آخر ایسا کیا ہی کیا ہے


“آخر آپ نے ایسا کیا ہی کیا ہے ماما اولاد کی پرورش سبھی کرتے ہیں یہ تو پیرنٹس پرینٹس کا فرض ہے آپ نے بھی اپنا فرض پورا کیا ہے اور اب میں بڑا ہو چکا ہوں اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہوں آپ پلیز میری لائف میں انٹرفئیر کرنا بند کریں“ وہ نخوت سے بولا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ بیس برس کا یہ خوبصورت نوجوان اس کا بیٹا تھا، اس کا پہلا بچہ وہ بچہ جس نے اس کو عورت سے ماں بنایا تھا، وہ بچہ جس نے اسے پہلی بار ماں پکارا تھا، وہ بچہ جس سے وہ بے تحاشہ محبت کرتی تھی اور جس کے بغیر اس کی زندگی اور اس کی ذات ادھوری تھی مگر وہ بچہ جو کل تک اس کی گود میں کھلکھلاتا تھا اتنا بڑا ہوچکا تھا کہ اس کی نظر میں آج ماں کی اہمیت کچھ بھی نہ تھی۔

وہ اکثر ذرا ذرا سی بات پر شدید ناگواری کا اظہار کر دیتا تو اپنی ماں کی نم ہوتی آنکھیں اسے مزید کوفت میں مبتلا کر دیتی تھیں مگر آج باہر نکلنے سے پہلے وہ یہ بھی نہیں دیکھ پایا کہ آج اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں تھے۔ وہ بہت دیر تک اپنے ہاتھوں پہ نظریں جمائے بیٹھی رہی۔ ماضی کے دریچے ایک ایک کرکے کھلتے رہے۔ اس نے انگلش لیٹریچر میں ماسٹرز کیا تھا وہ چاہتی تھی کہ مزید پڑھے اور انگلش پروفیسر بنے مگر وہی گھسا پٹا جملہ کہ وقت پر شادی ہونے سے زیادہ ضروری کچھ بھی نہیں پڑھائی کا اتنا ہی شوق ہو گا تو شادی کے بعد پڑھ لے گی، مگر شادی کے پہلے روز ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب اس کے اس کے جسم و جان، خواہشات یہاں تک کہ سوچ پر بھی اس کے شوہر کی اجارہ داری تھی۔

بظاہر سب کچھ نارمل تھا لوگوں کی نظر میں وہ مثالی جوڑا تھا، وہ ایک خوبصورت پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی تھی اس کا شوہر بھی کچھ کم نہ تھا خوش شکل اور خوش گفتار، اچھا کماتا تھا کھانا پینا، اوڑھنا پہننا گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی سوائے عزت کے۔ وہ سوچا کرتی میرے پاس بھلے یہ سب چیزیں نہ ہوتیں مگر کاش میرا شوہر مجھے عزت اور مان دیتا۔ کتنا آسان تھا اس کے شوہر کے لیے لمحوں میں اس کی دھجیاں اڑا دینا اور پھر یوں ظاہر کرنا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، اور پھر ستم تو یہ کہ اس سے اتنی ہی محبت عزت اور پیار چاہنا، وہ اپنے ماتھے پہ ایک شکن بھی ڈال پائے اس کی اسے اجازت نہ تھی۔

وہ تھی بھی تو ایسی درویش صفت، اسے اپنے شوہر سے کوئی گلہ نہ تھا وہ اتنی ہی محبت اور لگن کے ساتھ اس کا خراب رویہ برداشت کرتی اور اپنے آپ کو یہ آس دلاتی کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ایک وقت آئے گا جب اسے احساس ہوگا میری محبت کی قدر ہوگی اور وہ مجھے عزت بھی دے گا۔ مگر ایسا ہوا نہیں یہاں تک کہ وہ دو بچوں کی ماں بن گئی۔ اسے یاد تھا جب کبھی اس کا شوہر اسے بے دردی سے ڈانٹتا اور وہ خاموشی سے اک طرف بیٹھی اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کررہی ہوتی تو اس کا بیٹا اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرتا اور اپنے ننھے گلابی ہونٹوں سے اسے بوسے دیتا۔ مگر یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔

جیسے جیسے اس کی عمر بڑھنے لگی اس کا چہرہ اور اس کی عادات اپنے باپ جیسی ہونے لگیں اور وہ اکثر اپنی ماں سے چھوٹی چھوٹی شکایتیں کرنے لگا، دھیرے دھیرے ان شکایتوں میں تلخی آتی گئی اسے ہر روز ہی کسی نہ کسی بات پر کوئی اعتراض ہوتا تھا اور وہ یہ کہہ کر کہ ”ماما آپ کو نہیں پتا، آپ نہیں جانتیں ”اپنی کوفت کا اظہار کر دیتا جس پر عموما اس کے باپ کے چہرے پر استہزاء کا عنصر نمایاں نظر آتا تھا۔ مگر اس کے باوجود اسے اپنے شوہر اور بیٹے سے بے حد محبت تھی۔ مگر آج ایسا کیا ہوگیا کہ وہ پتھر بنی بیٹھی تھی ”میں نے آخر کیا ہے کیا ہے، میں نے ایسا کیا ہے کیا ہے“ اس کے ذہن میں یہ بات مسلسل گردش کر رہی تھی۔

میں نے اگر اپنا کیریئر اپنا خواب ادھورا چھوڑ دیا تو میں نے کیا ہی کیا ہے اور اگر تمام عمر میں نے محبت اور خلوص بانٹتے گزار دی جس کے بدلے میں مجھے دو بول عزت کے بھی نصیب نہ ہوئے تو میں نے کیا ہے کیا ہے۔ اس کے اندر جیسے سب کچھ بکھر گیا تھا مگر پھر بھی اسے اپنے بیٹے سے کوئی شکوہ نہ تھا، وہ تو آج بھی اتنا معصوم ہے جتنا کل تھا اس نے آزردگی سے سوچا ”بیٹا اگر ماں کا احترام نہ کرے تو اس میں اس بیٹے کا تو کوئی قصور نہیں، قصور تو اس باپ کا ہے جس نے اس بیٹے کی ماں کو عزت نہ دی“۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں