر بات کرنے اور سننے کے لیے میلے میں موجود شائقین ادب کی بڑی تعداد سندھی لینگوج اتھارٹی کے ہال میں جمع تھی۔ اسٹیج پر گفتگو کے لیے بلائے جانے والے تمام مقررین بیٹھ چکے تھے، طارق عالم ابڑو کے دوست، لیکن مجھے حیرت ہوئی۔ ایک نشست خالی تھی۔ میں نے پوچھا یہ کیوں اور کیا کوئی عورت نہیں ان کے دوستوں میں۔ مجھے بتایا گیا کہ بھابھی رضیہ طارق ہال میں موجود ہیں۔

گفتگو شروع ہوئی۔ معروف سندھی ادیب اور براڈکاسٹر نصیر مرزا، انعام شیخ، سمیع بلوچ اور عرفان انصاری شریک گفتگو تھے۔ ہم حاضرین تو جیسے تھیٹر دیکھ رہے ہوں اور پورا ہال جیسے کسی نادیدہ شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو۔ میں نے آج سے پہلے ایسا پررونق تعزیتی ریفرنس نہیں اٹینڈ کیا تھا۔ وہ کرسی مجھے گفتگو شروع ہونے کے بعد خالی نہیں لگی۔ شاید اس لیے کہ ہر مقرر اپنے جملے کے آخر میں کہتا کہ اس وقت طارق ہوتا تو یہ کہتا۔ اورتو اور ان لوگوں نے یہ بھی سنایا کہ وہ حاضرین میں بیٹھا ہوتا تو ان سب پر کس طرح کے جملے اچھالتا کہ مجمع اسٹیج پر بیٹھے مقررین کو چھوڑ کر پیچھے سے آئے جملے پر تالی بجانے لگتا، ان کی حاضر جوابی اور بذلہ سنجی کے اتنے واقعات سنائے گئے کہ ایک لمحے کو میرا دل دکھ سے بھر گیا۔ یہ سارے دوست طارق عالم کے بغیر کیسے ہنسیں گے۔ میں ماسوائے طارق عالم ایک ادیب ہیں، جن کی بے وقت موت سے دوست، تکلیف دہ حیرت میں ہیں۔ کچھ اورنہیں جانتی تھی۔ ہال سے باہر نکلی تو پہلا سوال۔ ان کی کوئی چیز اردو میں پڑھنے کو مل سکتی ہے؟ ادبی میلہ ہو تو کتب کے اسٹال بے شمار۔ لیکن سندھی ادب کا اردوترجمہ عنقا۔

میرا طارق عالم کی تخلیق پڑھنے کا اشتیاق پورے سال بھر بعد پورا ہوا جب ان کے مشہور زمانہ ناول ”رھجی ویل منظر“ کا اردو ترجمہ ”منظر جو رہ گیا“ موصول ہوا، پڑھو اور ذرازبان پہ نظر ڈال لینا، کی فرمائش کے ساتھ تھی۔ انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ یہ انڈس کلچرل فورم کے مادری زبان کے میلے کے پس منظر میں دیگر زبانوں کے ادب کی اردو ترجمے کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی۔ نیاز ندیم، جو انڈس کلچرل فورم کے چیئرپرسن اور گذشتہ تین سال سے پاکستان میں مادری زبانوں کے ادبی میلے کے روح رواں ہیں، کوشاں تھے کہ یہ کتاب اردو کے قارئین تک پہنچائی جائے۔ یہ پاکستان کی زبانوں کو فروغ دینے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے ان کے مشن کا حصہ ہے۔ تاہم اس ناول کو اردو میں ترجمہ کرنے کا بیڑہ سدرہ المنتہی جیلانی نے اٹھایا، جنہوں نے بہت محنت سے اور بقول ان کے طارق عالم کی اہلیہ رضیہ طارق کی معاونت سے ترجمہ مکمل کیا۔

اردو زبان میں سندھی کے اس شاہکار ناول کے ترجمے کا بیڑہ اٹھانا ازخود ایک بڑا کام ہے جس کے لیے دونوں زبانوں پر گرفت چاہیے۔ بلاشبہ سدرہ المنتہی جیلانی اس پر مبارکباد کی مستحق ہیں۔ نیاز ندیم کا کہنا تھا کہ 1985 میں شائع ہونے والے اس ناول کے سندھی زبان میں کم ازکم 16ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور سندھی زبان کے قارئین خاص طور پر نوجوانوں میں اس سے زیادہ مقبول ناول کوئی اور نہیں۔ انہوں نے طارق عالم سے انسیت اور تعلق کا حق ادا کیا، سندھی اور اردو تراجم ساتھ رکھ کربامحاورہ زبان کے متبادل تجویز کیے۔ پھر کتاب کے سرورق کے لیے اپنی تصویری کاوش بھی فراہم کی، جو اس کو اس کے دیگر ایڈیشن سے ممتازکرتی ہے۔

ناول پڑھنا شروع کیا۔ کہانی کی گرفت ایسی کہ بس ایک ہی نشست میں ختم کرنے کی خواہش۔ مگر مجھے ناول میں کرداروں کے ساتھ وقت بتانا اچھا لگتا ہے اور یہ پنھوں اور سنجھنا، صبا یہ تو جیسے اپنے ساتھ کھینچے چلے جاتے ہیں۔ آوازیں دیتے ہیں، میں سچ بول رہا ہوں، میں دکھی ہوں، میری سنو میں تہنا ہوں۔ پھر کبھی یہ سندھ یونیورسٹی کی سیڑھیوں پہ بیٹھے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں تو کبھی بوہری بازار میں گاڑیوں کے رش میں سے رستہ بناتے نئی منزلوں کی جانب لیے چلے جاتے ہیں۔

رھجی ویل منظر کے یہ کردار میرے لیے سندھی سماج کی نئی دنیا کھولتے چلے جاتے ہیں، ہم جو جنگل اور دیواریں جیسے ڈرامے دیکھ کر بڑے ہوئے، جن کےآغاز کی موسیقی ہی دل میں ہیبت پیدا کردیتی تھی۔ ہم جن کو ٹی وی ڈراموں میں سندھی کردار ایک جابر وڈیرا دکھایا گیا یا مظلوم ہاری۔ ہمارے لیے یہ ناول زندگی کی حقیقی تصویر کشی کرتا ہے۔ اس کے کردار مجھے اردگرد نظر آتے ہیں جو حقیقی ہیں۔ اس میں نہ جابرجاگیردار ہے جو زبردستی لڑکی کو اٹھا رہا ہے نہ کمزور ہاری جو اپنی پگڑی اس کے پیر پہ رکھ کر رحم کی درخواست کررہا ہے۔ یہ جدید ناول ہے جو مڈل کلاس شہری زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ دنیا کے دوسرے شہروں کی طر حیدرآباد اورجامشورو کی پتھریلی وادی میں بھی محبت جنم لے کر پروان چڑھتی ہے، روتی ہے، خود بچھڑنے کا فیصلہ کرتی ہے اوراس کے بعد بھی زندگی جاری رہتی ہے۔

ناول کے کردار، جھوٹ بھی بولتے ہیں، چھوٹے چھوٹے دھوکے بھی دیتے ہیں لیکن ان کا ضمیرموجود ہے اور وہ اس تکلیف کا برملا اظہار کرتے ہیں، وہ مادیت پسند بھی نظر آتے ہیں اور اپنی اس کمزوری کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔

مجھے اس ناول کو پڑھتے ہوئے عجیب سا سکون ملا۔ قاسم آباد اور لطیف آباد کا فاصلہ تو چھوڑیے، کراچی اور حیدرآباد کا فاصلہ بھی مختصر لگا۔ کراچی میں علی کا فلیٹ پنہوں اور سنجھنا کے لیے جائے سکون ہے تو یونیورسٹی کی پیچھے پہاڑی ٹیلہ بھی۔

مجھے لگا یہ ناول محبت کی زبان میں لکھا گیا ہے۔ سندھی اور پھر اردو میں ترجمہ تو اس محبت کو ہم تک پہنچانے کے محض میڈیم ہیں۔

اس کی ایک اور خوبی جو مجھے پسند اَئی۔ پنہوں کہتا ہے کہ سنجھنا اس کو نہ خوبصورت لگتی ہے اور نہ سیکسی۔ لیکن اس کی ذہانت کا معترف ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی ذہانت کا نہ صرف معترف ہوجانا اس کو تسلیم کرنا بلکہ اس کو حسن پہ فوقیت دینا بڑی حوصلہ افزا بات ہے۔

ناول پڑھنے کے بعد پہلا خیال یہ آیاتھا کہ یہ ناول میں نے اتنی دیر سے کیوں پڑھا؟ اس کی وجہ سندھی زبان کے ادب کا اردو میں موجود نہ ہونا ہے۔ شاید سندھی بولنے والوں اور لکھنے والوں کے لیے اردو میں تراجم اتنی اہمیت کا باعث نہ ہولیکن یہ اردو پڑھنے والے یا مجھ جیسے سندھی، بلوچی یا پشتو نہ پڑھ سکنے والے لوگوں کے لیے اہم ہیں۔ ضروری ہے کہ زبانوں کے درمیان بہتر رابطے کے لیے تراجم کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے۔ تاکہ بہترین ادب تک سب کی رسائی ہو۔ کتاب کے ناشر بک ٹائم والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بین الاقوامی کتابوں کے تراجم اردو کے قارئین تک پہنچائے ہیں لیکن کسی سندھی کتاب کا ترجمہ پہلی بار شائع کر رہے ہیں، امید ہے کہ اردو کے قارئین کو تین سو روپے کی یہ کتاب بھاری نہیں پڑے گی اور ناشرکے لیے اس کتاب کی کامیابی سے سندھی سمیت پاکستان کی دیگر زبانوں کی کتابوں کے اردو تراجم کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں