2018 کے انتخابی نتائج: ’بس اپنے کام سے کام رکھو‘


پاکستان الیکشن

EPA

بی بی سی نے 25 جولائی کے عام انتخابات میں دو پریزائڈنگ افسروں کی رائے لی تو معلوم ہوا کہ دونوں کے مطابق اس روز آر ٹی ایس نظام بخوبی کام کر رہا تھا۔ ایک کے مطابق انہیں نتائج بھیجنے سے روک دیا گیا تھا۔

محمد رمضان (فرضی نام) کو جو کہ ایک سکول ٹیچر ہیں۔ 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں پریزائیڈنگ افسر تعینات کیا گیا۔

اس دن ان کے پولنگ سٹیشن پر کیا ہوا اس بارے میں وہ خود اپنی روداد سناتے ہیں۔

’مجھے 24 جولائی کو رات دس بجے کے قریب فون آیا جس پر کوئی نمبر تو نہیں دکھائی دے رہا تھا صرف اس پر (ان نون) لکھا ہوا تھا۔ فون کرنے والے نے اپنا نام تنویر بتایا اور کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے بات کر رہا ہے۔

میں نے کہا جی حکم کریں تو اس نے کہا کہ پولنگ چونکہ صبح آٹھ بجے شروع ہونی ہے اس لیے وہ کوشش کریں کہ دو ڈھائی گھنٹے پہلے پولنگ سٹیشن پہنچ جائیں تاکہ انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

حکم کی تعمیل کرتے ہوئے میں دو گھنٹے پہلے اپنے پولنگ سٹیشن پر پہنچ گیا۔ پہلے تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے وقت سے پہلے اندر جانے کی اجازت نہیں دی لیکن جب اندر سے سکیورٹی اہلکار آئے تو وہ مجھے اندر لے گئے۔

جس عمارت میں پولنگ سٹیشن بنایا گیا تھا وہ ایک سکول کی عمارت تھی۔ میں جب اس عمارت میں داخل ہوا تو سوچا کیوں نہ اس علاقے کا دورہ کر لیا جائے جہاں مردوں کا پولنگ سٹیشن بنا ہوا ہے۔ چنانچہ سکیورٹی اہلکار بھی میرے ساتھ ہو لیے۔

پاکستان الیکشن

EPA

اس دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ اس عمارت کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے لیکن اکثر کیمروں کا رخ آسمان کی طرف تھا جبکہ ایک دو کیمروں کے اوپر کپڑا ڈالا گیا تھا۔ یہ وہ کیمرے تھے جن کا رخ پولنگ سٹاف کے عملے اور پولنگ ایجنٹ نے بیٹھنا تھا اس جانب تھا۔

جب ان کیمروں پر ڈالے گئے کپڑوں کے بارے میں پوچھا تو سکیورٹی اہلکار نے اس بارے میں لاعملی کا اظہار کیا۔

جب میں نے ان کیمروں کی تصویر لینے کی کوشش کی تو ایک سکیورٹی اہلکار نے مجھے سختی سے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ’سر جی بس اپنے کام سے کام رکھو۔‘

سکیورٹی اہلکار کے پاس جدید اسلحہ بھی تھا لہٰذا اس سکیورٹی اہلکار کی بات ماننے میں ہی عافیت سمجھی۔

پاکستان الیکشن

EPA

پولنگ کا وقت قریب آتے ہی مکمل سامان اور خالی ڈبے بھی پہنچا دیے گئے۔ پولنگ شروع ہونے کے دو گھنٹے تک تو سکون رہا اور پولنگ کا عمل بڑے احسن طریقے سے آگے بڑھتا رہا۔

پولنگ کے عملے اور مختلف امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کے درمیان کام کے ساتھ ساتھ خوش گپیاں بھی چلتی رہیں۔

پولنگ کے عمل کو تین گھنٹے گزرے تو سکیورٹی اہلکار میرے پاس آیا اور رازداری کے انداز میں پوچھا کہ لوگوں کا کس امیدوار کو ووٹ ڈالنے کا رجحان زیادہ ہے۔

میں اپنے اندازے کے مطابق اسے بتایا تو وہ سکیورٹی اہلکار کچھ دیر کے لیے وہاں سے چلا گیا اور موبائل پر کسی کو اس بارے میں اطلاع دے کر واپس آ گیا۔ سکیورٹی اہلکار نے یہ معاملہ چھ سات مرتبہ دہرایا اور میں بھی ایک فرما بردار بچے کی طرح اس کو صورتحال سے آگاہ کرتا رہا۔ میری معلومات وہ کسی اور تک پہنچا دیتا تھا۔

شام چھے بجے جب پولنگ کا وقت ختم ہونے لگا تو مجھے بتایا گیا کہ پاکستان کے چیف جسٹس نے ان تمام لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی ہے جو نہ صرف پولنگ سٹیشن کے احاطے میں قطاروں میں کھڑے ہیں بلکہ جو پولنگ سٹیشن کی عمارتوں کے باہر بھی لائنوں میں کھڑے ہیں اُنھیں بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی۔

میرے پولنگ سٹیشن پر صرف ان لوگوں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی جو عمارت کے اندر تھے جبکہ درجنوں کی تعداد میں جو لوگ عمارت کے باہر کھڑے تھے انہیں واپس اپنے گھروں کو جانے کا کہا گیا اور ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس پولنگ سٹیشن پر جب ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا تو پولنگ ایجنٹوں کو اس ڈبے کے قریب نہیں آنے دیا گیا جس میں ووٹ ڈالے گئے تھے بلکہ اُنھیں دس فٹ دور بیٹھنے کا کہا گیا

اس دوران مسلم لیگ نواز کے امیدوار کے پولنگ ایجنٹ نے اعتراض کیا تو سکیورٹی اہلکار نے اپنے افسر کو فون کیا اور کچھ دیر کے بعد چار پانچ سکیورٹی اہلکار وہاں آئے اور پولنگ ایجنٹوں کو سخت الفاظ میں کہا گیا کہ جس طرح کہا جاتا ہے اسی طرح عمل کریں ورنہ ان کے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔

کچھ دیر کے لیے پولنگ ایجنٹوں کو کمرے سے نکال دیا گیا اورڈبوں کو ایک کمرے میں رکھ تقریباً نصف گھنٹے کے لیے رکھ دیا گیا۔ اس دوران سکیورٹی کی دو گاڑیاں پولنگ سٹیشن کے اندر آئیں بھی۔ یہ نہیں معلوم تھا کہ کتنے ڈبے کمرے کے اندر رکھے گئے اور جب نکالے گئے تو وہ کتنے تھے۔ کچھ دیر کے بعد پولنگ ایجنٹس کو کمرے میں آنے کی اجازت دی گئی اور میں نے وہ تمام ڈبے خالی کیے جن میں ووٹ ڈالے گئےتھے۔

پاکستان احتجاج

EPA
انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف مختلف سیاسی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں

پولنگ ایجنٹس کو دور سے ہی ایک ایک کرکے ووٹ دکھائے۔ اتنے فاصلے سے صرف یہ تو نظر آتا تھا کہ کس انتخابی نشان پر مہر لگی ہوئی ہے لیکن اگر اس کی سیاہی کسی دوسرے نشان پر چلی گئی ہو تو یہ نظر آنا تھوڑا مشکل تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں کسی پولنگ ایجنٹ نے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی۔

جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی اور میں فارم 45 پر کر کے نتیجہ تیار کرنے لگا تو سکیورٹی اہلکار میرے پاس آیا اور کہا کہ سر ابھی یہ تیار نہ کریں جب کہا جائے گا تو پھر تیار کریں۔

اس دوران سکیورٹی اہلکار نے اپنے کیمرے سے رزلٹ کی تصویر کھینچی اور تھوڑی دیر کے لیے وہ وہاں سے چلا گیا۔ میں نے غصے میں آ کر ایک سادہ کاغذ پر رزلٹ تیار کر کے پولنگ ایجنٹوں کو دینے کی کوشش کی تو مجھے روک دیا گیا۔ رات بارہ بجے کے قریب اس پولنگ سٹیشن کا نتیجہ آر ٹی ایس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو بھیجنے کی اجازت دی گئی۔

اس پریزائیڈنگ افسر کے بقول اس کا آر ٹی ایس نظام ٹھیک تھا لیکن اسے فوری نتیجہ بھیجنے کی اجازت نہیں تھی۔

محمد رمضان کے مطابق انتخابات کے تین روز گزر جانے کے باوجود اسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کی واضح مثال یہ تھی کہ اس نے اپنی گلی میں ایسے افراد کو بھی دیکھا تھا جو اس کے محلے کے نہیں تھے۔

نتائج تاخیر سے آنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ آر ٹی ایس سسٹم نے کام چھوڑ دیا تھا لیکن جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے جب اس بارے میں دریافت کیا تو اُنھوں نے کہا کہ تکنیکی نظام سست روی کا شکار تھا مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا۔

اسی طرح ایک سرکاری سکول کی استانی ابیھا فاروقی نے اپنے سوشل میڈیا کے ایک اکاونٹ پر اس روز کی داستان تحریر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا آر ٹی ایس نظام بھی درست کام کر رہا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ جس تحصیل میں انہیں تعینات کیا گیا وہاں میں نے ایک وڈیرہ کے اپنی نشست برقرار رکھنے کے لیے خوب پیسہ خرچ کرنے کی کہانیاں سنی تھیں۔ میرے فکرمند والد نے میرے ماموں کو ساتھ بھیجا۔

پاکستان الیکشن

EPA

ابیھا کے مطابق انہیں آر ٹی ایس کے تنصیب کے لیے پولنگ سے محض دو روز قبل ریٹرنگ افسر نے طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں پر سکیورٹی کے لیے فوج کے تین لاکھ 71 ہزار افسروں اور جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

ان میں سے بہت سے فوجی افسروں کو پولنگ کے دوران مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے۔ نگراں وزیر قانون علی ظفر سینیٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے باوجود آج تک ایسے فوجی افسران کی فہرست ایوان میں پیش نہیں کر سکے جنھیں مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4885 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp