چیف جسٹس کی عدالت میں عامر لیاقت کی پریشانی


سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس ثاقب نثار کر رہے تھے۔ عدالت میں لگی بائیں طرف کی کرسیوں کی درمیانی رو میں عامر لیاقت جبکہ درمیان والی کرسیوں کی قطار کے آخری رو میں شاہزیب خانزادہ بیٹھے ہوئے تھے۔ مقدمہ انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن (جنگ/جیو) بنام عامر لیاقت۔ شاہزیب خانزادہ بنام عامر لیاقت تھا۔ دونوں درخواستوں میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ عامر لیاقت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے کیونکہ عدالت عظمی کے جانب سے اس کو پروگرام جاری رکھنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی۔ شرط یہ تھی کہ وہ تضحیک آمیز اور منافرت پر مبنی گفتگو نہیں کریں گے۔

عدالت کے سامنے درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے۔ وکیل نے بتایا کہ عام لیاقت منافرت پھیلانے اور تضحیک کے عادی ہیں، ان کے خلاف پہلے بھی درخواستیں آئیں اور پیمرا نے نوٹس لئے، ان پر پابندی بھی لگی مگر بار بار وہی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں فوجداری کارروائی نہیں ہو رہی۔ وکیل نے بتایا کہ یہ نہیں کہہ رہا کہ فوجداری نوعیت کی کارروائی کر کے جرم میں سزا دی جائے۔ اس کی دو تشریحات ہیں۔ شاہد اورکزئی کیس میں 2007 میں توہین عدالت کا ایک اصول طے کر دیا گیا ہے، اس کی مختلف جہات ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جہتیں تو ہوں گی مگر ہم فری اسپیج کے حق کے گارنٹر بھی ہیں اس کو بھی دیکھنا ہے۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر یہ فری اسپیج میں آتا ہے تو پھر میرا کوئی کیس نہیں ہوگا۔ عامر لیاقت کے وکیل شہاب سرکی نے کہا کہ ہم درخواست گزاروں کی فراہم کردہ ویڈیو نہیں دیکھ پائے جن سے ان کو شکایت ہے اس کے بعد ہی جواب دے سکیں گے، انہوں نے صرف ویڈیو کا تحریری متن فراہم کیا ہے، جب تک مکمل پروگرام نہیں دیکھتے سیاق و سباق سمجھ سمجھ نہیں آئے گا، اگر یہ ہمیں تاریخ بتا دیتے تو ہم خود پورے پروگرام کی ویڈیو ساتھ لے آتے۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ درخواست گزار کی فراہم کردہ ویڈیو کلپ پروجیکٹر پر عدالت میں چلائی جائے۔ پہلی ویڈیو چلائی گئی تو عامر لیاقت بول رہے تھے ”نیلے پیلے چینل کے میرشکیل کو، فادر آف بھارت کو، سن آف بھارت کو، نیلے پیلے کے تمام اینکرز کو، مودی کے تمام اینکرز کو بھی، جلنے والے، حسد کرنے والے کو بھی یہ گانا ڈیڈیکیٹ کر رہا ہوں پیار سے، اور گانا پیار سے ہی ڈیڈیکیٹ کیا جاتا ہے“۔

چیف جسٹس نے ویڈیو رکوا کر عامر لیاقت کو بلایا، وہ اپنی نشست سے اٹھ کر روسٹرم کی جانب آئے تو چیف جسٹس ثاقب نثار سخت لہجے میں بولے یہاں ڈرامہ نہیں چلے گا عدالت ہے، اسٹیج پر نہیں ہیں تمیز سے جواب دیں کہ اس ویڈیو میں آپ کا مخاطب کون ہے؟ کس کے بارے میں کہا ہے؟ عامر لیاقت جھٹ سے بولے اجیت کمار ڈوول اور مودی کے لئے۔ اس پر چیف جسٹس سخت بدمزہ ہوئے اور تلخ لہجے میں بولے عدالت کے سامنے جھوٹ بول رہے ہیں، منہ پر جھوٹ بول رہے ہیں، اس جھوٹ پر ابھی نوٹس جاری کرتے ہیں۔ (عدالت میں بیٹھے افراد عامر لیاقت کے جواب پر مسکرا کر رہ گئے)۔

مگر عامر لیاقت کے جواب کی تشریح ان کے وکیل شہاب سرکی نے کرنی تھی اور کیا خوب کرنا تھی، یہ کسی کو معلوم نہ تھا۔ وکیل شہاب سرکی نے کہا کہ دراصل عامر لیاقت بھارتی چینل زی ٹی وی کے اینکرز کے بارے میں کہہ رہا ہے، زی ٹی وی نے ان کے بارے میں پروگرام کیا تھا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کیا ان کی (بطور رکن اسمبلی) کامیابی کا نوٹی فیکیشن جاری ہو گیا ہے؟ کیا ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے جنہیں اپنی زبان پر اختیار نہیں ہے، ٹی وی پر عام لوگوں کو کیا بتا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے عامر لیاقت کے وکیل سے کہا کہ آپ وہ زی ٹی وی کے پروگرام بھی لائیں جو ان کے خلاف کیے گئے، اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، ان کو عدالت نے اجازت دی تھی، ہم نے انتباہی حکم بھی دیا تھا، یہ ذومعنی پروگرام کرتے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال ان کو سی ڈیز اور متن فراہم کر دیا تھا، ان کا جواب بھی عدالت میں جمع ہے۔ چیف جسٹس بدستور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے چلے گئے کہ آج مودی یاد آ گیا، کوئی اور یاد آ گیا۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کسی کے ساتھ جتنی بھی مخالفت ہو اس طرح کسی کے خلاف منافرت نہیں پھیلانی چاہیے، غدار قرار دینے کی بات نہیں ہونا چاہیے، اس طرح تو ملک میں اشتعال کی فضا پیدا ہوگی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کس چینل پر ہوتے ہیں یہ؟ وکیل نے جواب دیا کہ بول پر۔ چیف جسٹس نے عدالت میں موجود سمیع ابراہیم (بول کے ڈائریکٹر نیوز) کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ لوگوں کو یہ دکھاتے ہیں، نذیر لغاری صاحب (بول کے اینکر) کہاں ہیں؟ سمیع ابراہیم عدالتی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ یہ سب دیکھنے کے بعد بہت شرمندگی ہے، میں اس پر معافی مانگتا ہوں، اب میں بول کا کانٹینٹ ہیڈ ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی پڑھے لکھے آدمی کو اس طرح کی گفتگو زیب دیتی ہے؟ سمیع ابراہیم نے کہا کہ میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہی جیو چینل تھا جس میں کام کرتے ہوئے عامر لیاقت قسمیں کھاتے تھے کہ میرے ماں باپ بھی یہی ہیں، یہ ہے ان کا کردار؟ انہوں نے کالم بھی لکھے تھے، کہتے تھے کہ میری والدہ کا اس گروپ اس فیملی سے تعلق ہے، چھوڑ کر جانے کے بعد کسی کے خلاف اس طرح کی تحریک شروع کر دیں، یہ سب کیا ہے؟

عدالت کی ہدایت پر عامر لیاقت کے پروگرام کی ایک اور ویڈیو چلائی گئی جس میں جنگ/جیو اس کے مالک، اینکرز اور نجم سیٹھی کو بھارت ایجنٹ قرار دینے کی انگریزی سلائیڈز اسکرین پر چل رہی تھیں اور پس منظر میں موسیقی تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اشتعال انگیز/منافرت پھیلانے والے مواد کو دیکھنا ہے اور اس کا جواب بھی عدالت میں آنا چاہیے۔

اس تمام وقت کے دوران کالی شلوار قمیص میں ملبوس عامر لیاقت روسٹرم کے سامنے کھڑے اپنے ہی پرانے پروگراموں کے ٹوٹے دیکھتے رہے۔ دوسری ویڈیو دیکھتے ہی چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کرتا ہوں، چودہ دنوں میں اس کا جواب دیں، پھر کیس کو آگے چلائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی سماعت ملتوی کر دی گئی۔

عدالت سے باہر نکلتے ہوئے پہلی بار عامر لیاقت انتہائی متفکر اور پریشان نظر آئے۔ شاید ان کی آنکھوں کے سامنے ن لیگ کے ان ارکان کے چہرے گھوم رہے ہوں گے جن کو عدالت نے توہین عدالت کی سزا سنائی اور وہ پانچ برس کے لئے نا اہل ہو گئے۔ اور جن پر وہ اپنے پروگراموں میں جملے کستے رہے ہیں۔
دوسری طرف شاہزیب خانزادہ خوشی خوشی عدالت سے نکلے اور اپنے وکیل سے ملے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں