نچلی ذات کی باگڑی عورت کے قتل پر احتجاج منع ہے


طاقتور اور کمزور کے مابین جنگ ازل سے جاری ہے۔ طاقتور کی طرف سے طاقت کا مظاہرہ متحدہ ہندوستان میں بھی کیا جاتا تھا اور آزاد پاکستان میں بھی جاری ہے۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے تو اس طبقاتی نظام کو ختم کرتے ہوئے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جو رنگ و نسل، ذات پات اور مذہب کی تفریق سے پاک ہو مگر صدیوں سے ہمارے وجود میں شامل ذات پات، رنگ و نسل اور مذہبی منافرت کی پکی دیواریں نہ ٹوٹ سکیں۔ ایک طرف ہم امیری غریبی کے طبقاتی نظام کا شکار ہیں تو دوسری طرف رنگ و نسل اور مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بٹے ہوئے ہیں۔ ہمارے معاشرتی نظام کو جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ نظام، روپے پیسے اقتدار کی ہوس نے کوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے میں اگر اقلیتوں کے حقوق کی بات کریں تو سورج کو دیا دکھانے کے برابر ہوگا۔

خصوصاً اگر ہم صوبہ سندھ کی اقلیتوں کی نچلی ذات والے باگڑی، بھیل، مینھگواڑ، کولھی اور اوڈھ کی بات کریں تو ان بیچاروں کی اوقات زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں سے کچھ زیادہ نہیں۔ بھلے ہم کتنے بھی آزاد خیال اور روشن خیال کیوں نہ ہو جائیں مگر پھر بھی ہمارے ذہنوں میں موجود جمی ہوئے کائی ان کے ساتھ کھانے پینے اور میل جول کی اجازت نہیں دیتی۔ ایسے میں جب یہ باگڑی ذات کے لوگ اپنی خاتون میوی باگڑی کے بہیمانہ قتل پر سراپا احتجاج نظر آئے تو پھر مورو شھر کی سندھ پولیس نے ان کے خلاف جہاد کرنا فرض اپنا سمجھا۔ اور ملزمان کی سرپرستی کرتے ہوئے ان احتجاج کرنے والوں جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے کو زد و کوب کیا گیا ڈرایا دھمکایا گیا کہ احتجاج کرنے سے باز آ جاؤ۔ احتجاج کرنے والوں پر بد ترین تشدد کیا گیا۔ آنسو گیس کے شیل ایسے چلائے گئے جیسے ملکی دشمن کے خلاف اعلان جنگ ہو۔ باگڑی مرد و خواتین کو پولیس اہلکاروں نے پکڑ پکڑ کر پولیس موبائیلوں میں ایسے ڈالا جیسے بھیڑ بکریاں۔ اور ان مظلوموں پر دہشتگردی کے کیس دائر کرتے ہوئے ان کی جھوپڑیوں پر بھی چھاپے مارے تاکہ بھاری اسلحہ برآمد کیا جا سکے۔

اس صورتحال پر سندھ کے کچھ قوم پرست رہنماؤں کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق کی دعویدار جماعتیں اور ان کے اقلیتی رہنماؤں کے منہ سے اس پولیس گردی اور باگڑی قبیلے کے انصاف کے لیے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ شاید یہ تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے اقلیتی رہنما حکومت سازی کی جوڑ توڑ میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ سوشل میڈیا پر پولیس گردی کے اس عمل کی شدید مذمت کی جار رہی ہے مگر اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کی قسم کھانے والی ملکی میڈیا صرف اتنخابات کے عمل میں مصروف عمل نظر آتی ہے۔ سندھ کے باگڑی، بیھل، اوڈھ، مینھگواڑ، کولھی وہ قیبلے ہیں جن کو سندھ کے اصل رہائشی اور مالک مانا جاتا ہے مگر بھوک، افلاس، غربت، رنگ و نسل اور مذہبی منافرت کی وجہ سے شاید ان کی آواز بگھوان تک بھی کم ہی جاتی ہوگی۔

یہ بچارے اپنے کچی پکی جھونپڑیوں میں مسافر پرندوں کی طرح رہتے ہیں جیسے ہی کسی ظالم شکاری کے پیروں کی آہٹ سنائی دیتی ہے یہ ایسے اڑ جاتے ہیں جیسے وہاں پر تھے ہی نہیں۔ اقلیتوں کی سیٹوں پر منتختب ہونے والے یہ سینیٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز، وزیر اور مشیر تو برائے نام ہی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں مگر آواز ان تک صرف اونچی ذات یا پیسے والوں کی ہی پہنچ سکتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والی نام نہاد تنظیمیں ان کے حقوق کے حوالے سے فائیو اسٹار ہوٹلز میں سیمینار، ورکشاپ اور فوٹو سیشن کروا کے اپنے فنڈز تو اکٹھا کر لیتی ہین مگر حقیقت ان بیچاروں کو حقوق دلانے کے لیے کوئی نہیں آتا۔

ان نچلی ذات کے لوگوں کو جہاں کوئی اپنے گلاس میں پانی دینے کے بھی تیار نہیں وہاں ایسی صورتحال میں جہاں یہ کم ذات باگڑی روڈ پر احتجاج کریں گے تو پھر وہاں سندھ پولیس کے جانباز افسران اور اہلکار ان کو دن میں تارے ہی دکھائیں گے۔ اور ان باگڑی عورتوں کی عزتیں ویسی کون سی بہت اہم ہیں کہ اگر کوئی پولیس والا ان کے جسم پر ہاتھ لگا بھی لے تو کیا۔ اور جہاں تک بات ہے تشدد، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور دہشتگردی کے الزامات کی تو ان کم ذات باگڑیوں کو سبق سیکھانا بھی تو ضروری تھا کہ ایک کم ذات عورت کے قتل پر احتجاج کا حق انہیں دیا کس نے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں