تحقیق کرنے کا درست طریقہ


\"lubnaایک شرارتی بچہ نارمل شرارتیں‌ کرنے میں‌ مشغول تھا۔ اس کو سزا ملتی ہے کہ جاؤ کونے میں‌ کھڑے ہو جاؤ۔ وہ پھر سے گول گول گھوم کر کھیل کود میں‌ لگا رہتا ہے۔ دوبارہ سزا ملتی ہے کہ کونے میں‌ کھڑے کیوں‌ نہیں‌ ہوئے۔ ایس کئی بار ہوا۔ پھر وہ بچہ اپنی آنکھوں‌ میں‌ آنسوؤں‌ کے ساتھ پوچھتا ہے کہ کونا کیا ہے؟

جو حقیقت اور خیالی دنیا کو ملانے سے ہماری سمجھ اور حقیقی دنیا کے بیچ ایک بڑی خلیج بن گئی ہے اس کے دونوں‌ طرف کے لوگ ایک دوسرے کی بات نہیں‌ سمجھ پا رہے ہیں۔ اس لئیے پہلی اینٹ سے عمارت کو سمجھانا ہوگا۔ اس تحریر کا مقصد ہے کہ معلومات کے منبع کو سمجھا جائے یعنی کہ اگر کوئی ایک بیان دیتا ہے کہ جیسے \”آسمان نیلا ہے\” یا پانی کے مالیکیول میں‌ دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن کا مالیکیول ہے\” تو یہ معلومات کیسے حاصل کی گئیں اور کیا دنیا میں‌ ہر جگہ تجربہ کرنے سے یہی معلومات حاصل ہوں‌گی؟ ڈیٹا، نئے پروسیجر، دوائیاں‌ اور وقت تبدیل ہونے سے نتائج کس طرح‌ مختلف نکلتے ہیں؟

ریسرچ کیسے کی جاتی ہے وہ ہر سبجیکٹ میں‌ مختلف ہے۔ کیمسٹری میں‌ مختلف عناصر لیبارٹری میں‌ ملا کر تجربے کئیے جاتے ہیں۔ اناٹومی میں‌ مردے کاٹ کر ان کے اندر دیکھا جاتا ہے، ہسٹالوجی میں‌ مائکرواسکوپ سے تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ کچھ معلومات مشاہدے کا نتیجہ ہوتی ہے اور کچھ تجربے کا۔ اگر ہم یہ جاننا چاہیں‌ کہ ایک گاڑی کن چیزوں‌ سے مل کر بنی ہے لیکن ہمارے پاس ایسے کوئی آلے نہ ہوں‌ جن سے اس کے حصے الگ الگ کئیے جائیں‌ تو اس کو کیسے سیکھیں‌۔ دو گاڑیاں‌ نہایت تیزی سے چلا کر ایک دوسرے سے ٹکرائیں‌ تو وہ پرزہ پرزہ ہوکر بکھر جائیں‌ گی اور پھر ہم جان سکیں‌ گے کہ وہ کن چیزوں‌ سے بنی تھیں۔ پروٹان کو فزکس میں‌ سمجھنے کے لئیے اسی طریقے سے آپس میں‌ ٹکرایا جاتا ہے۔

جب کوئی کہتا ہے کہ یہ تجربہ راکٹ سائنس نہیں‌ یہ بتانے کے لئیے کہ یہ مشکل نہیں‌ تو راکٹ سائنس بھی کوئی ایسی مشکل سائنس تو ہے نہیں‌۔ دیکھیں‌، چھوئیں، تجربہ کریں‌ اور سائنس سمجھ آ جائے گی۔ سائنس ہے ہی سمجھ کا نام۔ جس چیز کو ایک انسان سمجھ سکتا ہے اس کو اور انسان بھی سمجھ سکتے ہیں۔ سب انسان ہی ہیں۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب یو ایس ایم ایل ای کرنے کے لئیے بائیو اسٹیٹ پڑھنا شروع کی تو ایک بار ایک لیکچر سنا۔ وہ میرے سر کے دو فٹ اوپر سے گذر گیا، پھر دوبارہ سنا، وہ پھر میرے سر پر سے گذر گیا۔ تیسری بار سننے کے بعد کچھ کچھ سمجھ میں‌ آنا شروع ہوا۔ ہمارے دماغ میں‌ کچھ بھی سیکھ لینے کی صلاحیت ہے۔ آپ اس کو چانس دیں۔ جو بات سمجھ میں‌ نہیں‌ آرہی اس کو بار بار سنیں اور سوال بھی کریں‌ تو آجائے گی۔

میں‌ صرف اس ریسرچ کا یہاں‌ ذکر کروں‌ گی جس کا ہم خود حصہ ہیں۔ وہ ہے کلینکل ریسرچ۔ اس کی بھی کئی شاخیں ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نئی دواؤں کے مریضوں‌ پر تجربے کیسے کئیے جاتے ہیں۔ یہ شعبہ بھی کافی وسیع ہے اور اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ آج تک کے انسان ہمارے لئے جو بھی معلومات چھوڑ گئے ہیں‌ ان کے اوپر اور بڑی عمارت بنانی ہے۔ دنیا کی تاریخ‌ میں‌ فرشتے نہیں‌ گذرے ہیں۔ ہم سے پہلے لوگوں‌ نے غلطیاں کیں‌ اور ہمیں‌ ان غلطیوں‌ سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔ ریسرچ کی دنیا میں‌ بنائے ہوئے قوانین اور اصول اسی لئیے ہیں‌ کہ ماضی کی طرح‌ انسانوں‌ کا استحصال ہونے سے بچایا جائے۔ اس استحصال کی کئی مثالیں‌ ہیں‌ لیکن یہاں‌ صرف ایک کا ذکر کروں‌ گی وہ ہے ٹسکیگی سفلس ٹرائل جو کہ بیماری کے شکار افراد کا مشاہدہ کرنے والی ریسرچ تھی۔ یہ تحقیق ساؤتھ کے غریب کالے مریضوں‌ پر کی گئی جن کو سفلس کا مرض لاحق تھا۔ یہ افسوسناک بات ہے کہ ان لوگوں‌ کو علاج ہوتے ہوئے بھی فراہم نہیں‌ کیا گیا اور یہ اسٹڈی 75 سال تک چلی۔ صدر بل کلنٹن نے اس کے لئیے باقاعدہ عوام سے معافی طلب کی۔ اگر کوئی بھی ٹسکیگی سفلس ٹرائل کی تفصیلات پڑھنا چاہے تو کتاب کا نام \”بیڈ بلڈ\” ہے۔ ان سے جھوٹ بولا گیا کہ ہم آپ کی کمر میں‌ دوا دے رہے ہیں‌ اور صرف لمبر پنکچر سے سیمپل لئیے گئے تاکہ ان کا مطالعہ کیا جاسکے۔ ریسرچ کی تاریخ‌ کو دیکھیں‌ تو یہ بات سمجھنا قطعاً مشکل نہیں‌ کہ تحقیق دانوں‌ کو عام لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اب بھی کافی لوگ ہیں‌ امریکہ میں‌ جو سمجھتے ہیں‌ کہ ایچ آئی وی گوروں‌ نے کالوں‌ کی نسل کشی کے لئیے ایجاد کی تھی۔ اور میں‌ نے یہ بھی سنا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں‌ کہ پولیو کی ویکسین سے بچے ہونا بند ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم اپنی تعلیم میں‌ اضافہ کریں‌ تو حقیقت ہمیں‌ کچھ سمجھ میں‌ آئے گی۔ اب بھلا پولیو ویکسین سے بچے ہونا کیسے بند ہوسکتے ہیں؟ یہ دونوں‌ نظام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ تو ایسے ہوا کہ جیسے میں‌ کہوں‌ کہ امریکہ میں‌ کسی‌ نے فٹ بال کھیلی تو نیپال میں‌ کسی کو بخار ہو گیا۔

آج کل ایک دوا کو مارکیٹ میں لانے پر ون پوائنٹ ٹو بلین ڈالر اور اوسطاً 14 سال صرف ہوتے ہیں۔ ایک دوا کو فارمیسی کی شیلف تک لانے پر ہزاروں‌لوگوں‌ نے مل کر کام کیا ہوتا ہے جس کا ہم خود ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک گاڑی ہزاروں‌ پرزوں‌ سے مل کر بنتی ہے۔

ویک اینڈ پر ایک نئی دوا کی ریسرچ کانفرنس تھی جس میں‌ میرے علاوہ تمام امریکہ سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ یہ سارے لوگ مل کر صرف ایک دوا پر کام کررہے ہیں۔ وہاں‌ جانے سے ایک دن پہلے میں‌ نے پروٹوکول کھول کر پڑھا تاکہ کانفرنس میں‌ جو بتایا جائے گا وہ کچھ اچھی طرح‌ سمجھ میں‌ آئے گا اور میں‌ سوال بھی بہتر کرسکوں‌ گی۔ ائر پورٹ پر اور جہاز میں‌ بیٹھے بیٹھے میں‌ نے اس کے سائنسی حصے کو پڑھا۔ پروٹوکول کے 70 صفحے تھے۔ وہ انتہائی دلچسپ ایک بالکل نئی دوائی پر ہے۔ جس مسئلے کی اس میں‌ نشاندہی کی گئی تھی وہ ہر اس ڈاکٹر کو پتا ہوگی جو ذیابیطس کا علاج کرتے ہوں یعنی شوگر انتہائی کم ہو جانا اور انتہائی زیادہ ہوجانا۔ 1921 سے پہلے انسولین مہیا نہیں‌ تھی اور ٹائپ ون ذیابیطس کے مریض 12 مہینے میں‌ مر جاتے تھے۔ شروع میں‌ انسولین جانوروں سے نکالی جاتی تھی پھر اس کی بہتر اقسام بنالی گئیں۔ آج کل جو انسولین دستیاب ہیں‌ ان سے ان مریضوں‌ کا بہتر علاج ممکن ہے۔

میں‌خود ان سائنسدان ڈاکٹر سے ملی جنہوں‌ نے یہ نئی دوا دریافت کی اور ان سے پوچھا کہ انہوں‌ نے اس دوا کے بارے میں‌ کیسے سوچا۔ وہ کافی بوڑھے ہیں۔ انہوں‌ نے بتایا کہ 1930 اور 1940 کی دہائیوں‌ میں‌ جو ڈاکٹر ان کے ساتھ کام کر رہے تھے جو کہ اب سارے مر چکے ہیں‌ انہوں‌ نے یہ مشاہدہ کیا تھا کہ نارمل فزیالوجی میں‌ اور ٹیکے لگا کر دی ہوئی انسولین کی جسم میں‌ فراہمی میں‌ ‌فرق ہے اور اس کو نارمل کے قریب کر دینے سے ذیابیطس کا بہتر علاج ممکن ہے۔ نئی نینو ٹیکنالوجی کی وجہ سے ممکن ہوا کہ پرانی معلومات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

سونا چمکتا ہے اور اس کو مائکرواسکوپ میں‌ دیکھنا آسان ہے۔ پہلے مشاہدہ کیا گیا، پھر اس پر تجربات کئے گئے۔ وہ اس طرح‌ کہ دواؤں کے ساتھ سونا ملا دیا اور پھر جب وہ سارے جسم میں‌ پھیل گئی تو پھر ان چوہوں‌ کے جگر، پٹھوں‌ اور چربی کے زخائر کو مائکرواسکوپ سے دیکھا گیا کہ وہ دوا کہاں‌ پہنچی۔ اگر سوچا جائے تو سونے کو زمین میں‌ دبا کر اس پر بیٹھے رہنے سے یہ اس کا کتنا اچھا استعمال ہے۔

جب کتوں‌اور چوہوں‌ پر سینکڑوں‌ بار دہرا کر یہ ثابت کیا گیا کہ دوا کسی عضو کے لئیے زہریلی نہیں‌ ہے تو پھر اس کو فیز ون میں‌ صحت مند انسانوں‌ میں‌ آزمایا گیا۔ ان سے بھی اچھے نتائج سامنے آئے تو اب سارے امریکہ میں سے ڈاکٹر چن کر ان کے ساتھ مریضوں میں‌ اس دوا کو پھر سے آزمایا جائے گا۔ اس کا بھی ایک ایک قدم پہلے سے لکھا گیا ہے۔ یہ مرحلہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے سامنے اپنا سارا ڈیٹا پیش کرنے کے بعد ان کی اجازت حاصل کرکے ہی شروع کیا جا سکتا ہے۔ آپ کے ریسرچ سینٹر پر کبھی بھی وہ لوگ آڈٹ کرنے پہنچ سکتے ہیں کہ آپ کام ٹھیک سے کر رہے ہیں‌اور ریکارڈ صحیح‌ رکھ رہے ہیں ‌یا نہیں۔ پروٹوکول بنا کر رویو بورڈ کو دیا جاتا ہے جو اس بات کی جانچ پڑتال کرتے ہیں‌ کہ اس میں‌ حصہ لینے سے مریضوں‌ کو نقصان ہونے کا اندیشہ کم سے کم ہو۔ اگر پروٹوکول میں ‌کچھ تبدیلی کرنا ہو تو اس کی پہلے سے اجازت لینی پڑتی ہے ورنہ آپ کی اسٹڈی کینسل ہو جائے گی۔

اس نئی دوا کو جانچنے کے لئے ٹرائل میں‌ حصہ لینے والے مریضوں‌ کا تفصیلی معائنہ ہوگا، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دوا لینے والے مریضوں‌ میں‌ اور پلاسیبو پانی لینے والے مریضوں‌ میں‌ کچھ فرق نہ ہو۔ اس اسٹڈی میں‌ نہ تو مجھے معلوم ہوگا کہ کس مریض کو دو ملی اور کس کو پلاسیبو اور نہ ہی مریضوں‌ کو یہ بات پتہ ہو گی۔ ان کو کمپیوٹر کے ذریعے دو گروپس میں‌ تقسیم کیا جائے گا۔ اس طریقے سے ریسرچ میں‌ سے تعصب نکالا جاتا ہے جس کو انویسٹیگیٹر بایس کہتے ہیں۔ اگر میں‌ ایک دوا ایجاد کروں‌ اور مجھے یقین ہو کہ وہ کام کرتی ہے تو میں‌ اپنے مریضوں‌ میں‌ یہی دیکھنا چاہوں‌ گی جس کی وجہ سے میں‌ خود ایسے نتائج پر پہنچ سکتی ہوں‌ جو اصل میں‌ سچ نہ ہوں۔ بالکل اسی طرح‌ جب ایک مریض کو پتہ ہو کہ اس کو دوا ملی ہے پانی نہیں‌ تو وہ بلاوجہ ہی بہتر محسوس کریں گے جس کو پلاسیبو ایفکٹ کہتے ہیں۔

ان سب مریضوں‌ کو ایک جیسا گلوکوز ناپنے کا آلہ دیا جائے گا، ان سب کے خون کے سیمپل ایک ہی لیب کو بھیجے جائیں گے۔ سب کا شروع میں‌ اور آخر میں ایم آر آئی کرکے یہ دیکھا جائے گا کہ کہیں‌ اس دوا سے ان کے جسم کے کسی حصے کو نقصان تو نہیں‌ ہوا۔

اس ایک دوا کی ریسرچ میں‌ ہزاروں‌ لوگ حصہ لے رہے ہیں جن میں‌ ڈاکٹر، انجینئر، نرسیں ، ڈیٹا جمع کرنے والے لوگ، فارماسسٹ، سائنسدان، پیتھالوجسٹ، ریڈیالوجسٹ، بزنس مینجمنٹ، لیبارٹری ورکرز ، الیکٹرونک میڈیکل ریکارڈ اور آئی ٹی شامل ہیں۔ ان سب لوگوں کے پاس اپنی اپنی فیلڈ کا لائسنس ہونا لازمی ہے۔ اسٹڈی کو ایک مانیٹرنگ کمپنی بھی مستقل مانیٹر کرے گی۔ وہ لوگ ہمارے کلینک میں‌ بھی چکر لگا کر گئے کہ کلینک اصلی ہے یا کاغذ پر بنا ہوا ہے۔

اس تحقیق پر بہت سارا پیسہ خرچ ہورہا ہے۔ اس میں‌ کام کرنے والے سب لوگوں‌ کو تنخواہ مل رہی ہے۔ یہ نہیں‌ کہا جارہا ہے کہ یہ تو خدمت خلق کا کام ہے آپ سب لوگ فری میں‌ کام کریں۔ نارمل انسانی اور خاندانی ضروریات کو سمجھا گیا ہے۔ ریسرچ میں‌ پیسہ کہاں‌ سے آتا ہے؟ وہ حکومت کی دی ہوئی گرانٹس سے اور پرائیوٹ چندے اور انوسٹمنٹ سے آتا ہے۔ اگر دوا ابتدائی مرحلوں‌ میں‌ فائدہ دکھائے تو اس کی کمپنی بنا سکتے ہیں‌ جس کے عام افراد شئر ہولڈر بن جائیں۔ پھر جب اس دوا سے منافع ہو گا تو جنہوں‌ نے اس میں‌ پیسے لگائے ان کو بھی منافع ملے گا۔ سب کچھ ڈوب بھی سکتا ہے۔ بہت ساری دواؤں‌ پر ریسرچ کی جاتی ہے لیکن وہ سب کامیاب نہیں‌ ہوتیں۔

اب میں‌ آپ کو ایک مثال دیتی ہوں‌ روایتی میڈیکل نصیحت کی۔ یہ کسی صاحب نے میرے بلاگ پر کمنٹس میں‌ پوسٹ کی تھی۔ اس کو میں‌ نے اس لئیے اپروو نہیں‌ کیا تھا کیونکہ میں‌ نہیں‌ چاہتی تھی کہ لوگوں‌ کو الٹی سیدھی نصیحت میرے بلاگ پر دی جائے۔

—-

\”اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کی دوا پیدا نہ فرمائی ہو البتہ موت کا کوئی علاج نہیں!

ذیا بیطس کا غذائی پرہیز ہی واحد علاج ہے۔ جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہےاور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔ جو دیسی،قدرتی ،یونانی علاج سے بھی ممکن ہے۔درج ذیل تدابیر سےشوگر لیول کنٹرول اور مرض کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

1۔۔۔ ہوا لشافی: گٹھلی جامن خشک 100گرام کوٹ چھان کرسفوف(پاؤڈر)بنالیں اور5 گرام سفوف پانی کےساتھ دن میں دو بارصبح نہار منہ اور شام 5 بجےلیں۔

2 ۔۔۔ ہوالشافی: نیم کی کونپلیں 5 گرام پانی 50 ملی لیٹر میں پیس چھان کر صبح نہار منہ یا ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں۔

3 ۔۔۔ ہوالشافی: کریلہ کو کچل کر اسکا رس نچوڑ لیں یا جوسر میں اسکا جوس نکال لیں 25 ملی گرام یہ رس صبح و شام لیں۔

4 ۔۔۔ ہوالشافی: چنے کے آٹے(بیسن) کی روٹی اس مرض میں بہت مفید ہے۔

5۔۔۔ ہوالشافی: لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں۔انشاء اللہ چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔

نشاستہ دار غذا ۔آلو ،چاول،چینی وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔

شوگر کا حتمی علاج موجود ھے، خود میری والدہ ماجدہ کو کئی سال سے یہ مہلک مرض لاحق تھا صرف چند دن علاج کے بعد اب الحمد للہ بالکل نارمل ھے و اذا مرضت فھو یشفین

شوگر کے لیےھم کیپسول دیتے ہیں جنہیں لگاتار استعمال کراتے ہیں،یا پھر مریض کی حالت کے مطابق دوا تجویز کرتے ہیں، شوگر ایک یا دو دن میں ہی نارمل ہو جاتی ھے اکثر مریض صرف 2 ماہ کے یا اس سے بھی کم علاج سے ہی شفا یاب ہو جاتے ھیں جب کہ بہت کم مریضوں کا علاج تیسرے ماہ تک چلتا ہے

جو ہمارے پاس کورس ہے اس کی قیمت 15000 ہے جس سے انشاءاللہ خدا کے فضل سے شوگر جیسی موزی مرض ختم ہو جائے گی۔\”

ان ہدایات کے لئیے میرے ذہن میں‌ سوالیہ نشان ہے۔ یہ بھی نہیں‌ کہہ سکتے کہ فائدہ نہیں‌ ہوگا کیونکہ میں‌ نےتجربے سے اس بات کو ثابت نہیں‌ کیا کہ اس مشورے سے فائدہ نہیں‌ ہوگا اور فائدہ ہو گا یہ بات ان علاج بتانے والے صاحب نے ثابت نہیں‌ کی۔

اب آپ اس نصیحت کا تنقیدی جائزہ لیں۔ پہلے سطر پر غور کریں۔ کچھ بیماریاں میڈیکل نہیں‌ بلکہ سرجیکل ہوتی ہیں اور ان کا دوا سے علاج نہیں‌ ہوسکتا۔ غذائی علاج ذیابیطس کے علاج کا نہایت اہم حصہ ہے لیکن یہ اس کا واحد علاج نہیں ہے۔ انسولین اور دیگر کئی مختلف طرح‌ کی دوائیں‌ آجکل مارکیٹ‌میں‌ ذیابیطس کے علاج کے لئیے باآسانی دستیاب ہیں۔ انہوں‌ نے اپنی امی کی مثال دی ہے جنہیں‌ کئی سالوں‌ سے ذیابیطس تھی تو پہلے علاج کیوں‌ نہیں کیا۔ اور چند دن میں‌ ہی اس کو ٹھیک کردینا ایک بہت بڑا دعویٰ‌ہے۔ ہتھیلی پر سرسوں‌ نہیں‌ اگا سکتے ہیں۔ ٹھیک سے کام کرنے میں‌ ٹائم لگتا ہے۔ پہلے انہوں‌ نے کہا کہ غذائی علاج ہی واحد علاج ہے پھر وہ آپ سے کہہ رہے ہیں‌ کہ ان کی دوا آپ خریدیں۔ پہلے کہہ رہے ہیں‌ کہ جدید میڈیکل سائنس تک ذیابیطس کا حتمی علاج نہیں‌ کر سکتی پھر آپ کو وہ بتا رہے ہیں کہ ان کی دوا سے آپ کو چند دنوں‌میں‌ شفا مل جائے گی۔ اس نصیحت میں‌ کتنا وزن ہے؟

میں‌ اپنے تجربے اور تعلیم کی بنیاد پر یہ ضرور کہہ سکتی ہوں‌ کہ یہ نصیحت ہر کسی کو فائدہ نہیں‌ دے گی کیونکہ ذیابیطس کا ہر مریض دوسرے مریض سے مختلف ہے اور ایک ہی ذیابیطس کے مریض‌ کا علاج بھی وقت کے ساتھ ساتھ اور ان کی انفرادی سچوئیشن کے لحاظ سے بدلتا رہے گا۔

اگر آپ کو کوئی مشورہ دے تو ان سے پوچھیں ‌کہ اس معلومات کا منبع کیا ہے؟ ان معلومات کی بنیاد کیا ہے؟ تہذیب، اعتقادات، ثقافت، قدیم روایات یا نسل در نسل چلتی پریکٹس؟

میرے نانا کہتے تھے کہ بادام کھانے سے دماغ تیز ہوجاتا ہے۔ مجھے اپنے نانا سے محبت ہے آپ کو بھی ہو گی۔ اب اگر میں‌ نانا کی نصیحت کو اصلی کلینک میں‌ آزمانا چاہوں‌ تو اس اوپر دئیے گئے پروٹوکول کی طرح‌ 70 صفحے کی دستاویز بنانا پڑے گی۔ پھر کیپسول بنانے ہوں‌ گے جن میں‌ یا تو بادام پیس کر ڈالا ہو یا کوئی اور پاؤڈر جو دیکھنے میں‌ ایک جیسے لگیں۔ پھر ان کو ایک ہی طرح ‌کے مریضوں‌ میں‌ ٹرائی کرنا ہوگا۔ اس کے بعد جو بھی نتائج نکلیں‌ ان کو قبول کرنا ہوگا۔ اگر میں‌ غصہ کروں‌ کہ میرے نانا تو غلط ہو ہی نہیں‌ سکتے اور یہ اسٹڈی غلط ہو گی تو اس کا مطلب ہے کہ میں‌ نے سچائی جاننے کے لئے نہیں‌ بلکہ اپنے نانا کو اپنے جذبات کی وجہ سے درست ثابت کرنے کے لئیے یہ ریسرچ کی تھی۔ اگر نانا کو صحیح‌ہی ثابت کرنا ہے تو ان کو ویسے ہی صحیح کہہ دیتے ہیں، اتنا لمبا چوڑا تردد کرکے اتنے لوگوں‌ کی اتنی محنت، وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی کیا تک ہے؟

 


Comments

FB Login Required - comments