عمران خان کا جمہوری رویہ


husnain jamal (3)اگر آپ روٹی جلدی بنانے کی کوشش کریں گے تو وہ جل جائے گی یا کچی رہ جائے گی، اسی طرح سڑک کا معاملہ ہے، جو بھی سواری آپ کے پاس ہو، تیز رفتاری کیجیے گا تو آخر کار کسی حادثے کا سبب بن جائے گی۔ گیس بجلی کا بل جمع کرانے جائیے گا، قطار سے باہر نکل کر جلدی آگے گھسنے کی کوشش کریں گے تو لڑائی جھگڑا ہو جائے گا، مزید وقت بھی ضائع ہوگا۔

زندگی ہم سب بسر کرتے ہیں، جہاں مرضی چلتی ہے وہاں مرضی چلا لیتے ہیں، جہاں بس نہیں چلتا وہاں صبر کر لیتے ہیں۔ اگر ہم میں سے بیشتر لوگ اپنے اس سفر کا جائزہ لیں تو ایک لگی بندھی روٹین سے ہر کام چل رہا ہوتا ہے۔ روزمرہ کے کاموں میں زیادہ بے صبری کوئی نہیں دکھاتا۔ جو دکھاتا ہے وہ اس کا انجام بھگتتا ہے یعنی انتظار اور صبر ہر معاملے میں ضروری ہے ورنہ نقصان اٹھائیے گا یا سرپھٹول ہو گی۔

یہی معاملہ سیاست کا ہے۔ ہم صدیوں سے ایک انقلاب کی آس پر جی رہے ہیں، جہاں کچھ گرماگرمی ہوئی، کوئی معاملہ اٹھا، ہم انقلاب کی بین بجانے والوں کے ساتھ شامل ہو گئے، نتیجہ کچھ نہیں نکلا، وہی بین اگلی نسل کو تھما دی اور خود ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے۔ ہماری نسل نے ہوش سنبھالتے ہی اسلامی انقلاب کے نعرے سنے پھر بے صبری بڑھی پھر فوج آ گئی۔ اب انقلاب کے شوقین انتظار میں بیٹھ گئے۔ روٹی کپڑا اور مکان دینے کی بات ہوئی، بے صبری بڑھی، پھر نگران آ گئے۔ انتظار بالجبر شروع ہو گیا۔ پھر معاشی انقلاب آیا، ہڑا ہڑی اور بے صبری بڑھی اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اس کے بعد ایک طویل انتظار کیا، پوری قوم نے کیا، اس وقت حکومتوں کو مشورے کوئی نہیں دیتا تھا، رموز حکمرانی سب کے سینوں میں بند رہتے تھے اور ٹھنڈی سانس کی صورت خارج ہوتے تھے۔ کوئی بولتا تھا تو مکا دکھا دیا جاتا تھا یا انجانی سمت سے مارے جانے کی دھمکی ہوتی تھی، وہ پوری بھی ہوئی، تو شوقین مزید دم سادھے بیٹھے رہے۔ پھر جمہوریت کا دور آیا، پہلا دور جس میں خوش گوار بات یہ ہوئی کہ جمہوریت کو پہلی بار مکمل عرصہ مل گیا لیکن ساتھ ساتھ انقلاب کے شوقین کرپشن کو جڑ سے مٹانے کے عشق میں مبتلا ہو گئے۔ وہ بالخیر ختم ہوا۔ اب کے معاشی انقلاب کا خواب پھر سے دیکھا گیا اور اس کے ساتھ ہی پھر سے تبدیلی کے نعرے لگے، سال ڈیڑھ سال اس جنون میں گزار کر اب قوم دوبارہ کرپشن مٹانے کے چکروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں جلدی کیا ہے؟

کیا کرپشن، اگر اس کی تعریف وہی ہے جس پر آپ اور ہم متفق ہیں، ایک دو دن میں ختم ہو سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر قومی اسمبلی میں کل جو ہوا اس پر اپوزیشن کو سازشی ہونے کے اور عمران خان کو بے وقوف بنائے جانے کے طعنے کیوں دئیے جا رہے ہیں۔ عمران خان اگر گذشتہ روز پوری تیاری کے باوجود نہیں بولے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دیگر جماعتوں کے فیصلے کا احترام کرتے تھے۔ ان کے واک آؤٹ کر جانے میں بھی یہی حکمت تھی۔ پہلی بار اگر وہ دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا چاہ رہے ہیں اور ان کی رائے کو اہمیت دے رہے ہیں تو ہماری بے صبری نہیں ختم ہو رہی۔ ہم انہیں طعنے دے رہے ہیں کہ وہ فلاں تصویر میں پیچھے کھڑے ہیں، بول کوئی دوسرا رہا ہے اور وہ خاموش کھڑے ہیں، ان کی پارٹی کے لیڈر آگے ہیں، وہ مرکزی صف میں نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بھئی سیدھی سی بات ہے، جمہوریت ہے تو سب کچھ ہے۔ اگر آج وہ یہ بات سیکھ گئے ہیں تو ہم انہیں کم زور کیوں کریں۔ اگر وہ مل کر چلنا چاہ رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے اور موجودہ حالات میں واقعی اس سے بہتر لائحہ عمل کچھ بھی نہ ہوتا۔ اپوزیشن کمپوزڈ نہیں تھی، اگر وزیر اعظم کی تقریر کے بعد بحث کی جاتی تو سب کا اپنا اپنا موقف ہوتا اس لیے وہاں سے نکل آئے تاکہ ایسا کوئی تاثر پیدا نہ ہو، اور یہ ہرگز کوئی آخری موقع نہیں تھا۔ معاملات جمہوری رہے تو یہ موقع پھر آ جائے گا، جلدی کس بات کی ہے۔

اس ساری کارروائی میں خیر کا پہلو دیکھیے، اور وہ یہ کہ واک آؤٹ کے فیصلے پر کم ازکم اپوزیشن مکمل متفق تھی تو اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والے کب تک سولو فلائیٹ کر سکتے ہیں، بالاخر تھک کر گرنا ہوتا ہے۔ اب اگر گرنے سے پہلے باعزت طریقے سے معاملات سمجھ آ جائیں اور اڑنا ترک کر لیا جائے تو اس سے بہتر کیا ہو گا۔ یقیناً عمران خان کی جانب سے یہ ایک قابل ستائش جمہوری رویہ تھا۔

اسد محمد خان اپنی ایک کہانی یوں شروع کرتے ہیں؛

” میں اور میرے ہم عصر، ہم ایک طوفان کے مرکز میں ہیں۔ اندر سے یہ دائرہ بالکل شانت دکھائی دیتا ہے۔ سب کچھ جما جمایا اور unruffled ہے یہاں۔ ہاں طوفان کا outer perimeter ایک پیس دینے والے فشار میں سنسناتا، گھمن گھیری کھاتا رہتا ہے۔ وہاں ہم رہتے ہیں، outer perimeter میں، مگر میں ‘رہنے’ کی بات نہیں کرتا۔۔۔وہ الگ کہانی ہے۔”

تو دیکھیے، ہم جہاں رہتے ہیں وہ الگ کہانی ہے، جہاں حزب اختلاف اور حکومتی وزرا موجود ہیں وہ الگ کہانی ہے، مشترکہ معاملہ یہ ہے کہ نظام بچانا ہے، اچھے برے سب کے ساتھ، ایسے میں عمران خان کی حوصلہ شکنی ہرگز قابل ستائش نہیں۔ یہ ان کا جمہوری فیصلہ تھا، دوسروں کے ساتھ مل بیٹھ کر کیا گیا تھا تو اس سے بہتر کیا ہو گا۔

جہاں تک ارباب اقتدار کا تعلق ہے تو ان سے زیادہ سیزنڈ جماعت فی الوقت کوئی نہیں ہے، وہ جانتے ہیں کب کیا بات کرنی ہے، وہ وقت پر پتے دکھاتے ہیں۔

لیکن جو بات ہم سب کو جاننی چاہئیے وہ یہ ہے کہ ہم کبھی بھی outer perimeter میں دھکیلے جا سکتے ہیں، بے صبری اب ہم افورڈ نہیں کر سکتے کیوں کہ ہمارے پیر کنارے پر ٹکے ہوئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 143 posts and counting.See all posts by husnain