مسلہْ فلسطین اورسر محمد ظفراللہ خان


NASIR-SHABBIR-PIC 6فروری 1893ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے  والے سرمحمد ظفراللہ خان ایک ممتاز  سیاست دان، بہترین سفارت کار، بین  الاقوامی ماہرقانون دان، بانئ پاکستان  قائد اعظم محمد علی جناح  ؒکے دست راست  اور ایک اصول پسند پاکستانی تھے۔ آپ نے  اپنی بے مثل اور اصولی سفارت کاری کے  ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ۔ آپ نے خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کی  آزادی کے لیے مثالی اور شاندار خدمات  سرانجام دیں اوراپنی انہی خداداد  صلاحیتوں کی بدولت آپ نے مسلہ ْکشمیر کے  موضوع پر اقوام متحدہ میں 7 گھنٹے تقریر  کی۔ قرادادِ لاہور کا مسودہ  تیارکرنے والوں میں سے ایک ناقابل  فراموش کردارسرمحمد ظفراللہ خان کو  قائد اعظم محمد علی جناح نے 1947ء میں پہلا  وزیر خارجہ پاکستان مقرر کیا تھا جنہوں  نے اقوام ِ متحدہ میں نمائندہ پاکستان  کے علاوہ مسلمانوں اور تیسری دنیا کے  ہمدرد اور پرجوش ترجمان بن کر اقوام عالم میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔ آپ  اپنی محنت، لگن اور خداد صلاحیتوں کے  باعث دنیا میں امن، آزادی، انسانی حقوق، جمہوریت اور عدل وانصاف کے آفاقی  اقدار کے حقیقی نمائندہ بن کر دنیا میں  ایک سچے پاکستانی کے طورپر پہچانے گئے۔

آپ نے 1946ء اور 1954ء سیکورٹی کونسل (اقوام  متحدہ)میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ جہاں  آپ نے ارض ِ مقدس فلسطین کے علاوہ  الجیریا، لیبیا، شمالی آئرلینڈ،  اریٹیریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس،  مالائی، مراکش، نائجیریا،  انڈونیشیااور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے  لیے بھرپور اُٹھائی۔ اقوام متحدہ میں  اکتوبر 1947ء کو سرمحمد ظفراللہ خان کی  تقریر کو مسلہ ْ فلسطین پر ایک بہترین  تقریر کہا جاتاہے۔ 8اکتوبر1948ء کو دہلی  کے ایک اخبارکے ادارتی کالم میں لکھا  گیاکہ اقوام ِ متحدہ کی فلسطین کمیٹی نے  پاکستانی وفد کی نمائندگی کرنے والے  سرمحمد ظفراللہ خان کی آزادی ْفلسطین کے  لیے نہایت توانا، مضبوط اور پُرجوش  آواز سُنی۔ جنہوں نے نہایت عرق ریزی،  مہارت سے فلسطین کے مسلے کو جغرافیائی  بنیادوں پر فور ی طور پر حل کرنے پر زور  دیا۔

5 مئی 1948ء کو شاہ فیصل السعود (جو اس وقت  سعودی عرب کے وزیر ِ خارجہ تھے) نے سر  ظفراللہ خان کی فلسطین کی آزادی کے لیے  کی گئی کوششوں پر انتہائی تہہ دل سے  شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ” فلسطین کے  لیے آپ کی اعلیٰ اصول پرستی، دیانت داری  اور شاندار سفارت کاری پرتمام عرب دنیا  اور دنیا بھر کا ہر ایک مسلمان آپ کی  کوششوں کا معترف و ممنون ہے۔ “۔ اسی طرح  سرمحمد ظفراللہ خان کی اقوام متحدہ میں  مسلہ ْفلسطین کو بہترین اندازمیں پیش  کرنے پر 10اکتوبر1985ء کواخبار”الصباح ”  میں عراق کے سابق وزیر خارجہ Mr. Fadhel Jamali  سرمحمد ظفراللہ خان کوزبر دست خراج ِ  عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “محمد  ظفراللہ خان کا فلسطین کے دفاع کرنے میں  ایک نہایت اعلیٰ اور ممتاز مقام ہے۔ ہم  تمام عرب اور اسلام کے پیروکاروں سے  توقع کرتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اپنے اس  عظیم مسلمان مجاہد کو فراموش نہیں کریں  گے۔ اس شخص کی فلسطین کے بعد لیبیا کی  آزادی کے لیے عظیم الشان خدمات داد و تحسین کے قابل ہیں۔ “

ایک موقع انہوں نے فلسطین کمیٹی کے  سامنے سوال پیش کیاتھاکہ جس طرح محض  مظالم ومصائب کا حوالہ دے کربے گھر  یہودیوں کی فلسطین میں آبادکاری کا  فیصلہ کیا گیاہے توپھر کیا تقسیم  ہندوستان کے دوران متاثرین ِ پنجاب کے  5ملین افراد کو ریاست ہائے امریکہ میں  بسانے کی اجازت دی جاسکتی ہے ؟کیا  امریکی ریاست 5ملین بے گھرافراد کو  امریکہ میں پناہ دینے پر رضامند ہوگی؟

6 مارچ 1948ء کو معروف صحافی وادیب خواجہ  حسن نظامی اقوام متحدہ میں مسلہ ْفلسطین  کے حل کے لیے سرمحمد ظفراللہ خان کی  شاندارسفارت کاری و قانون دانی کو خراجِ  تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “

“The fact of the matter is that Chaudhry Zafarullah Khan has done a job for which 80 crore Muslims of the World owe him a debt of gratitude. I never hesitate to mention this fact to all, the intelligentsia and the common people alike. Even in my speeches at big public gatherings. I freely express this view.”

 

چنانچہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اہل پاکستان نےمحض عقیدے کی  بناء پر اپنے اس جلیل القدر اور عظیم  رہنما کی صلاحیتوں کی اصل معنوں میں قدر  نہ کی۔ ان کو احمدی ہونے کی وجہ سے وہ  مقام نہ دیا جس کے وہ مستحق تھے۔ حالانکہ  یہ وہ وقت تھا جب تقسیم ہندبھی قائد اعظم  محمد علی جناح ؒ کے جنبش ِ قلم سے ہی ممکن  ہو سکی تھی یہی وہ وقت تھا جب اقوام متحدہ  کے قیام کو چند ہی سال گذرے تھے جس کے  ذیلی اداروں میں دنیا کے مسائل پر نہایت  دیانت داری اور استقلال سے بحث ومباحثہ  ہواکرتے تھے ان کے حل کے لیے دنیا بھر سے  اُٹھنی والی آواز پر توجہ دی جاتی تھی ۔ چنانچہ اقوام متحدہ میں مسلہ فلسطین کا  مقدمہ بھی بہترین قانون دانی، سفارت  کاری اور مسلم دنیا کی بھرپور حمایت و  تعاون کے ذریعے ہی جیتا جاسکتا  تھا۔ اگراُس وقت مسلم ممالک کے حکمران یک  جہتی اور ہم نوا ہوکرفلسطین کی آزادی کے  لیے کوشش کرتے اور عالمی برادری پر  بدستور دباؤ برقرار رکھتے تو ممکن ہے کہ  آج کرہ ْارض پر فلسطین ایک آزاد، کامیاب  اور پُرامن ریاست کے طور پر پہچانا جاتا ۔ لیکن صد افسوس اپنوں کی عدم توجہی،  انتشاراور عدم ِ دلچسپی کے باعث یہ مسلہ  آج بھی جو ں کا توں کاہے۔ آج فلسطین اور  کشمیر کی آزادی کے مسائل جسد ِ اُمت  مسلمہ اور ارض ِ پاکستان پر گہرے گھاؤ کی  صورت میں موجود ہیں جن کے زخم مندمل ہونے  کا نام نہیں لے رہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے  کہ ہم نے خود ہی اپنی جہالت تعصّب اور  ناانصافی سے دیگر مشکلات کی طرح مسائل ِ  فلسطین وکشمیر کو مزید پسماندگی کی گہری  دلدل میں دھکیل دیاہے۔ اتحاد و یگانگت،  اخوت اور علم و آگہی کو خیر باد کہہ کر  فساد فی الارض کی روش اپنا رکھی ہے۔ انتشار اور دھڑا بندی کو فروغ دے کر  دنیا کے امن کو برباد کرنے والوں کے  حمایتی و مددگار بن چکے ہیں۔ کہاوت ہے  کہ” غریب قوم وہ نہیں جس کے پاس ہیرو نہیں  ہوتے بلکہ غریب قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے ہیروز کو بُھلا دیتی ہے۔”


Comments

FB Login Required - comments