حکایت اور اخبار


ایک نئی محبّت کے آغاز کے لیے، انگریزی کے شاعر جان ڈن نے نو وارد محبوبہ کے لیے میری نو دریافت سرزمین کے الفاظ استعمال کیے۔ سولہویں صدی کا شاعر نفیس اور پیچیدہ الفاظ میں محبت کے اسلوب میں زندگی کے عمل کے اظہار میں کمال رکھتا تھا مگر یہ الفاظ مجھے بھی اس وقت مناسب لگ رہے ہیں جب میں اس نئی کتاب کا ذکر لے بیٹھا ہوں جو کسی خزانے کی دریافت سے کم نہیں۔ مگر میں اس کتاب کا نام جانتا ہوں اور نہ اس کے مصنّف کا نام کسی کو بتا سکتا ہوں۔ یہ کتاب اپنی اس شکل میں مکمل بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود جتنی ہے، کافی ہے۔ اصل حقیقت کہانی کا نفسِ مضمون ہے اور وہ میسّر ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے فراوانی سے جو سرشاری کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے۔

اس کا قصّہ یہ ہے کہ استنبول کے ایک کتب خانے سے عربی زبان کا مسوّدہ دریافت ہوا جو ازمنۂ وسطیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔ مسوّدے کا سرورق غائب ہے اس لیے عنوان کا سراغ نہیں ملتا۔ کتاب کے آغاز میں لکھنے والے نے رسمی و روایتی انداز میں کتاب کے مندرجات کے بارے میں چند فقرے لکھے ہیں اور خداوند کی حمد اور پیغمبرؐ و اصحاب کرامؓ کی مدح کے بعد لکھا ہے کہ یہ ”حکایات العجیب و والاخبار الغریب‘‘ ہیں۔ یہ کتاب اب اسی نام سے موسوم ہوگئی۔ کتاب کا اصل نام کچھ بھی ہو، کہانیوں کی تفصیل بیان کرنے کے لیے ایسے الفاظ پر مشتمل پیرایہ ہمارے لیے اجنبی نہیں۔ فسانۂ عجائب کا نام ذہن میں آتا ہے۔ اور یوں خیال قصّوں کی پرانی روایت کے چند معاملات کی طرف جُڑ جاتا ہے۔

یہ مسوّدہ 1933ء میں دریافت ہوا اور اس کے بعد جرمن میں ترجمہ ہوکر یوروپ پہنچ گیا۔ انگریزی میں ترجمے کی نوبت اب آئی ہے۔ انگریزی نام کے لیے مترجم نے اسی فقرے کو بنیاد بنایا جو اب نام کے بجائے استعمال ہونے لگا ہے۔ Tales of the marvellous and News the strange، اس نام سے یہ کتاب پینگوئن نے کلاسیکی کتابوں کے اپنے مشہور زمانہ سلسلے میں شامل کی ہے۔ انگریزی میں ترجمہ میلکم لیونز Malcolm Lyons نے کیا ہے جو اس سے قبل الف لیلہ کا نئے سرے سے مکمل ترجمہ کر چکے ہیں اور مقدمہ رابرٹ ارون نے لکھا ہے۔ دونوں اصحاب ازمنۂ وسطیٰ کے عربی ادب کی تفہیم، تعبیر، ترجمے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

کتاب کے ذیلی عنوان کے تحت لکھا ہے۔ A Medieval Arab Fantasy Collection۔ ان میں سے بعض کہانیاں یا ان کی ملتی جلتی شکلیں ہمارے ہاں بھی موجود رہی ہیں۔ ان کے مآخذ بھی وہی رہے ہوں گے۔ اس کے باوجود اس مجموعے میں شامل داستانوں میں ایک انوکھا پن اور حیرت کا ایسا سامان ہے کہ دل موہ لیتا ہے۔ ہم نے اس قسم کی داستانوں سے مُنھ موڑ لیا ہے اور الف لیلہ میں بھی عجائبات کے بجائے معاشرتی حقیقت سے قریب تر عبارتیں تلاش کرتے ہیں مگر کتاب کے مقدمے میں رابرٹ ارون نے لفظ عجائب کا ذکر کرتے ہوئے اس سے متعلق تصوّرات، بیانیہ رسوم اور معنی کا حوالہ دیا ہے جو اب ہمارے لیے ایک گم گشتہ داستان بن چکے ہیں۔

اس مسوّدے کی دریافت اس لیے اہم ہے کہ یہ غالباً اس کتاب کا واحد نسخہ ہے، اس کی کوئی اور نقل کسی اور ذخیرے میں دستیاب نہیں۔ مسوّدے کے بارے میں اندازہ لگایا گیا کہ یہ داستانیں غالباً دسویں صدی عیسوی میںاحاطۂ تحریر میں لائی گئیں جب کہ موجودہ نسخہ بعد میں لکھا گیا، کیونکہ اس کی خطاطی چودھویں صدی کے انداز کی ہے۔ اس پر مُہر بھی پوری طرح پڑھی نہیں گئی۔ مسوّدے کا سرورق ہی نہیں، آدھا حصّہ بھی غائب ہے۔ اس میں بیالیس قصّے ہونے چاہیے تھے لیکن اٹھارہ قصّے یہاں محفوظ رہ سکے ہیں۔ ابتدائیے میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ قصّے ایک مشہور کتاب سے لیے گئے ہیں۔ کوئی تعجّب کی بات نہیں کہ یہ مشہور کتاب ہمارے لیے گم نامی کے پردے سے باہر نہیں نکلی۔

کتاب کا مقدمہ بھی عجائبات سے کم نہیں۔ اس کے مصنّف رابرٹ ارون چوں کہ الف لیلہ سے خاص دل چسپی رکھتے ہیں اس لیے انھوں نے الف لیلہ کے قصّوں سے مماثلت اور اختلافِ اسلوب و مُغائرت کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ ابتداء میں وہ عجائب کے لفظ سے مسحور ہو جاتے ہیں اور یہ حصّہ مجھے خاص طور پر معنی خیز معلوم ہوا۔ وہ اس کو ازمنۂ وسطیٰ میں عربی ادب کی مرّوجہ و مقبول نثری صنف کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ نثر کی یہ صنف نہیں تو قصّہ گوئی کے لیے عجائب کی مناسبت ہمارے کلاسیکی ادب میں بھی موجود رہی ہے حالاں کہ اس کے ادبی معنی پر غور نہیں کیا گیا۔ پرانے قصّوں اور داستانوں میں پلاٹ کے مصنوعی پن اور کرداروں کی نفسیاتی کم زوریوں کا ذکر ہوا ہے اور ان کے حوالے سے عالموں اور نقادوں نے بہت شور مچایا ہے جو ان موضوعات پر تازہ ترین انگریزی کتابوں کے حوالے بھی فراہم کرسکتے تھے اور داستانوں کے نقائص میں اضافہ بھی۔ ارون کے لیے تو اس لفظ کی فضا ہی اور ہے۔ بہت زیادہ تفصیل میں جائے بغیر وہ باور کراتا ہے۔

An important genre of medieval Arabic literature that dealt with all manners of marvels that challenged human understanding, including magic, the realms of the Jinn, the marvels of the sea, strange fauna and flora, great monuments of the past, automata, hidden treasures, grotesqueries and uncanny coincidences.

اس فہرست کے بعد عجائبات کے لفظ کو محض رسمی یا تکلّف نہ سمجھیے گا۔ یوں بھی اس کے اصل مآخذ قرآن حکیم سے ملتے ہیں جہاں اصحاب کہف کے بیان میں حیرت کی نشانیوں کا ذکر ہے۔ یہ نشانیاں خدا کی قدرت ظاہر کرتی ہیں اور ان پر وجد کرنا گویا نیکی و راست کاری کا عمل ہے۔

کتاب کے مقدمہ نگار نے خوب علمی موشگافیاں کی ہیں اور نادر نُکتے اٹھائے ہیں مگر ان کی بُہتات میں ان قصّوں کی اصل دل چسپی کا معاملہ دب کر نہ رہ جائے جو ان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ جانے پہچانے فریم ورک اور مانوس بیانوں سے نکل کر وہ قصّے ہمارے سامنے آتے ہیں اور یوں ناصر کاظمی کے الفاظ میں مانوس اجنبی بن کر حیران کر جاتے ہیں۔ ایک قصّے کے آغاز میں بادشاہِ شہر کو نیند نہیں آرہی اور وہ فرمائش کرتا ہے اور مسافروں کی آرام گاہ سے چند لوگوں کو بُلوا بھیجتا ہے کہ دنیا کا حال احوال سنائیں، سفر کے قصّے بتائیں اور ان معاملات سے بادشاہ کے علم میں اضافہ ہوسکے، رات بھی کہانی میں کٹ جائے۔

بادشاہ کی کنیز جن مسافروں کو جمع کرکے لاتی ہے ان میں ایک اندھا، ایک کانا، ایک کُبڑا، ایک معذور اور ایک شخص جس کے ہونٹ کاٹ دیے گئے تھے اور چھٹا شیشہ بنانے کا کام کرتا تھا۔ بادشاہ نے ان کو دیکھا اور وعدہ کیا جس کا قصّہ سب سے عمدہ ہوگا اس کو معقول انعام دیا جائے گا۔ چھ آدمیوں کے چھ قصّے اور آخر میں بادشاہ کا انعام و اکرام۔ اس کی بدلی ہوئی شکل چہار درویش کے قصّے میں موجود ہے؟ اسی طرح چار سفر کا ایک معاملہ ہے اور ہر سفر میں ایک مُخفی خزانہ ظاہر ہوتا ہے۔

کام کرنے والے، سفر کرنے والے آدمیوں کی کمی نہیں۔ انسانوں کے ساتھ جن بھی دنیا میں آزادانہ گھوم رہے ہیں اور انسانوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ لیکن ان قصّوں کی سب سے حیرت انگیز مخلوق عورتیں ہیں۔ چالاک، تیز طراّر، مسحور کن، دل فریب، نازک اندام۔ پچھلی بہت سی کہانیوں سے بڑھ کر ارون نے حوالہ دیا ہے کہ انگریز ناول نگار خاتون اے ایس بائٹ A۔ S۔ Byatt نے بجا طور پر شکایت کی تھی کہ عربی کے پرانے قصّوں میں عورتوں کی عکاسی اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں زن دشمنی (misogyny) نمایاں ہے، واضح نظر آتی ہے، بائٹ کے نزدیک یہ عورتیں طاقت و اقتدار سے محرومی کے سبب اس طرح عمل پیرا نظر آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس الزام سے ان قصّوں میں سامنے آنے والی عورتیں بھی مبّرا نہیں۔

اس کے باوجود ان میں دلکشی، حسن اور نزاکت کے ساتھ ساتھ سرکشی بھی ہے۔ وہ جنس کے معاملے میں بے باک، خواہشات کا بے محابا اظہار کرنے والی اور اپنی خواہشات کو بے دھڑک آسودہ کر لیتی ہیں۔ جنسی دلکشی کا بیان پردوں میں لپیٹ کر نہیں کیا جاتا۔ کہانیوں کے ایک سلسلے کا مرکزی کردار اسی طرح کی حسین عشوہ طراز عروس العرائس ہے۔ کیا جن، کیا انسان اپنی خواہشات پوری کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ جن کے ساتھ مباشرت کے فوراً بعد اس اجنبی کی طرف راغب ہو جاتی ہے جو ظاہری طور پر انسان ہے اور اس کو ایسی لذّت سے ہم کنار کرتی ہے کہ اس کے تجربے میں اس سے بیش تر نہیں آئی تھی۔ اپنے نئے عاشق سے وصل کے بعد وہ پرانے عاشق کا گلا کاٹنے میں بھی دیر نہیں لگاتی۔

عشق و عاشقی کے عملی مراحل میں وہ ہماری داستانیں تو کیا الف لیلہ کی کے نسوانی کرداروں سے بھی چار ہاتھ آگے ہے۔ نسوانی کرداروں کی نفسیات والے نقاد کا سامنا ایسے کردار سے ہو جائے تو لخلخہ سونگھنے کی نوبت آجائے گی۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ مولوی عبدالحق کی شائع کہ وہ الف لیلہ مملکت خداداد پاکستان میں دوبارہ شائع ہوتی ہے تو بعض ٹکڑوں پر سفیدہ پھیر دیا جاتا ہے۔ ہم مولوی عبدالحق کے زمانے سے بھی پیچھے چلے گئے، الف لیلہ کا تو ذکر کیا۔ حکایت و اخبار کے یہ قصّے ہمارے لیے نادریافت مسوّدے کا معاملہ بن کر رہ گئے۔ مبادا ان قصّوں کو جان لیں اور پارسائی پر حرف آجائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں